Search | تلاش
Archives
TaemeerNews Rate Card

Ads 468x60px

Our Sponsor: Socio Reforms Society India

تعمیر نیوز آرکائیو - TaemeerNews Archive

2016-07-30 - بوقت: 21:48

گجرات میں مردہ مویشیوں کو ٹھکانے لگانے سے دلتوں کا انکار

Comments : 0
احمد آباد
پی ٹی آئی
اونا میں دلتوں کو مار پیٹ کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے اس برادری کے ارکان نے جو روایتی طور پر مویشیوں کی کھال اتارنے اور دباغت کا کام کرتے ہیں ، گجرات کے کئی علاقوں میں مردہ مویشیوں کو ٹھکانے لگانے سے انکار کردیا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ انہیں تحفظ فراہم کیاجائے اور حکومت انہیں گاؤ رکھشکوں کی ہراسانی سے محفوظ رکھنے آئی کارڈ جاری کرے۔ اس کام سے دور رہنے برادری کے ارکان کے اس فیصلہ نے بالخصوص سریندر نگر شہر کے انتظامیہ کو پریشان کردیا ہے جہاں بلدی عملہ کو گزشتہ ایک ہفتہ کے دوران خود اپنے وسائل کا استعمال کرتے ہوئے80سے زائد مردہ مویشیوں کو ٹھکانے لگانے پڑے۔ ضلع سریندر نگر کے کلکٹر ادت اگر وال کے مطابق وہ آنے والے دنوں میں دلت تنظیموں کے مطالبات پر حکومت کے ساتھ تبادلہ خیال کریں گے۔ اگر وال نے کہا کہ کھال اتارنے والے گزشتہ ایک ہفتہ سے ہڑتال پر ہیں اسی لئے ہم مردہ مویشیوں کو ٹھکانے لگانے بلدی عملہ کی خدمات حاصل کررہے ہیں ۔ بعض مال دھاری(مویشی پالنے والے)بھی ہماری مدد کررہے ہیں ۔ ہم اس بات کو یقینی بنارہے ہیں کہ جاریہ ہڑتال کی وجہ سے عوام کو کوئی تکلیف نہ ہو ۔ انہوں نے کہا کہ ایک مرتبہ ہنگامہ فرو ہونے کے بعد میں دلت قائدین کو طلب کرتے ہوئے ان کے مطالبات پر تبادلہ خیال کروں گا۔انہوںنے ابھی تک کوئی تحریری مطالبات پیش نہیں کئے ہیں ۔ ان کا اسل مطالبہ کھال نکالنے والوں کو آئی کارڈ کی اجرائی ہے۔ میں پائیدار حل کے لئے اس مطالبہ کو اعلیٰ حکام کے سامنے رکھوں گا ۔ دلت مانو ادھیکار تحریک نے کئی دلت حقوق گروپس پرمشتمل ہے ، اس ہڑتال کی اپیل کی ہے۔ تنظیموں کے وفاقی نو سر جان ٹرسٹ کے عہدیدار ناتو پرمار کے مطابق گجرات بھر سے کئی دلت اس تحریک میں شامل ہورہے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ گجرات کے کئی دلت ہماری تحریک میں شامل ہوئے ہیں اور اعلان کیا ہے کہ وہ مویشیوں کو ٹھکانے لگانے کا کام نہیں کریں گے ۔ سریندر نگر میں ہماری اپیل کا زبردست اثر ہوا ہے ۔ اس برادری کے کئی خاندان گزشتہ ایک ہفتہ سے یہ کام چھوڑ چکے ہیں ۔

Gujarat: Dalits refuse to dispose dead cattle, demand protection

0 comments:

Post a Comment