Search | تلاش
Archives
TaemeerNews Rate Card

Ads 468x60px

Our Sponsor: Socio Reforms Society India

تعمیر نیوز آرکائیو - TaemeerNews Archive

2016-06-12 - بوقت: 02:04

بی جے پی راجستھان کی چاروں راجیہ سبھا نشستوں پر کامیاب

Comments : 0
نئی دہلی
یو این آئی
سینئر کانگریس قائد اور سابق مرکزی وزیر کپل سبل ہفتہ کے دن اتر پردیش کی راجیہ سبھا نشست پر کامیابی حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئے باوجودیہ کہ پارٹی کے دیگر تین ارکان اسمبلی کراس ووٹنگ میں آزاد امید واروں کے مقابلہ میں ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا سماج وادی پارٹی کے تمام سات امید وار کامیاب ہوئے۔ بی جے پی نے راجستھان کی چاروں نشستوں پر کامیابی حاصل کی ۔ پ ارٹی قائد ایم وی وینکیا نائیڈو، اوم پرکاش ماتھر، ہرشاوردھنا سنگھ اور رام کمار ورما کو کامیاب قرار دیا گیا جو کہ بی جے پی کی زیر قیادت ریاست ہے۔ بی جے پی قائد ایم جے اکبر اور انیل مادھو دیو نے مدھیہ پردیش سے کامیابی حاصل کی ۔ ہریانہ میں بی جے پی کے بریندر سنگھ اور زی میڈیا چیر مین سبھاش چندر جن کی بی جے پی نے تائید کی تھی بڑے ڈرامہ کے بعد کامیابی حاصل کی ۔ کانگریس کے14ووٹوں کو ہریانہ میں ناموزوں قرار دیا گیا ۔ کرناٹک اور مدھیہ پردیش میں ہفتہ کی صبح راجیہ سبھا کے لئے ووٹنگ کا سلسلہ شروع ہوا ۔ سات ریاستوں نے انتخابات میں حصہ لیا تاکہ 27راجیہ سبھا کے ممبران کا انتخاب کیاجاسکے ۔ جن میں گیارہ نشستیں اتر پردیش، چارنشستیں کرناٹک اور راجستھان کی، تین مدھیہ پردیش ، ہریانہ اور جھار کھنڈ کے لئے، دو دو اور ایک اتر کھنڈ کے لئے۔ جب کہ57راجیہ سبھا کی نشستیں مخلوعہ ہیں ، ہفتہ کے دن27نشستوں کے لئے ووٹنگ کا آغاز ہوا، تیس امید واروں کا بلا مقابلہ انتخاب3جون کو کیا گیا ۔ ان میں مرکزی وزرائ، سریش پربھو اور پیوش گوئل، مشہور وکیل رام جیٹھ ملانی، آر جے ڈی صدر لالو پرساد کی بیٹی مسا بھارتی اور سابق جے ڈی یو صدر شرد یادو ہیں ۔ کانگریس کے پردیپ ٹمٹمانے ہفتہ کے دن آزاد امید وار انیل گوئل کو شکست دیتے ہوئے اتر کھنڈ کی واحد نشست پر کامیابی حاصل کرتے ہوئے ہل اسٹیٹ کے پہلے دلت ممبر بن گئے ۔ ریاست کے جملہ58ممبران میں32نے ٹمٹا اور26نے گوئل کے حق میں ووٹ ڈالے ، ودھان سبھا سکریٹری جگدیش چندرا نے بتایا ۔ بی جے پی کے بھیمتل رکن اسمبلی سنگھ بھنڈاری نے کل اسمبلی سے استعفیٰ دے دیا جس کے بعد پارٹی کے اراکین26رہ گئے جب کہ کانگریس۔ پی ڈی ایف کے تمام32ممبران نے کانگریس امید وار کے حق میں ووٹ ڈالا ۔ کرناٹک سے مرکزی وزیر نرملا سیتا رامن اور کانگریس کے جئے رام رمیش، اسکر فرنانڈیز اور کے سی راما مورتی نے ہفتہ کے دن راجیہ سبھا سے کامیابی حاصل کی ۔ کانگریس کے امید وار اور سابق آئی پی ایس عہدیدار کے سی راما مورتی کو ریکارڈ کامیابی حاصل ہوئی اور انہیں52ووٹ ملے جب کہ انہیں آزاد امید وار اور جے ڈی یو ایس کے باغی اراکین کی تائید حاصل ہوئی ۔ جملہ81اراکین اسمبلی میں سے79نے اپنے ووٹ کا استعمال کیا، جے ایم ایم رکن اسمبلی چرما لنڈا اور کانگریس رکن اسمبلی دیوندر سنگھ نے اپنے ووٹ کا استعمال نہیں کیا۔ مرکزی وزیر مختار عباس نقوی اور مہیش پوڈوار نے جھار کھنڈ سے بی جے پی کے لئے کامیابی حاصل کی۔ پوڈوار نقوی کی پہلی ترجیح تھی ۔ جب کہ مدھیہ پردیش سے ایم جے اکبر اور انیل دیو اور کانگریس کے وویک تنکا نے راجیہ سبھا کی نشست حاصل کرنے میں کامیابی حاصل کی۔ بی جے پی کا ارادہ آزاد امید وار کے حق مین تائید کرتے ہوئے کانگریس کو ناکام بنانے کا تھا جو کامیاب نہ ہوسکا اور کانگریس کو فتح حاصل ہوئی ۔ سینئر جرنلسٹ ایم جے اکبر اور ریاستی بی جے پی قائد دیو کو58ووٹ حاصل ہوئے جب کہ تنکا کو62ووٹ جس میں کانگریس کے57اور چار بی ایس پی کے ملے اور اس کے علاوہ ایک آزاد امید وار نے بھی ان کے حق میں اپنا ووٹ دیا۔کانگریس سابق ہریانہ چیف منسٹر بھوپیندر سنگھ ہوڈا سے جواب طلب کرے گی، جب کہ14اراکین اسمبلی نے پارٹی سے بغاوت کرتے ہوئے آزاد امید وار کے حق مین اپنے ووٹ کا استعمال کیا جس کے باعث ان کے ووٹ ناموزون قرار پائے۔ اے آئی سی سی کے جنرل سکریٹری بی کے ہری پرساد انچارج آف ہریانہ نے کہا کہ ہم نے بی سی سی اور آزاد امید وار سے رپورٹ طلب کی اور علاوہ ازیں الیکشن کمیشن سے بھی ہم اس ضمن میں شکایت درج کریں کہ جس طرح یہ انتخابات کئے گئے۔ کانگریس کو بادی النظر حکومت کی جانب سے سازش نظر آتی ہے اور وہ بہت جلد حقائق تک پہنچ جائیں گے، ہم اس معاملہ کو سیاسی اور قانونی طورپر لڑیں گے ۔ سینئر کانگریس قائد سلمان خورشید نے آنند کی شکست جسے میڈیا کے چیف اور آزاد امید وار سبھاش چندرا بی جے پی کی تائید کی تھی کے خلاف ہوئی تھی کو مایوس کن قرار دیتے ہوئے اس کے حقیقی وجوہات کا پتہ چلانے کی بات کہی ۔ کانگریس ترجمان آر پی این سنگھ نے مودی حکومت پر الزام عائد کیا کہ اس نے پیسہ اور طاقت کا استعمال کرتے ہوئے یہ انتخابات جیتے۔

BJP sweeps all 4 Rajya Sabha seats in Rajasthan

0 comments:

Post a Comment