Search | تلاش
Archives
TaemeerNews Rate Card

Ads 468x60px

Our Sponsor: Socio Reforms Society India

تعمیر نیوز آرکائیو - TaemeerNews Archive

2016-08-17 - بوقت: 23:03

مرکزی حکومت کی جانب سے اقلیتی موقف ہٹانا سیاسی مقاصد پر مبنی - علیگڑھ یونیورسٹی

Comments : 0
نئی دہلی
یو این آئی
علی گڑھ مسلم یونیورسٹی نے منگل کے دن سپریم کورٹ میں این ڈی اے حکومت کے موقف کی مخالفت کی جس میں اس اپیل کو جسے یو پی اے حکومت نے الہ آباد کورٹ کی جانب سے یونیورسٹی کے اقلیتی موقف ہٹانے کے خلاف دائر کی تھی کو واپس لینے کی بات کی۔ انہوں نے کہا کہ یہ فیصلہ سیاسی مفادات پر مبنی ہے ۔ اپنے حلف نامہ میں، یونیورسٹی نے کہا کہ ایک فیصلہ جسے سرکاری سطح پر پچھلی حکومت کی جانب سے لیا گیا کو حکومت تبدیل ہونے پر دوسری پارٹی تبدیل نہیں کرسکتی، بالخصوص ایک ایسا فیصلہ جو پوری قوم پر اثر انداز ہو ۔ یونیورسٹی ، جو مرکز کی جانب سے اپیکس کورٹ میں پہلے دائر کی گئی درخواست کو واپس لینے کی اپیل پر کیا کہ حکومت پارلیمنٹ میں لیے گئے فیصلے اور قانون نافذ کرنے کی حکمت و دانش پر شبہ نہیں کرسکتی،اور جب کہ عدالت میں درخواست کی گئی ہو ۔ اس نے این ڈی اے حکومت کے پیش کردہ تفصیل کی بھی مخالفت کی جس میں کہا گیا کہ1967ء میں پانچ ججوں کی بنچ نے عزیز باشا مقدمہ میں یہ فیصلہ لیا کہ یہ ایک مرکزی یونیورسٹی ہے اور اقلیتی ادارہ نہیں ہے، انہوں نے کہا کہ ہائی کورٹ نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی ایکٹ 1920کے کچھ حصوں کا غلط مطلب اخذ کیا تاکہ اس کا اقلیتی موقف ختم کیاجاسکے ۔ ان حقائق کو نظر میں رکھتے ہوئے اور اس مسئلہ کی اہمیت پر موجودہ اپیل پر، مرکز میں حکومت کی تبدیلی کے بعد، این ڈی اے حکومت جس کی قیادت بھارتیہ جنتا پارٹی کررہی ہے کا فیصلہ کوئی مضبوط اور قوی دلیل نہیں رکھتا تاہم یہ کلی طور پر سیاسی مقاصد پر مبنی ہے، یونیورسٹی نے اپنے حلف نامہ میں لکھا۔ اے ایم یو نے اپنے حلف نامہ میں مرکز کی بات کا حوالہ دیا جس میں کہا گیا کہ اقلیتی طبقہ کی جانب سے اے ایم یو کا قیام عدلیہ کی طاقت سے ایک ایک غیر قانونی غاصبانہ کارروائی ہے ۔ یونیورسٹی نے مزید کہا کہ ہندوستان کبھی اس بات پر مقدمہ خارج کرنے کی اجازت نہیں دے سکتا ۔ معزز عدالت کے روبرو یہ واضح ہے کہ سرکاری سطح پر پچھلی حکومت کی جانب سے لیا گیا فیصلے کو حکومت کی تبدیلی پر دوسری سیاسی جماعت کالعدم قرار نہیں دے سکتی بالخصوص اس وقت تک جب پوری قوم کا اس سے تعلق ہو ۔ یونیورسٹی نے اپیکس کورٹ سے کہا کہ وہ اس ضمن میں ایک مستند سینئر ایڈوکیٹ کا تقرر کرے، جو اس معاملہ میں معاون ثابت ہو ۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت کی جانب سے پیش کردہ کوئی بات نئی نہیں ہے ، بشمول عزیز باشا فیصلہ کے ۔ ایم یو ایکٹ جسے1920میں محمد اینگلو اورینٹل کالج[ایم اے او] کو تحلیل کرکے بنایا گیا ۔اے ایم یو [ترمیم ] ایکٹ کو1951میں پارلیمنٹ میں پاس کیا گیا تھا جس میں مسلم مذہبی تعلیم کو لازمی قرار دینے کو ہٹا دی اگیا ۔ اس ترمیم کے بعد اے ایم یو میں غیر مسلم طلبہ کو بھی داخلہ کی اجازت مل گئی۔1966ترمیم کو ایم اے یو ایکٹ میں متعارف کرایا گیا ، جسے سپریم کورٹ میں عزیز باشا نے چیالنج کیا تھا ، سپریم کورٹ نے ان کی درخواست کو1967میں مسترد کردیا تھا۔

Modi govt's stand on minority status is "political": AMU to SC

0 comments:

Post a Comment