Search | تلاش
Archives
TaemeerNews Rate Card

Ads 468x60px

Our Sponsor: Socio Reforms Society India

تعمیر نیوز آرکائیو - TaemeerNews Archive

2016-07-13 - بوقت: 21:21

یو پی اے حکومت کی کامیابیوں پر وزیراعظم مودی نے پانی پھیر دیا - راہول گاندھی

Comments : 0
نئی دہلی
آئی اے این ایس
کانگریس کے نائب صدر راہول گاندھی نے آج کہا کہ یو پی اے حکومت نے جموں و کشمیر میں جوفوائد حاصل کئے تھے نریندر مودی ح کومت نے انہیں گنوا دیا ہے ۔ راہول گاندھی نے کل رات یہاں کہا کہ کانگریس زیر قیادت سابق یو پی اے حکومت نے جو فائدہ حاصل کیے تھے مودی حکومت کی ہلاکت خیز پالیسیوں نے ان پر پانی پھیر دیا ہے ۔ جمعیۃ علمائے ہند کے صدر مولانا محمود اسعد مدنی کے زیر اہتمام عید ملاپ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے راہول گاندھی نے کہا کہ وادی کشمیر کی صورتحال سے غلط انداز میں نمٹنے کی وجہ سے سیاسی شورش پیدا ہوئی ہے ۔ انہوں نے یہ تبصرہ ایک ایسے وقت کیا ہے جب کہ وادی کشمیر میں ایک سرکردہ عسکریت پسند کی ہلاکت کے بعد حالات دھماکو ہوگئے ہیں ۔ اس تقریب میں شرد یادو ، سیتا رام یچوری اور محمد سلیم سی پی آئی ایم، غلام نبی آزاد، سلمان خورشید اور سری پیرکاش جسیوال کانگریس کے علاوہ مسلم گروپس نے شرکت کی۔ راہول گاندھی نے کہا کہ جب منموہن سنگھ وزیر اعظم تھے تو انہوں نے جموں و کشمیر پر توجہ مرکوز کی تھی اور برسوں کی محنت کے بعد ہم نے عسکرتی پسندی سے متاثرہ ریاست میں امن اور معمول کے حالات کی بحالی میں کامیابی حاصل کی تھی ۔ بہر حال مودی حکومت نے صورتحال سے انتہائی لاپرواہی کے ساتھ نمٹتے ہوئے ان تمام فوائد پر پانی پھیر دیا ہے۔ راہول گاندھی نے کہا کہ انہوں نے چند ماہ قبل جی ایس ٹی بل مسئلہ پر ملاقات کے دوران وزیر فینانس ارون جیٹلی سے وادی کشمیر میں بڑھتی بے چینی پر اظہار تشویش کیا تھا ، لیکن ارون جیٹلی نے میرے خیالت کو مسترد کردیا تھا اور دعویٰ کیا تھا کہ صورتحال پوری طرح قابو میں ہے ۔ اس کے بعد میں نے خاموشی اختیار کی تھی ۔ جب منموہن سنگھ نے مئی 2014ء میں مودی کو عہدہ کا جائزہ تھا تو جموں و کشمیر کی صورتھال کافی نارمل تھی ۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ بی جے پی قائدین ہمیشہ یہ کہا کرتے ہیں کہ کانگریس نے ملک کے لیے کچھ نہیں کیا۔ آج میں ان سے پوچھتا ہوں کہ اس گڑ بڑ زدہ ریاست میں کس نے امن قائم کیا۔ ہماری پالیسیوں کی وجہ سے ہمیں اس ریاست کے عوام کا اعتماد حاصل ہوا تھا اور عسکریت پسند گروپس کو الگ تھلگ کیا گیا تھا۔

--

0 comments:

Post a Comment