Search | تلاش
Archives
TaemeerNews Rate Card

Ads 468x60px

Our Sponsor: Socio Reforms Society India

تعمیر نیوز آرکائیو - TaemeerNews Archive

2016-06-26 - بوقت: 10:30

شفیق فاطمہ شعریٰ - حیدرآباد کی ممتاز نظم گو شاعرہ

Comments : 0

shafiq-fatima-shera
حیدرآباد کی شاعرات میں شفیق فاطمہ شعریٰ کو نمایاں مقام حاصل ہے۔ شفیق فاطمہ نام اور شعریٰ تخلص استعمال کرتی ہیں۔ ان کی ولادت ۱۹۳۰ء میں ناگپور میں ہوئی۔ والد کا نام سید شمشاد علی ہے۔ جو سہارنپور (اترپردیش) کے رہنے والے تھے تقسیم کے بعد حالات سے دوچار ہوئے اور اورنگ آباد چلے آئے۔ اورنگ آباد میں کچھ عرصہ قیام کرنے کے بعد حیدرآباد کا رخ کیا اور یہیں کے ہوکر رہ گئے۔ شعریٰ کی ابتدائی تعلیم اورنگ آباد میں ہوئی کمسنی ہی میں انھیں اردو، فارسی اور عربی زبانوں پر عبورحاصل ہوگیا تھا۔ ۱۹۵۷ء میں انھوں نے عثمانیہ یونیورسٹی سے گریجویشن مکمل کیا پھر مرہٹھواڑا یونیورسٹی سے ۱۹۶۰ء میں بی۔ ایڈ کی ڈگری حاصل کی اور دوسال بعد یعنی ۱۹۶۲ء میں ناگپور یونیورسٹی سے ماسٹرس (M.A) کی ڈگری حاصل کی۔
۱۹۶۵ء میں ان کی شادی حیدرآباد کے ایک معزز گھرانے کے سید وجہہ اللہ سے ہوئی جو آندھرا پردیش اگریکلچر ڈپارٹمنٹ میں ملازم تھے۔ ۱۹۸۴ء میں وجہہ اللہ صاحب کا انتقال ہوگیا۔ اس کے بعد شعریٰ نہایت ہی غمگین رہنے لگیں۔ رشتہ داروں کی صلح و مشورے کے بعد ممتاز کالج میں بحیثیت لکچرر ملازمت کرنے لگیں۔
۲۰۱۰ء سے شفیق فاطمہ جگر کے عارضے میں مبتلا ہوگئیں دوسال تک اس بیماری سے لڑتی رہیں آخر کار ۱۳؍ اگسٹ۲۰۱۲ء کو ان کی آنکھیں ہمیشہ کے لئے بند ہوگئیں۔ ان کے انتقال سے کی تفصیل ان کی بہن ڈاکٹر ذکیہ عابد اس طرح بتاتی ہیں:
’’شفیق فاطمہ شعریٰ کو پہلے تھائیر ایڈ ہوا پھر انھیں جگر کی بیماری ہوگئی ۲۵ ؍ رمضان بعد مغرب بمطابق ۱۳؍ اگست ۲۰۱۲ کو ان کا انتقال ہوا اور تدفین قبرستان مسجد محی الدین نساء ملک پیٹھ میں ہوئی۔‘‘
شفیق فاطمہ شعریٰ کو خدانے بے شمار نعمتوں سے نوازا تھا۔ وہ ذہین تھیں۔ کم عمری ہی میں انھیں زبان و بیان پر مکمل عبور حاصل ہوگیا تھا۔ انھیں ادب سے غیر معمولی دلچسپی تھی۔ ان کی پہلی مطبوعہ نظم ’’فصیل اورنگ آباد‘‘ ہے جو ۱۹۵۳ء میں شائع ہوئی۔ یہ نظم سلسلہ مکالمات میں بھی شامل ہے۔ ان کے اب تک چار مجموعہ کلام منظر عام پر آچکے ہیں۔ پہلا مجموعہ ’’گلہ صفورہ‘‘، دوسرا مجموعہ ’’آفاق نوا‘‘ ہے، اس کے بعد ’’کرن کرن یادداشست‘‘ اور ’’سلسلہ مکالمات‘‘ منظر عام پر آچکے ہیں۔ شعریٰ اپنی پہلی نظم ’’فصیلِ اورنگ آباد‘‘میں ایک دھیمے لہجے کی شاعرہ نظر آتی ہیں۔ پوری نظم میں شعریٰ نے ایک تاریخی سماں باندھا ہے۔ جس کو پڑھنے سے اورنگ آباد سے ان کے جذباتی وابستگی کا اندازہ ہوتا ہے، اس نظم میں شاعرہ نے ایک کرب، درد، اور اضطراب کو بیان کیا ہے کہ کس طرح لوگوں کے چلے جانے کے بعد ان کے نقوش رہ جاتے ہیں۔ اور ان کی آواز ہمیشہ کے لئے اس جگہ گونجتی رہتی ہے۔ ’’فصیلِ اورنگ آباد‘‘ ایک طویل نظم ہے۔ نظم کا کچھ حصہ ملاحظہ ہو:
