Search | تلاش
Archives
TaemeerNews Rate Card

Ads 468x60px

Our Sponsor: Socio Reforms Society India

تعمیر نیوز آرکائیو - TaemeerNews Archive

2016-06-28 - بوقت: 18:33

مرکزی ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ جلد متوقع

Comments : 0
نئی دہلی
پی ٹی آئی
حکومت توقع ہے کہ سات ویں پے کمیشن کی عمل آوری کا جلد اعلان کرے گی جس کے نتیجہ میں مرکزی حکومت کے تقریبا ایک کروڑ ملازمین اور وظیفہ یابوں کی تنخواہوں اور بھتوں میں کم از کم23.5فیصد اضافہ ہوگا۔ کابینی سکریٹری پی کے سنہا کی قیادت میں معتمدین کی ایک کمیٹی نے سات ویں پے کمیشن کی سفارشات پر رپورٹ پیش کردی ہے ۔ وزارت فینانس کے عہدہ دار کے مطابق رپورٹ کو ہوسکتا ہے قبول کرلیا گیا ہو ۔ پیانل کی رپورٹ کی بنیاد پر وزارت فینانس ایک کابینی نوٹ تیار کررہی ہے اور ممکن ہے29جون تک کابینہ کی منظوری کے لئے یہ مسئلہ پیش کیاجائے ۔ معتمد فینانس اشوک لاواسا نے آج بتایا کہ معتمدین کی کمیٹی نے پے کمیشن کی سفارشات پراپنی رپورٹ کو قطعیت دے دی ہے ۔ ہم بہت جلد اس رپورٹ کی بنیاد پر کابیانی نوٹ کا مسودہ تیار کرلیں گے۔ حکومت نے کابینی سکریٹری کی قیادت میں ایک اعلیٰ اختیار پیانل جنوری میں تشکیل دیاتھا اور ساتویں پے کمیشن کی سفارشات کا جائزہ لینے کی ہدایت دی تھی ۔ ان سفارشات سے مرکزی حکومت کے تقریبا پچاس لاکھ ملازمین اور58لاکھ وظیفہ یابوں کے مشاہروں میں اضافہ ہوگا ۔ پے کمیشن نے مشاہروں ، بھتوں اور وظیفہ میں مجمودی طور پر23.55فیصد اضافہ کی سفارش کی تھی ۔ اگر اسے روبہ عمل لایاجائے تو حکومت کے کزانہ پر1.02لاکھ کروڑ کا زائد بوجھ عائد ہوگا ۔ پیانل نے بنیادی یافت میں14.27فیصد اضافہ کی سفارش کی ہے۔ جو 70برسوں میں اب تک سب سے کم ہے ۔ سابق چھٹیوں پے کمیشن نے بیس فیصد اضافہ کی سفارش کی تھی، جسے حکومت نے2008ء میں روبہ عمل لانے کے وقت دگنا کردیا تھا ۔23.55فیصد اضافہ میں بھتوں میں اضافہ بھی شامل ہے ۔ کم از کم یافت کی سطح موجودہ، سات ہزار روپے سے بڑھا کر18ہزار روپے ماہانہ کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ جب کہ اعظم ترین یافت جو کابینی سکریٹری حاصل کرتے ہیں، موجودہ90ہزار کے بجائے2.5لاکھ روپے ماہانہ ہوگی ۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ معتمدین کے پیانل نے ہوسکتا ہے زائد اضافہ کی سفارش کی ہو ، جس کے تحت اقل ترین یافت ماہانہ23,500روپے اور اعظم ترین مشاہرہ3.25لاکھ روپے ہوسکتا ہے ۔

central government employees expected increase in salaries

0 comments:

Post a Comment