Search | تلاش
Archives
TaemeerNews Rate Card

Ads 468x60px

Our Sponsor: Socio Reforms Society India

تعمیر نیوز آرکائیو - TaemeerNews Archive

2016-08-16 - بوقت: 23:00

ملک میں سماجی ہم آہنگی پر زور - وزیر اعظم مودی کا یوم آزادی خطاب

Comments : 0
نئی دہلی
آئی اے این ایس
وزیر اعظم نریندر مودی پیر کے دن بلو چسان اور پاکستانی مقبوضہ کشمیر کے لئے آزادی کی تائید میں کھل کر سامنے آگئے۔انہوں نے ہندوستان میں سماجی ہم آہنگی کی ضرورت پر زور دیا۔ لال قلعہ کی فصیل سے زائد از 90منٹ کی یوم آزادی تقریر میں وزیر اعظم مودی نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ان کی حکومت کا اصل مقصد عام ہندوستانی کو با اختیار بنانا ہے ۔ 15اگست کے خطاب میں ہندوستان کے کسی وزیر اعظم نے پہلی مرتبہ بلو چستان اور کشمیر کے پاکستان کے زیر کنٹرول حصہ میں انسانی حقوق کی پامالیوں کا حوالہ دیا ۔ انہوں نے کہ اکہ دنیا دیکھ رہی ہے ۔ بلو چستان، گلگت، بلتستان اور مقبوضہ کشمیر کے عوام نے گزشتہ چند دن میں میرا بے حد شکریہ ادا کیا ہے۔ میں ان کا مشکور ہوں ۔ وہ گزشتہ ہفتہ اپنے اس تبصرہ کا حوالہ دے رہے تھے جو انہوں نے پاکستان کے سب سے بڑے صوبہ اور اس کے زیر کنٹرول کشمیر میں زیادیتوں پر کیا تھا ۔ مودی نے کہا کہ وزیر اعظم ہند کا شکریہ ادا کرتے ہوئے پڑوسی ملک کے عوام نے میرے ملک کی پوری آبادی کا شکریہ ادا کیا ہے ۔ مودی نے گزشتہ ہفتہ کشمیر پر کل جماعتی اجلاس میں کہا تھا کہ وقت آگیاہے کہ اسلام آباد، پاکستانی مقبوضہ کشمیر اور بلو چستان میں اس کے اپنے عوام پر کی جانے والی زیادتیوں پر دنیا سے وضاحت کرے۔ پیر کے دن بھی مودی نے دہشت گردی کی تائید کے لئے پاکستان کو نشانہ تنقید بنایا اور کہا کہ پشاور میں جب دہشت گردوں نے اسکولی بچوں کا قتل عام کیا تھا تو ہندوستانیوں کو بڑا دکھ ہوا تھا ۔ یہ ہندوستان کی فطرت ہے لیکن دسری جانب انہیں دیکھئے جو دہشت گردوں کو شہید قرار دے رہے ہیں ۔ لال قلعہ کی فصیل سے مودی کی یہ تیسری تقریر وادی کشمیر میں جاری تشدد کے پس منظر میں ہوئی ہے ، جہاں56جانیں جاچکی ہیں ۔ انہوں نے کشمیر کا حوالہ نہیں دیا اور لیکن ملک کے اتحاد کو درہم برہم کرنے والوں کو خبر دار ضرور کیا ۔ وزیر اعظم نے کہا کہ ہمارے ملک میں تشدد کے لئے کوئی جگہ نہیں ۔ جنگلاتی علاقوں میں ماؤزم کے نام پر اور سرحدوں پر دہشت گردی کے نام پر تشدد برپا ہے ۔ وہ ملک کے وسطی اور مشرقی حصہ میں ماؤ شورش پسندی اور جموں و کشمیر شمال مشرق میں عسکریت پسندی کا حوالہ دے رہے تھے ۔ انہوں نے کہا کہ ان سبھی سے جو بے قصور لوگوں کو ہلاک کررہے ہیں ، میرا کہنا ہے کہ یہ ملک دہشت گردی اور عسکریت پسندی برداشت نہیں کرے گا۔ قومی دھارے میں چلے آئیے ۔ انہوں نے ہندوستان کی ترقی میں حائل بعض رکاوٹوں کی وضاحت کی ۔ انہوں نے عوام سے خواہش کی کہ وہ سماجی ہم آہنگی کو مستحکم کریں ۔ ہر شہری کو ذات پات اور طبقہ کی بنیاد پر سماج میں پائی جانے والی اونچ نیچ سے لڑنا چاہئے ۔ سماجی ہم آہنگی اور اتحاد کے بغیر ترقی نہیں ہوگی ۔ صرف معاشی ترقی سے مدد ملنے والی نہیں ۔ مودی نے کہا کہ ان کی حکومت کا مقصد معاشی ترقی کے ثمرات آخری ہندوستانی تک پہچانا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ وہ حکمرانی میں کھلے پن کو بڑھاوا دے رہے ہٰں ۔ عام آدمی کی زندگی آسان بنانے گزشتہ دو برس میں کئے گئے اقدامات کا ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے مہنگائی پر قابو پایا ہے اور دو سال کی خشک سالی کے باوجود اسے چھ فیصد سے بڑھنے نہیں دیا۔ پی ٹی آئی کے بموجب وزیر اعظم نے کہا کہ ہندوستان دہشت گردی کے آگے نہیں جھکے گا ۔ انہوں نے تشدد کی راہ اختیار کرنے والے نوجوانوں سے کہا کہ وہ قومی دھارا میں شامل ہوجائیں ۔ سخت سیکوریٹی میں لال قلعہ کی فصیل سے اپنی93 منٹ کی تقریر میں وزیراعظم نے بین الاقوامی برادری سے اپیل کی کہ وہ ایک دسرے کے ملک پر دہشت گرد حملوں کے تناظر میں ہندوستان اور پاکستان کے رویہ کا تقابل کریں ۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ ملک کی ترقی کے لئے سماجی ہم آہنگی اہم ہے۔ یو پی اے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پچھلی حکومت الزامات میں گھری تھی جب کہ میری حکومت توقعات میں گھری ہے ۔

