Search | تلاش
Archives
TaemeerNews Rate Card

Ads 468x60px

Our Sponsor: Socio Reforms Society India

تعمیر نیوز آرکائیو - TaemeerNews Archive

2016-05-20 - بوقت: 02:00

موسم گرما کا انتباہ – اپنا خیال رکھیے ۔۔۔

Comments : 0
summer-red-alert
بقراط کے برقی پیام نے موسم گرما میں گرما گرمی بڑھا کر رکھ دی- لکھ بھیجا
"ریڈ الرٹ " / " سرخ انتباہ! " ۔۔۔ " اپنا خیال رکھیے"-
ہم نے سوچا ہو نہ ہو قیامت کی کوئی نشانی نظر آگئی ہوگی۔۔۔ اس لئے خبردار کر رہا ہے، لیکن پتا نہیں کس چیز سے کر رہا ہے- تہذیب جدیدہ میں انسان کے لئے بے شمار عناصر و عوامل ہیں جن سے اسے ہوشیار اور خبر دار رہنا ہے، جبکہ تہذیب گذ شتہ کی بات کچھ اور تھی ۔۔۔۔جب کسی راجہ کی سواری کے آنے سے پہلے لوگوں کو خبردار کیا جاتا تھا ، اور پتا نہیں کیسے کیسے آداب و ملاحظات کا تقاضہ کیا جاتا تھا کہ عام انسان کے سر پر ہر وقت خطرہ منڈلاتا رہتا تھا –
وہ تو بھلا ہو اہل مغرب کا کہ وہ پاپائیت اور بادشاہت کے ظلم و جبر کے خلاف یوں اٹھ کھڑے ہوئے تھے کہ عوام کے سر سے سارے خطرے ٹل گئے۔۔۔۔ اور انسان مکمل طور پر آزاد ہوگیا، لیکن اتنا بھی نہیں ہونا تھا کہ وہ مغرب میں مادر پدر آزاد ہو جاتا - اب سارے آزاد انسان ایکدوسرے کے لئے خطرہ بن گئے ہیں- بے چارے اہل مغرب ! اکثر کچھ اچھا کرنے کی سعی کرتے ہیں لیکن "اینڈ رزلٹ" یعنی "انجام" یا آخرت پر غور کبھی نہیں کرتے، ورنہ یہ ان موروثی نا شکرے مسلمانوں کے مقابلے رب کا ئینات کے سامنے کب کا سر خرو ہوجاتے ۔۔۔۔۔

