Search | تلاش
Archives
TaemeerNews Rate Card

Ads 468x60px

Our Sponsor: Socio Reforms Society India

تعمیر نیوز آرکائیو - TaemeerNews Archive

2016-06-13 - بوقت: 03:44

بابری مسجد اور گودھرا کے سبب ملزمین القاعدہ کی طرف مائل - دہلی پولیس کا الزام

Comments : 0
نئی دہلی
پی ٹی آئی
ہندوستانی نوجوان1992میں بابری مسجد کی شہادت اور2002میں گودھرا فسادات کے بعد القاعدہ برائے بر صغیر ہند قائم کرنے کے مقصد سے اس میں شامل ہوئے۔ دہلی پولیس کے خصوصی سیل نے17ملزمین کے خلاف چارج شیٹ داخل کرتے ہوئے یہ الزام لگایا اور کہا کہ جہاد کے مقصد سے ان میں سے بعض ملزمین پاکستان گئے اور جماعت الدعوہ کے سربراہ حافظ سعید اور لشکر طیبہ کے سربراہ ذکی الرحمن لکھوی اور دیگر کئی خطرناک دہشت گردوںسے ملاقات کی۔ پولیس نے الزام لگایاکہ گرفتار ملزم انظر شاہ نے کئی مساجد میں جہاد سے متعلق تقریریں کرنے کے بعد محمد عمر(مفرور ملزم) سے ملاقات کی اور انہوں نے ہندوستان میں مسلمانوں کو ظلم و ستم بالخصوص گودھرا اور بابری مسجد کے مسائل پر تبادلہ خیال کیا۔ عمر جہادی نظریہ سے متاثر ہوئے اور جہاد میں حصہ لینے لئے تیار ہوگئے۔ چارج شیٹ میں کہا گیاکہ مفرور ملزم نے پاکستان سے اسلحہ کی تربیت اور اسلحہ وصول کرنے پر آمادگی ظاہر کی۔ ایڈیشنل سیشنس جج رتیش سنگھ کے اجلاس کو پیش کردہ چارج شیٹ میں دعویٰ کیا گیاکہ عمر کی سر گرمیاں پاکستان سے جاری تھیں ۔ گرفتار ملزم عبدالرحمن نے پاکستانی عسکریت پسندوں سلیم منصور اور سجاد کو جو تمام جیش محمد کے ارکان ہیں ہندوستان میں محفوظ پناہ گاہ فراہم کی۔ یہ تینوں2001میں اتر پردیش میں ایک انکاؤنٹر میں ہلاک کردئیے گئے ۔ چارج شیٹ میں یہ تینوں پاکستانی عسکریت پسند بابری مسجد کی شہادت کا انتقام لینے ہندوستان آئے تھے اور ایودھیا میں رام مندر پر حملہ کی منصوبہ بندی کی تھی لیکن انکاؤنٹر میں ہلاک ہوگئے ۔ پولیس نے چارج شیٹ میں17ملزمین کے نام گنوائے جن میں سے12کو مفرور بتایا ۔ ان کے خلاف ہندوستانی نوجوانوں کو ورغلانے، بھرتی کرنے اور القاعدہ کا یہاں گروپ قائم کرنے کا الزام لگایا گیا۔ ایجنسی نے اپنی قطعی رپورٹ میں پانچ گرفتار ملزمین محمد آصف ، ظفر مسعود ، محمد عبدالرحمن، سید انظر شاہ اور عبدالسمیع کے خلاف قانون( انسداد) غیر قانونی سر گرمیاں( یو اے پی اے) کی دفعات کے تحت الزام لگایا گیا۔

Delhi Police: Babri demolition, Godhra riots led youths to Al-Qaeda

0 comments:

Post a Comment