Search | تلاش
Archives
TaemeerNews Rate Card

Ads 468x60px

Our Sponsor: Socio Reforms Society India

تعمیر نیوز آرکائیو - TaemeerNews Archive

2016-08-25 - بوقت: 01:07

اسکارپین آبدوز سے متعلق اہم دستاویزات کا افشا

Comments : 0
نئی دہلی
آئی اے این ایس
ہندوستان کی اسکارپین آبدوز کے لڑاکا اور راڈار سے بچنے کے پہلوؤں سے متعلق حساس جانکاری کے مبینہ افشاء پر وزیر دفاع منوہر پاریکر نے چہار شنبہ کے دن بحریہ سے رپورٹ طلب کی ۔ انہوں نے کہا کہ یہ ہیکنگ کا معاملہ لگتا ہے۔ ہندوستانی بحریہ نے اسی دوران اپنے بیان میں کہا ہے کہ وہ جانکاری کا تجزیہ کررہی ہے ۔ بحریہ نے واضح بھی کردیا کہ افشاء ہندوستان میں نہیں ہوا ہے۔ اسکارپین آبدوز فرانسیسی جہاز ساز کمپنی ڈی سی این ایس نے ڈیزائن کی ہے اوریہ ممبئی میں مچگاؤں ڈاک یارڈ میںتقریبا3.5بلین امریکی ڈالر کی لاگت سے تیار کی جارہی ہے۔ یہ ڈیزل سے چلنے والا روایتی بحری جہاز ہے جو راڈار کی نظر سے محفوظ رہنے کی عصری صلاحیتوں سے لیس ہے۔ ڈی سی این ایس سے بائیس ہزار سے زائد صفحات کا افشا ہوا ہے جن میںآبدوز کے مختلف پہلوؤں بشمول زیر آب سنسرس، لڑاکا مینجمنٹ سسٹم، لانچ سسٹم اور مواصلاتی نظام سے متعلق جانکاری موجود ہے۔ جس جانکاری کا افشاء ہوا ہے اس کا تجزیہ کیاجارہا ہے تاکہ یہ پتہ چلے کہ نقصان کس حد تک ہوا ہے ۔ اندیشہ ہے کہ اس سے آبدوز کا پتہ چلانا آسان ہوجائے گا جب کہ پوشیدہ رہنا یا راڈار کی نظر سے بچے رہنے اس آبدوز کی سب سے اہم خاصیت بتائی جاتی ہے ۔ منوہر پاریکر نے نئی دہلی میں اخباریی نمائندوں سے کہا کہ پہلے پتہ چلانا ہوگا کہ آیا یہ معاملہ ہم سے متعلق ہے یا نہیں۔ بحریہ کے سربراہ [اڈ میرل سنیل لامبا] سے کہا گیا ہے کہ وہ تجزیہ کریں کہ کس چیز کا افشاء ہوا ہے۔ابتدائی اندازہ یہ ہے کہ یہ ہیکنگ کا معاملہ ہے اور سو فیصد افشاء نہیں۔ وزیر دفاع نے کہا کہ مجھے تقریبا بارہ بجے اس کا پتہ چلا کہ ہیکنگ ہوئی ہے۔ ہم تمام پہلوؤں کی جانچ کریں گے۔ شاید دو دن میں مین آپ کو کچھ بتا پاؤں گا۔ پاریکر کے یہ کہنے کے کچھ دیر بعد ہندوستانی بحریہ نے بیان جاری کیا اور زور دے کر کہا کہ افشاء ہندوستان میں نہیں ہواہے۔ دستیا ب جانکاری کی انٹیگریٹیڈ ہیڈ کوارٹرس، وزارت دفاع بحریہ میں جانچ ہورہی ہے۔ متعلقہ ماہرین تجزیہ کررہے ہیں ۔ ایسا لگتا ہے کہ افشاء سمندر پار ہوا ہے ، ہندوستان میں نہیں۔ آسٹریلیائی میڈیا کی اطلاعات میں ڈی سی این ایس کے حوالہ سے کہا گیا کہ ایسے ٹیکنیکل ڈاٹا کا افشاء آسٹریلیا کے لئے مجوزہ آبدوز کے تعلق سے نہیں ہوسکتا۔ فرانسیسی کمپنی نے یہ بھی کہا کہ افشاء ہندوستان میں ہوا ہوگا، فرانس میں نہیں۔ ہندوستان کے معاملہ میں ڈی سی این ایس کا ڈیزائن ایک مقامی کمپنی تیار کررہی ہے۔ ڈی سی این ایس پرووائیڈر ہے، ٹیکنیکل ڈاٹا کی کنٹرولرنہیں۔ اسکارپین درجہ کی پہلی آبدوز آئی اے این ایس کلوری ہندوستان میںتیار ہورہی ہے۔ سمندر میں اس کی جانچ مئی 2016میں ہوئی اور توقع ہے کہ اسے بہت جلد ہندوستانی بحریہ کے بیڑہ میں شامل کردیاجائے گا۔ اسکارپین آبدوز کے دوسرے ماڈل ملایشیا اورر چلی میں بھی استعمال ہوتے ہیں۔ برازیل اس کلب میںعنقریب شامل ہونے والا ہے۔ پی ٹی آئی کے بموجب ہندوستان کے زائد از3.5بلین امریکی ڈالر کے اسکارپین سب میرین پراجکٹ کی فنی تفصیلات سے متعلق حساس دستاویز کا افشاء ہوا ہے۔ وزیر دفاع منوہر پاریکر نے بحریہ کے سربراہ سے رپورٹ طلب کرلی ۔ ڈی سی این ایس کا ، جوڈاٹا افشا ء ہوا ہے وہ22400صفحات پر مشتمل ہے۔ اس میںیہ جانکاری شامل ہے کہ آبدوز کا عملہ دشمن کی نظر سے محفوظ رہتے ہوئے کہاں بات چیت کرسکتا ہے۔ اس میں رفتار کی تفصیلات بھی درج ہیں۔ منوہر پاریکر نے کہا کہ میں نے بحریہ کے سربراہ سے کہہ دیا ہے کہ وہ پورے مسئلہ کا جائزہ لیں۔ مجھے تقریبا بارہ بجے اس کا پتہ چلا۔ جہاں تک مجھے سمجھ میں آیا ہے یہ ہیکنگ کا معاملہ ہے ۔ وزیر دفاع نے کہا کہ وہ نہیں مانتے کہ سو فیصد افشاء ہوا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ دو دن میں تصویر واضح ہوجائے گی۔ اس افشاء نے آسٹریلیا کو اندیشوں میں مبتلا کردیا ہے کیونکہ فرنچ کمپنی کو آسٹریلیا کے نئے آبدوز بیڑہ کے ڈیزائن کا ٹھیکہ دیا گیا ہے جو پچاس بلین آسٹریلیائی ڈالر کا ہے ۔

Scorpene submarine data leak: Security implications for India

0 comments:

Post a Comment