Search | تلاش
Archives
TaemeerNews Rate Card

Ads 468x60px

Our Sponsor: Socio Reforms Society India

تعمیر نیوز آرکائیو - TaemeerNews Archive

2016-08-28 - بوقت: 01:41

کتابیں کم قیمتوں پر مہیا ہونی چاہئے - ہرش وردھن

Comments : 0
نئی دہلی
یو این آئی
سائنس اور ٹیکنالوجی کے مرکز ی وزیر ڈاکٹر ہرش وردھن نے آج کہا کہ قارئین کو کتابیں کم قیمتوں پر مہیا ہونی چاہئے اور اس کے علاوہ ایوارڈ اور تحائف جیسے سماجی ساکھ کے کاموں سے کتابوں کو جوڑنے کی روایت شروع کی جانی چاہئے ۔ڈاکٹر ہرش وردھن نے یہاں پرگتی میدان میں بائیس ویں کتاب میلے کا افتتاح کرتے ہوئے کہا کہ کم قیمت پر کتابیں فراہم کرانے کے سلسلے میں پبلیشرز کے ٹیکس میں راحت دینے جیسے مطالبات صحیح ہیں اور وہ ان کے اس مسئلے کو سنجیدگی سے حکومت کے سامنے رکھیں گے ۔ انہوں نے پبلشرز کے مسائل کو صحیح ٹھہرایا لیکن کہا کہ مہنگی کتابیں عام قاری خریدنہیں پاتے اس لئے کتابوں کی قیمتیں کم ہونی چاہئیں ۔ اس کے لئے نئے ٹیکس سسٹم میں پبلیشرز کو راحت دینے کا انتظام کرنے کا پبلیشرز کا مطالبہ مناسب ہیا ور وہ ان کے مسائل کو حکومت کے سامنے رکھیں گے ۔ ڈاکٹر ہرش وردھن نے کہا کہ کتابیں عوام و ملک میں انقلابی تبدیلی لاسکتی ہیں لیکن اس کے لئے وسیع پیمانے پر قارئین طبقہ تیار کرنے کی ضرورت ہے ۔ مہنگی ہونے کی وجہ سے متعدد قارئین کتابیں نہیں خرید پاتے اس لئے یہی کوشش ہونی چاہئے کہ کتابیں خریدنے اور انہیں پڑھنے والوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو۔ مرکزی وزیر نے کہا کہ نئے ٹیکس بل جی ایس ٹی میں کتابوں کے کاروبار کو مناسب راحت ملے اس کے لئے وہ اپنی بات حکومت کے سامنے رکھیں گے ہی لیکن پبلشرز کو اپنے فائدہ کی خاطر قارئین کے ساتھ نا انصافی بھی نہیں کرنا چاہئے ۔ مہنگی کتابوں کے سلسلے میں اپنی میڈیکل کی پڑھائی کے دور کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس وقت ان کی فیس صرف چار سو روپے تھی لیکن نصاب میں شامل کتابیں ہزاروں روپے کی تھیں۔ ایسی حالت میں طلبہ کو اپنے سینئروں سے کتابیں خرید کر پڑھنی پڑی تھیں اور پھر وہ کتاب میڈیکل کی پڑھائی کرنیائے نئے طالب علم تک پہنچ جاتی تھی ۔ کتاب میلے میں چار سو اسٹال لگائے گئے ہیں جن میں ہندی، اردو اور علاقائی زبانوں کے ستّر فیصد پبلیشرز شامل ہیں ، کتاب میلہ چار ستمبر تک چلے گا۔

Delhi Book Fair at Pragati Maidan, Harshvardhan today said readers should get books to read at minimal prices

0 comments:

Post a Comment