Search | تلاش
Archives
TaemeerNews Rate Card

Ads 468x60px

Our Sponsor: Socio Reforms Society India

تعمیر نیوز آرکائیو - TaemeerNews Archive

2016-06-19 - بوقت: 03:15

مظفر نگر فسادات کے بعد 50 ہزار مسلمانوں کا تخلیہ - اسدالدین اویسی

Comments : 0
حیدرآباد
پی ٹی آئی
کل ہند مجلس اتحاد المسلمین کے صدر و رکن پارلیمنٹ حیدرآباد بیرسٹر اسد الدین اویسی نے یہ دعویٰ کرتے ہوئے کہ2013ء مظفر نگر فسادات کے بعد50ہزار مسلمانوں نے نقل مکانی کی تھی، بی جے پی سے پوچھا کہ کیاوہ وہاں بھی حقائق جاننے کے لئے کمیٹی بھیج سکتی ہے ۔ جیسا کہ اس نے کیرانہ کے لئے بھیجا ہے، جہاں اس نے ہندو خاندانوں کی نقل مکانی کا الزام عائد کیا ہے۔ بیرسٹر اویسی نے346خاندانوں کی اس فہرست کو بوگس قرار دیا جو بی جے پی نے اس دعوے کے ساتھ پیش کیا ہیکہ یہ خاندان اتر پردیش کے کیرانہ سے مبینہ ہراسانی کی وجہ سے نقل مکانی کرچکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ معاملہ بی جے پی اور سماج وادی پارٹی کی ڈرامہ بازی ہے اور دعویٰ کیا کہ حقیقت میں پچاس ہزار افراد نے اس وقت نقل مکانی کی تھی جب مظفر نگر میں فسادات ہوئے تھے۔ ان لوگوں نے اپنا آبائی مقام چھوڑ دیا جہاں ان کی نسلین آباد تھیں ۔ بیرسٹر اویسی نے کہا کہ ملک کی آزادی کے بعد اقلیتوں کے اتنے بڑے پیمانہ پرنقل مکانی کہیں دیکھنے میں نہیں آئی۔ کیا بی جے پی یہاں حقائق جاننے والی ٹیم بھیج سکتی ہے کہ ان پچاس ہزار افراد پر کیا گزری اور انہوں نے کیوں نقل مکانی کی؟ انہوں نے کہا کہ بنیادی طور پر بی جے پی کے پاس کوئی مسئلہ نہیں ہے، اس لئے یہ معاملہ (کیرانہ) اٹھایاجارہا ہے ۔ اس سے بی جے پی کا حقیقی چہرہ سامنے آگیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ سب کا ساتھ، سب کا وکاس ایک دھوکہ تھا، افسوس کی بات یہ ہے کہ اس معاملہ میں سماج وادی پارٹی بھی ان کی مدد کررہی ہے۔ یہ معاملہ سیاسی طور پر بی جے پی اور ایس پی دونوں کے مفاد مین ہے۔ بی جے پی اکثریتی طبقہ میںخوف پیدا کرنا چاہتی ہے اور سماج وادی پارٹی مسلمانوں کو یہ پیام دینا چاہتی ہے کہ اگر انہوں نے اس پارٹی کو منتخب نہیں کیا تو وہ غیر محفوظ ہوجائیں گے، اس لئے یہ ڈرامہ بی جے پی اور ایس پی دونوں کے لئے مناسب ہے۔ پی ٹی آئی سے بات کرتے ہوئے حیدرآبادی رکن پارلیمنٹ نے کہا کہ جب ایسے مسائل سامنے آتے ہیں تو سماج وادی پارٹی خوش ہوتی ہے ، کیونکہ اسے اپنی حکومت کی نااہلی پر سوالات کا جواب دینا نہیں پڑے گا ۔ بیرسٹر اویسی نے کہا کہ مجلس اتر پردیش کے اسمبلی انتخابات میں حصہ لے گی جو آئندہ سال کے اوائل میں منعقد ہوں گے ۔ تاہم انہوں نے کہا کہ پارٹی کتنی نشستوں پر مقابلہ کرے گی، یہ کہنا قبل از وقت ہوگا ۔ انہوں نے کہا کہ انکی پارٹی اتر پردیش میں اتحاد کے لئے تیار ہے ۔ اور اگر کوئی اتحاد کے لئے آگے آتا ہے تو ہم ضرور اتحاد کریں گے ۔ تاہم ہم انتظار کرو اور دیکھو کی پالیسی پر عمل پیرا ہیں۔

Atleast 50,000 Muslims migrated after Muzaffarnagar riots: Asaduddin Owaisi

0 comments:

Post a Comment