نئی دہلی
پی ٹی آئی
چیف جسٹس ٹی ایس ٹھاکر نے آج عدم اطمینان کا اظہار کیا کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے 70ویں یوم آزادی کے موقع پر اپنی تقریر میں عدلیہ کو در پیش مسائل کا ذکر نہیں کیا۔ انہوں نے کہا کہ انہیں توقع تھی کہ ججس کے تقرر کے تعلق سے کچھ تو کہا جائے گا۔ سی جے آئی نے جنہوں نے حال ہی میں ایک تقریب میں وزیر اعظم سے اس سلسلہ میں جذباتی اپیل کی تھی، کہا کہ میرے خیال میں میں اپنے کیرئیر کی چوٹی پر پہنچ چکا ہوں ، مجھے اپنے احساسات بیان کرنے مٰں پس و پیش نہیں کرناچاہئے۔مجھے سچ کہنا چاہئے جو آپ کے دلوں کو چھولے ۔ ہم نے وزیر اعظم اور وزیر قانون کی خوش کن تقاریر سنیں اور توقع کررہے تھے کہ انصاف اور ججس کے تقرر کے تعلق سے کچھ سننے میں آئے گا۔ انگریزوں کے زمانہ میں مقدمات کا فیصلہ اندرون دس برس ہوجاتا تھا لیکن اب ایسا تک نہیں ہورہا ہے۔ کیسس کی تعداد اور عوام کی توقعات میں قابل لحاظ اضافہ ہوچکا ہے ۔ اب نشانہ کی تکمیل دشوار ہوگئی ہے۔ اسی لئے میں نے وزیر اعظم سے بارہا گزارش کی کہ اس جانب توجہ دیں ۔ مرکزی وزیر قانون روی شنکر نے تاہم کہا کہ ججس کا تقرر، بلا لحاظ نیا میمورنڈم آف پروسیجر جاری رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ ایم او پی کا نہ ہونا ججس کے تقرر میں آڑے نہیں آئے گا۔ ایم او پی پر مرکز اور عدلیہ میں حال میں ٹکراؤ رہا ہے ۔

PM Modi's Independence Day speech focuses on social harmony

0 comments:

Post a Comment