Search | تلاش
Archives
TaemeerNews Rate Card

Ads 468x60px

Our Sponsor: Socio Reforms Society India

تعمیر نیوز آرکائیو - TaemeerNews Archive

2016-07-17 - بوقت: 20:55

ترکی میں ناکام فوجی بغاوت پر عالمی قائدین کا رد عمل

Comments : 0
واشنگٹن
پی ٹی آئی
صدر بارک اوباما نے ترکی میں فوج کی طرف سے اقتدار پر قبضہ کرنے کی کوشش کے تناظر میں تمام فریقین پر زور دی اکہ وہ جمہوری طور پر منتخب ترک صدر رجب طیب اردگان کی حکومت کی حمایت کریں۔ جمعہ کو قومی سلامتی مشیران سے ہونے والی ملاقات کے بعد جاری ایک بیان میں صدربارک اوباما نے ترکی میں تمام فریقین سے مطالبہ کیا کہ وہ تحمل کا مظاہرہ کریں اور تشدد و خون خرابے سے گریز کریں ۔ ترکی میں جمعہ کو دیر گئے فوج کے ایک گروپ نے حکومت کا تختہ الٹنے کی کوشش کی تھی جسے بظاہر ناکام بناتے ہوئے سیکڑوں فوجیوں کو گرفتار کرلیا گیا ہے ۔ اس دوران ترک عوام کی طرف سے اس بغاوت کی پرزور مخالفت دیکھنے میں آئی اور بڑی تعداد میں لوگ اس کے خلاف سڑکوں پر نکلے اور فوجی ٹینکوں اور گاڑیوں کو پسپا ہونے پر مجبور کیا۔ ترک صدر نے تختہ الٹنے کی اس کوشش کے خلاف سڑکوں پر نکلنے کا مطالبہ کیا تھا۔ ترکی انسداد دہشت گردی کی جنگ میں امریکہ کا قریبی اتحادی ہے اور حال ہی میں عراق و شام میں داعش کو نشانہ بنانے کے لئے امریکی فورس نے ترکی کے انجرلک فضائی اڈے کو استعمال کیا۔ صدر اوباما نے وزیر خارجہ جان کیری سے ترکی کی صورتحال پر تبادلہ خیال بھی کیا جو کہ مختلف امور پر روسی عہدیداروں سے بات چیت کے لئے ان دنوں ماسکو کے دورے پر ہیں ، قبل ازیں جان کیری نے بھی ایک علیحدہ بیان مین کہا تھا کہ امریکہ (ترکی کی) صورتحال کا جائزہ لے رہا ہے اور اسے اس پر شدید تشویش ہے ۔ انہوں نے اپنے ترک ہم منصب میوت کاوسو گلو سے ٹیلی فون پر بات کرتے ہوئے یقین دلایا کہ امریکہ، ترکی کی منتخب جمہوری حکومت اور جمہوری اداروں کی مکمل حمایت کرتا ہے ۔ امریکی محکمہ دفاع نے ایک بیان مین کہا کہ وہ ترکی میں اپ نے فوجیوں ، تنصیبات ، شہریوں اور ان کے خاندان کے تحفظ کے لئے تمام مناسب اقدام کررہا ہے۔ پنٹگان کا کہنا تھا کہ بغاوت کی اس کوشش کے تا حال انجر لک فضائی اڈے پر کوئی اثرات مرتب نہیں ہوئے اور داعش کے خلاف اس کی کارورائی جاری ہیں۔ امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے کہا کہ امریکہ کو ترکی میں رونما ہونے والی صورتحال پر شدید تشویش ہے ۔ محکمہ خارجہ کی جانب سے واشنگٹن میں جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ہم انتہائی غیر واضح صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔ جان کیری نے کہا کہ انہوں نے آج شام گئے وزیر خارجہ کاوسگلو سے گفتگو کی ہے ،اور ترکی کی جمہوری منتخب ، سویلین حکومت اور جمہوری اداروں کی قطعی حمایت پر زور دیا ۔ انہوں نے کہا کہ ہم تمام فریق پر زور دیتے ہیں کہ ترکی کے طول و عرض میں سفارت خانوں اور عمل اور سویلین آبادی کے تحفظ اور بہبود کو یقینی بنایاجائے ، وزیر خارجہ نے کہا کہ ترکی میں امریکی سفارت خانہ اورقونصل خانے ترکی میں امریکی شہریوں کے بارے میں تفصیل فراہم کررہے ہیں۔ انہوں نے امریکی شہریوں پر زور دیا کہ وہ محفوظ مقامات اور گھروں کے اندر رہیں اور جب بھی ممکن ہو اپنے اہل خانہ اور احباب کو اپنی خیریت سے آگاہ کریں ۔ دریں اثناء اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل بان کی مون نے ترکی میں امن کے لئے اپیل کی کہ اور کہا ہے کہ وہ اس صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔ اقوام متحدہ کے ترجمان رحان حق نے کہا سکریٹری جنرل نے ترکی میں ہونے والی پیشرفت پر گہری نظر رکھ رہے ہیں۔ انہیں معلوم ہے کہ ترکی میں حکومت کا تختہ پلٹنے کی رپورٹ آرہی ہیں ۔ اس بیان کے تقریباً ایک گھنٹے بعد بان کی مون کی جانب سے بیان میں ترکی میں منتخب حکومت کو اقتدار سونپنے کا مطالبہ سامنے آگیا۔ خلیجی ملک قطر کی سرکاری نیوز ایجنسی کے مطابق قطر کی حکومت نے ترکی میں فوج کی جانب سے منتخب حکومت کو اقتدار سے ہٹانے کی کوشش کی مذمت کی ہے ۔ متحدہ عرب امارات کی وزارت خارجہ نے ترکی میں موجود اپنے شہریوں کو مطالبہ کیا محفوظ اور چوکنا رہنے کا مشورہ دیا۔ بحرین کی وزارت خارجہ نے تمام بحرینی شہریوں کو چوکنا رہنے اور محفوظ جگہ پر پناہ لینے کی ہدایت جاری کی اور انہیں باہر نکلنے سے منع کردیا۔ سعودی عرب نے اقتدار پر فوج کے قبضے کی خبر سامنے آنے کے بعد فوری طور پر ترکی سے فلائٹس کی آمد و رفت پر پابندی عائد کردی ۔ برطانوی وزارت خارجہ کی ترجمان خاتون کے مطابق ہمیں انقرہ اور استنبول میں ہونے والے واقعات پر تشویش ہے ۔ ہمارا سفارتخانہ صورتحال پر کڑی نظر رکھے ہوئے ہے۔ انہوں نے برطانوی شہریوں کو احتیاط سے کام لینے اور عوامی مقامات پر جانے سے گریز کی ہدایت کی۔ جرمن چانسلر انجیلا مرکل کے ایک ترجمان نے جاری بیان میں کہا ہے کہ ترکی میں جمہوری اداروں کی تقریم کا خیال رکھا جائے۔ نیٹو کے سربراہ نے ترکی میں جمہوری اداروں اور آئین کی تکریم کی جائے ۔ یورپی یونین کے عہدیداران ڈونلڈ ٹسک اور جان کلاڈ جنکر نے طیب اردگان کی حمایت کی اور اس فوجی بغاوت کے اختتام پر جلد از جلد حالات کے نارمل ہونے کی توقع ظاہر کی ۔ جاپانی وزیر اعظم شنزوایب نے کہا ہے کہ ترکی کی جمہوریت کا احترام لازمی ہے ۔ مجھے امید ہے کہ حالات جلد از جلد معمول پر آجائیں گے ۔

Turkey coup attempt: Reaction from around the world

0 comments:

Post a Comment