Search | تلاش
Archives
TaemeerNews Rate Card

Ads 468x60px

Our Sponsor: Socio Reforms Society India

تعمیر نیوز آرکائیو - TaemeerNews Archive

2016-08-10 - بوقت: 23:01

گورنر رگھو رام راجن نے اپنی میعاد کا آخری مالیاتی جائزہ پیش کیا

Comments : 0
ممبئی
پی ٹی آئی، یو این آئی
ریزروبینک کے گورنررگھو رام راجن نے آج مالیاتی پالیسی جائزہ میں شرح سود کو تبدیل نہیں کیا جب کہ گھریلو سطح پر حالیہ مہینوں میں مہنگائی میں ہوئے اضافہ اور عالمی معیشت کی غیر یقینی برقراررہنے کی وجہ سے ریزروبینک نے آج اپنی پالیسی ساز شرحوں کو جوں کا توں رکھا جس سے مکان اور کار جیسے قرض سستے ہونے کی امید لگائے لوگوں کو مایوسی ہوئی انہیں ابھی اس کے لئے مزید انتظار کرنا پڑے گا ۔ ریزروبینک کے گورنر رگھو رام راجن نے رواں مالی سال کی قرض اور مالیاتی پالیسی کی تیسری سہ ماہی اور اپنے آخری مالیاتی جائزہ جاری کرتے ہوئے کہا کہ گھریلو اور عالمی معیشت حالات کے مد نظر شرح سود کو مستحکم رکھا گیا ہے ۔ اس کے تحت ریپو شرح6.5 فیصد اور ریورس ریپو شرح چھ فیصد ، نقد محفوظ تناسب چار فیصد، بینک شرح7.0فیصد اور مارجینل فیسلٹی شرح سات فیصد پر رہے گی اور اس میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی ہے ۔ گوبینکرس ، ماہرین معاشیات اور مبصرین کا اندازہ تھا کہ راجن 4دسمبر کو اپنا عہدہ چھوڑنے سے قبل عام لوگوں کو اور صنعتی دنیا کو راحت دیتے ہوئے سود کی شرحوں میں چوتھائی فیصد کی کمی کریں گے لیکن آر بی آئی گورنر نے نہ صرف پالیسی ساز شرحوں کو مستحکم رکھا بلکہ کئی دیگر پالیسی ساز اعلان بھی نہیں کئے ہیں تاکہ نئے گورنرکو فیصلے کرنے میں کوئی پریشانی نہ ہو۔ راجن نے کہا کہ جون میں خوردہ مہنگائی میں تیزی درج کی گئی ہے ۔ دال اور اناج کی قیمتوں میں اضافہ ہوا جب کہ خدمات کی مہنگائی میں اتار چڑھاؤ برقرار رہا جب کہ سبزیوں کی قیمتوں میں کمی آرہی ہے ۔ بہتر مانسون سے فصلوں کی بوائی بڑھنے سے ساتھ ہی سپلائی کے نظم کے لئے اقدام کیا جانا علیحدہ مہنگائی روکنے کے لئے اچھا شگون ہے ۔ انہوں نے کہا کہ غذا اور ایندھن کی مہنگائی کو اگر اشاریہ سے علیحدہ کردیاجائے تو آگے مہنگائی بڑھنے کا خطرہ ہے لیکن غذائی اجناس کی مہنگائی کم ہونے سے اس کے متوازن رہنے کا امکان ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ساتھ ہی تنخواہ کمیشن کی بھتوں سے متعلق سفارشات کے نافذ ہونے سے مکان کے کرایوں پر براہ راست اتر پڑے گا اور مارچ2017تک اس کے پانچ فیصد سے زیادہ رہنے کا امکان ہے ۔ انہوں نے کہا کہ صارفین قیمت کا عد اشاریہ پر مبنی خوردہ مہنگائی جون22ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ۔ غذائی اجناس کے ساتھ سبزیوں کی قیمتوں میں تیری آنے سے یہ اضافہ ہوا ہے ۔ اس کے ساتھ ہی شکر کی پیداوار میں کمی سے اس کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے ۔ تاہم دال کی قیمتوں میں نرمی آنے لگی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ دوسرے سہ ماہی کے بعد عالمی معاشی منظر میں کوئی خاص سدھار نہیں ہواہے۔ ترقی یافتہ معیشتوں کی شرح نودوسری سہ ماہ میں اندازے سے کم رہی ہے اور آگے کا اندازہ بھی ملا جلا ہے۔ ترقی پذیر معیشتوں کی سر گرمیوں میں اتار چڑھاؤ کا رخ برقرار ہے ۔گورنر آر بی آئی کے طور پر قرض اور مانیٹری پالیسی کا آخری جائزہ لینے کے بعد رگھو رام راجن نے آج کہا کہ انہوں نے اس کام کے ہر ایک منٹ کو انجوائے کیا ہے۔ راجن نے اس سلسلے میں صافیوں کے سوال کے جواب میں کہا میں نے اس کے ہر منٹ کو انجوائے کیا ہے، کچھ حد تک اس لئے ہر دن جب میں آر بی آئی کے اپنے ساتھیوں کے ساتھ بیٹھتا تھا اور کام کرتا تھا ہم کام کو کچھ نہ کچھ آگے بڑھانے میں کامیاب رہے تب ہم دفتر سے یہ کہتے ہوئے نکلے ہیں کہ ہم نے کچھ کیا ہے اور ایسے بہت کم مقامات ہیں جہاں آپ اس طرح کا اطمینان حاصل کرتے ہیں ۔ اس لئے میں سمجھتا ہوں کہ یہ ایک شاندار تجربہ رہا۔ واضح رہے کہ راجن کی مدت آئندہ ماہ ختم ہورہی ہے ۔ مدت کے آخری چند ماہ میں تلخ سیاسی تنقید کے بارے میں انہوں نے کہا نقاد ہمیشہ رہین گے ۔ تعریف کرنے والے بھی ہیں جو بغیر اپنی شناخت کا اظہار کئے سادہ کاغذ پر نوٹ بھیج کر کہتے ہیں کہ آپ جو کررہ رہے ہیں اس کے لئے شکریہ۔ یہ کام کا حصہ ہے ۔سب سے اہم بات ہے کہ دن کے اختتام پر اگر آپ کو لگتا ہے کہ آپ نے مثبت کردار ادا کیا ہے ۔ اس نقطہ نظر سے یہ شاندار کام رہا۔ میں امید کرتا ہوں کہ میں نے کچھ بہتر کام کیا ہے ۔ راجن سے جب پوچھا گیا کہ ان کے جانشین پر سود کی شرح میں فوری طور پر اور تیزی سے کمی کا دباؤ رہ سکتا ہے اس کے پیش نظر وہ اپنے جانشین کو کیا مشورہ دینا چاہیں گے ، انہوں نے کہا کہ وہ اپنے جانشینوں کو مشورہ نہیں دیتے۔ آر بی آئی گورنر نے کہا کافی حد تک ممکن ہے کہ کسی شخص کو بجائے اگلی مانیٹری پالیسی کا جائزہ لینے مانیٹری پالیسی کمیٹی پیش کرے گی ۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو6افراد مل کر سود کی شرح کی راہ طے کریں گے۔میں سمجھتا ہوں کہ ہم ان سے آزاد فیصلے کو توقع کرسکتے ہیں اور مجھے یقین ہے کہ وہ ایسا کریں گے ۔ آر بی آئی گورنر نے کہا کہ کمیٹی کا آئندہ جائزہ پیش کرنے کے معاملے میں وہ اس امید پر ہیں کہ اس کے لئے ساری تیاریاں مکمل ہوچکی ہیں۔ تین سرکاری اراکین کے انتخاب کے عمل بھی شروع ہوچکا ہے ۔ اس لئے اس میں زیادہ وقت نہیں لگے گا ۔ ریزروبینک گورنر کی ذمہ داریوں سے آزاد ہونے کے بعد اپنے کیرئیر کے بارے میں پوچھے جانے پر راجن نے کہا میں اپنے پرانے پیشے میں جاسکتا ہوں جہاں میں شکاگو یونیورسٹی میں پڑھاتا تھا اور ساتھ ہی ہندوستان کے مفادات سے متعلق مختلف چیزوں سے منسلک تھا ۔ مثال کے لئے میں انڈین اسکول آف بزنس سے منسلک کیا گیا تھا ۔ دیکھتاہوں کہ آگے میں کیا کروں گا۔ لیکن میں نے ابھی کوئی منصوبہ نہیں بنایا ہے ۔

--

0 comments:

Post a Comment