یہ فصیل پارینہ یہ کھنڈر یہ سناٹا
کس خیال میں گم سم ہے یہ رہگذر آخر
میں یہاں ٹھٹکتی ہوں سوچتی ہوں تھوڑی دیر
یہ شکستہ بام و در کیوں ہیں سو گوار آخر
گرد اڑرہی ہے اب جس وسیع میدان سے
اس کو روند کر گذرے کتنے شہ سوار آخر
کتنے انقلاب آئے کتنے حکمراں بدلے
ہے یہ خاک کس کس کے خو ں سے داغدار آخر
کھو کے اپنی رونق کو یہ اداس و یرانے
کب تلک رہیں گے یوں محو انتظار آخر
مدتوں یہاں شاہی روندتی رہی سب کو
اور کب تلک چلتا ہے اس کا اقتدار آخر
بزم میں عیش و عشرت میں کیا کسی نے سوچا تھا
وقت توڑ دیتا ہے عیش کا خمار آخر
نشۂ حکومت سے کوئی جاکے یہ پوچھے
کیوں کھنڈر ہی رہتے ہیں تیری یاد گار آخر
ماتمی ہوائیں بھی بھر رہی ہیں آہیں سی
زیر خاک کس کس کے دل ہیں بے قرار آخر
حوصلوں امنگوں کی اک چتا سی جلتی ہے
دھیرے دھیرے سینے میں کوئی شئے پگھلتی ہے
شفیق فاطمہ شعریٰ نے پوری نظم میں تاریخی حسیت سے کام لیا ہے اور ماضی و حال کی جیتی جاگتی تصویر یں پیش کی ہے۔ چوں کہ جدیدیت کا ایک پہلو ماضی کی گم گشتہ فضاؤں کا بیان بھی ہے۔ شفیق فاطمہ شعریٰ کے یہاں یہ عنصر بدرجہ اتم موجود ہے۔ ان کا فکری اور تاریخی شعور پختہ ہے وہ علامتی انداز میں اپنی بات پیش کرنے کا ہنر جانتی ہیں۔ انھیں وطن اور قوم سے بے پناہ محبت تھی اس محبت کا بیان ان کی بیشتر نظموں میں ملتا ہے۔ وہ کسی بھی واقعہ کو منظر کشی کے ذریعہ اور بھی پرکشش بنادیتی ہیں۔ ان کی نظم ’’یاد وطن‘‘ اسی سلسلے کی ایک خوبصورت نظم ہے۔ علامتی انداز میں انھوں نے ’’وطن‘‘ کو ’’آتما‘‘ کہا ہے کہ وطن میں ساری چیزیں موجود ہے یہاں پربت ہے، چاند تارے، نرناری کا ملن سبھی کچھ ہے لیکن اس کی آتما نہایت ہی اکیلی ہے۔ نظم ’’یادِ وطن‘‘ ملاحظہ ہو:
پودے نہیں اکیلے
چھایا ہے ان کی سنگی ساتھی
پرآتما اکیلی
وادی کی گود میں چاند
درپن اچھالتا ہے
چاندی کا جگمگاتا
وہ جھلملاتا منڈوا
خوشہ سا کھل اٹھا ہے
اس میں جنونی تارا
پربت نہیں اکیلے۔۔ چلتے
چلتے ہیں ساتھ ان کے
وحشی ہوا کے جھونکے ۔۔۔ ریلے
پرآتما اکیلی
گاتی ہے جب یہ دھرتی
ساتھ اس کے گونجتی ہے
اک صوتِ سرمدی بھی
ساگر ہرلہر میں
بیلا چرا رہا ہے
نرناری کے ملن کی
دریا نہیں اکیلے ۔۔۔ بہتے
بہتی ہیں ساتھ ان کے
۔۔۔۔ موجیں
۔۔۔ ان کی
پرآتما اکیلی
شفیق فاطمہ شعریٰ کے یہاں نسائی حسیت بھی منفرد انداز میں ملتی ہے وہ ڈھکے چھپے انداز میں، دھیمے لب و لہجہ میں نسائی احساسات کی ترجمانی کرتی ہیں۔ انھوں نے نسوانی جذبات کا بیان نہیں کیا بلکہ عورت کے جذبات اور اس کے سماجی مرتبے کو مذہب کے حوالے سے بیان کرنے کی کوشش کی ہے۔ اس طرح کی نظموں میں ’’اے تماشاہ گاہِ عالم روئے تو‘‘ ،’’سیتا‘‘،’’ وہ رادھا رانی امر ‘‘اور ’’پریشتی‘‘ قابل ذکر ہیں۔ ان کی شاعری میں نسائی حسیت کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے ابوالکلام قاسمی رقم طراز ہیں:
’’شفیق فاطمہ شعریٰ دانشورانہ موضوعات، مذہبی اور روحانی محرکات سے دلچسپی اور گہری بصیرت کے سبب، ایک ایسی شاعرہ کا تاثر قائم کرتی ہیں جس کے لیے جنسی بنیاد پر قائم معاشرہ کوئی قابلِ توجہ مۂلہ نہیں محسوس ہوتا۔ تاہم شعریٰ نے اپنی بعض نظموں میں نسائی امیج کو مذہبی حوالوں کے ساتھ نمایاں کرنے کی طرف توجہ دی ہے۔‘‘
شفیق فاطمہ شعریٰ نے مذہبی موضوعات کے تحت نسوانی جذبات و احساسات کی ترجمانی کی ہے۔ ان کی نظم ’’اسیر‘‘ بھی نسوانی جذبات و احساسات کی عمدہ مثال ہے۔ علامتی انداز میں شاعرہ نے عورت کی زندگی کی تصویر کشی کی ہے کہ کس طرح خواتین جذبات اور بند شوں کے حصاروں میں اسیر ہوتی ہیں۔ نظم ’’اسیر‘‘ ملاحظہ ہو:
افق کے سرخ کہرے میں کہستاں ڈوبا ڈوبا ہے
پکھیرو کنج میں جھنکار کو اپنی سموتے ہیں
تلاطم گھاس کے بن کا تھما، تارے درختوں کی
گھنی شاخوں کے آویزاں میں موتی سے پروتے ہیں
سبھی سکھیاں گھروں کو لے کے گاگر جاچکیں کب کی
دریچوں سے اب ان کی روشنی رہ رہ کے چھنتی ہے
دھنواں چولہوں کا حلقہ حلقہ لہراتا ہے آنگن میں
اداسی شام کی اک زمزمہ اک گیت بنتی ہے
یہ پانی جس نے دی پھولوں کو خوشبو دوب کو رنگت
حلاوت گھول دی آزادچڑیوں کے ترنم میں
دہکتے زرد ٹیلوں کے دلوں کو خنکیاں بخشیں
ڈھلا آخر یہ کیسے میرے آزردہ تبسم میں
شفیق فاطمہ شعریٰ کے یہاں عصری شعور آگہی ہے وہ زمانے کے انتشار اور نئی تہذیب کی بے راہ روی سے پریشان نظر آتی ہیں۔ ان کے نزیک دنیا ایک سراپا ہے۔ جہاں امن و امان کا ہونا ضروری ہے۔ دنیا کے شور شرابے میں انسان اپنے اقدار فراموش کررہا ہے۔ اپنی تہذیب اپنی روایت کو بھول رہا ہے۔ اگر دنیا ایسے ہی گمراہی کا شکار رہی تو پھر انسانوں کے نقوش بھی نہیں ملیں گے۔ چوں کہ ان کا انداز علامتی ہے اس لیے جذبات کی شدت ان کی شاعری میں کم ابھر کر سامنے آتی ہے لیکن ان کی شاعری ایک خاموش احتجاج ہے جو شعوری طورپر امن و امان کا پیغام دیتی ہے۔ دہشت گردی، خوں خرابا اور جنگ و بارود سے پرہیز کا مشورہ دیتی ہے۔ ’’شفیع الرحم‘‘ اور ’’افتاد گاہیں نجوم کی‘‘ اسی سلسلے کی خوبصورت نظمیں ہیں۔ نظم ’’شفیع الرحم‘‘ایک طویل نظم ہے۔ بطورِ مثال نظم کا آخری حصہ ملاحظہ ہو جس میں شعریٰ نے خوں خرابے اور جنگ و بارود سے تباہ کاری کا ذکر کیا ہے:
آج فولاد پگھلا
بھڑ کتے رہے سرخ بھٹی میں
ارمان، اسرار، جوشِ جنوں
جانکنی کا ادھورا نشہ جب بھی ٹوٹا
تو پیسے گیا ہوش و احساس کو بے دریغ
دور بکھرے دھوئیں کو نگلتے ہوئے
کھردرے اور نم آلود پتھر کا لمس
جذب ہوتا رہا جسم وجاں میں۔۔۔۔’’ نہیں!‘‘
۔۔۔۔’’نہیں‘‘ قلب چیخا
زبان ’’ہاں‘‘ کا انگارہ بن کر
جہاں جل بجھی
’’نہیں!۔۔۔ اور اقصائے کون و مکاں
خوں سے بھر گئے۔
شفیق فاطمہ شعریٰ کی شاعری مبہم علامتوں کی حامل ہے جسے آسانی سے سمجھا نہیں جاسکتا۔ وہ نظم گو شاعرہ ہیں۔ ان کا لہجہ دھیمہ لیکن پراثر ہے۔ ان کے یہاں تاریخی موضوعات کی بہتات ملتی ہے اور ایسا لگتا ہے کہ انھوں نے کسی تاریخی عمارت کو سامنے رکھ کر یا کسی تاریخی مقام کو ذہن میں رکھ کر نظمیں لکھی ہیں۔ اس کے علاوہ ان کے یہاں نسائی حسیت، عصری آگہی اور مذہبی حسیت منفرد انداز میں ملتی ہیں۔ ان کا انداز منفردہے جو انھیں اپنے ہم عصر شعرا سے جدا کرتا ہے۔ علامتوں کے علاوہ ان کے یہاں تشبیہات و استعارات کا بھی عمدہ استعمال ہوا ہے۔ وہ بیک وقت قلب اور ذہن دونوں پر اپنا اثر قائم کرتی ہیں۔ ان کی شاعری میں ایک لطیف کیف اور اطمینان ملتا ہے۔ دوسرے شعرا کی طرح شدت پسندی ان کی شاعری میں بہت کم نظر آتی ہے۔ ان کی شاعرانہ خصوصیات کی حمید نسیم ستائش کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
’’اب تک ہمارے جدید شعراء میں راشد صاحب سب سے مشکل گو شاعر مانے جاتے رہے ہیں۔ مگر شعریٰ کا کلام میں نے دیکھا تو راشد آسان نظر آنے لگے۔ اس لیے کہ شعریٰ کے ہاں ’’جگوں‘‘ کا سفر مصرعوں میں طئے ہوتا ہے۔ راہ کے جو کھم، عزم وہمت کی استواری پھریکا یک ہزمیت و پسپائی پھر ’’ظلوما‘‘’’جہولا‘‘ نوع کی سپاری کہ اپنے لہو میں نہائی بارِ امانت اٹھائے افساں خیزاں پھر نکل پڑتی ہے۔ کہیں یکا یک مشاہدے کی چکاچوند ہے کہیں بیداری کے عالم میں ایک نازک گلپوش خواب کی لطافت ہے۔ یہ سب مقامات سیر گھلے ملے ملتے ہیں۔ سب کو دل کلیت میں قبول کرے تو پھر شعریٰ کی شاعری کا کلید مل جاتی ہے۔‘‘
غرض یہ شفیق فاطمہ شعریٰ کے یہاں جذبات و احساسات کی ترجمانی، مذہب اور روایت کے اقدار، گہرا تاریخی شعوراور عصری معنویت کا اظہار منفرد انداز میں ملتا ہے۔ ان کی علامتیں مبہم ہونے کے باوجودتہہ در تہہ معنویت رکھتی ہیں۔
***
ڈاکٹر ناہیدہ سلطانہ
قباء کالونی، شاہین نگر،حیدرآباد
موبائل : 08977655485
ڈاکٹر ناہیدہ سلطانہ

Shafiq Fatima Shera, a prominent poetess of Hyderabad. Article: Dr. Naheeda Sultana

0 comments:

Post a Comment