ہم نے شیفتہ سے فون پر بقراط کے اس پیام کے بارے پوچھا تو فرمایا - کمبخت کسی "ریڈ الرٹ" کا ذکر کر رہا ہے، ذرا تلاش کیجیے اور بتائیے گا کہ اسقدر سخت خطرہ کس کس کو کس کس سے در پیش ہے - ہم نے کہا حضور یہ بڑا وقت طلب کام ہے، بلکہ مکمل تحقیقی و تجزیاتی مشن ہے- اتنا وقت کس کے پاس ہے- فرمایا، اہل دانش کی محفلوں میں آپ عرصہ دراز سے یوں ہی جا کر بیٹھتے ہو، ا ب تک تو عقل آجانی چاہیے!
بس فورا معلوم کیجیے یہ خطرہ کیا ہے، اور کہاں سے آرہا ہے- ہمیں آواز دے لینا۔۔۔۔ ہم فورا حاضر ہو جائیں گے، سمجھو بس چلمن سے لگے بیٹھے ہیں خوف سے-
فرمایا، بقراط کا بھلا ہو، اپنا خیال رکھنے کہہ رہا ہے، یہ بھی تو بتاتا جاتا کہ کیسے اور کس کس طرف سے اپنا خیال رکھیں، حکومت اور سیاسی جماعتوں کی طرف سے یا ہندوستان کے اعلی تعلیم یافتہ سیاستداں سبرامنیم کی طرف سے، بقول میڈیا جو کبھی امریکہ میں "اردھ شاستر" یعنی "اکانومی" کا پاٹ پڑھایا کرتے تھے اور اب ہندوستان میں "چانکیہ نیتی" کا پاٹ پڑھانے حکومت میں شامل ہوئے ہیں، اور جن کی نفرتیں اور یاوہ گوئی اب جمہوری ایوانوں میں گونجنے لگی ہیں، اور انہیں کے بل بوتے پر وہ سرکار میں وزارت کے طلب گار ہیں، شاید جلد ہی وزیر بنا دئے جائیں اور پھر شاید کبھی وزیر اعظم بھی -
یا مسٹر ٹرمپ کی طرف سے اپنا خیال رکھیں کہ جنکی وحشتیں انہیں چین سے رہنے نہیں دیتی، اور وہ مسند کی حرص میں منہ کی کھاتے رہتے ہیں، جبکہ امریکی اقتدار اعلی کے امیدواروں کا عموما یہ وطیرا رہا ہے کہ وہ ہندوستانی ہم منصب کی طرح منہ کی نہیں کھاتے۔۔۔ لیکن یہ بھی تو پتا نہیں چلتا کہ وہ پھر کس کی کھاتے ہیں ۔۔۔۔۔
فرمایا، ایک انتباہ جس سے آپ صرف نظر نہ کر جائیں اس پر بھی غور کر لیجیے گا۔۔۔ آپ نے کل بزم اہل خرد سے کچھ پھول چن کر لائے تھے، اور لندن کے میئر جناب صادق خان کی قابلیت اور لیاقت کے قصیدے پڑھے تھے۔۔۔ ہمیں بھی ایک امید جاگی تھی کہ چلیے انتہا پسندی اور رواداری کے درمیان جاری کشاکش کا عقدہ کہیں تو حل ہوگیا۔۔۔ لیکن وہ جناب ابھی مسند نشیں ہوئے بھی نہ تھے کہ بقول شا عر رخ سے نقاب یوں الٹ بیٹھے کہ لندن میں رات کافور ہوگئی- جناب بتوں پر جل چڑھانے جا بیٹھے۔۔۔۔عجب غیر ضروری رواداری کا مظاہرہ کر دکھایا ۔۔۔۔شاید کسی سے سن لیا ہوگا کہ بت بھی با وضو ہو کر خدا کو یاد کرتے ہیں- یا پھر پتا نہیں ٹی وی میڈیا کی ساحری کا شکار ہو گئے ہوں ! حضور، آپ انہیں مسلمانان عالم کے لئے نمونہ سمجھ رہے ہیں اور ہمیں یہ تشویش ہے کہ کہیں بقراط دل فگار اسی پر تنبیہ نہ کر رہے ہوں۔۔۔۔۔ اب کیا کیجیے گا بقراط کے اس انتباہ نے مخمصہ میں ڈال رکھا ہے- کچھ تلاش کیجیے گا کہ ۔۔۔۔ادھر وہ بد گمانی ہے ادھر یہ ناتوانی ہے۔۔۔۔۔ نہ پوچھا جائے ہے اس سے، نہ بولا جائے ہے مجھ سے۔۔۔۔

الغرض ہم نے جب برقی پیامات کی ورق گردانی شروع کی تو پایا کہ بیسوں پیامات ہیں جو "سرخ انتباہ" یعنی "ریڈ الرٹ" کے زمرے میں آتے ہیں- اور جن میں اول تو موسم کی گرمی جس کا پارہ 45-50 ڈگری سے اوپر جانے کے لئے تیار نظر آرہا تھا، اور مختلف ریاستوں نے ریڈ الرٹ جاری کردیا تھا کہ تپتی دوپہر کو راستوں پر مت نکلیے۔۔۔۔ اور اپنے اپنے گھروں پر رہیے۔۔ اب ان سے کوئی پوچھے کہ حکومتوں نے اپنے فیصلوں سے اچھے بھلے لوگوں کو راستے پر ڈال دیا ہے، اور اکثر کو تو بے گھر کر رکھا ہے۔۔۔ اب اس سرخ انتباہ کا ان بے گھر لوگوں پر کیا اثر ہونا ہے- حکومتوں کو آسمان کی ناراضگی کی کچھ تو خبر ہونی چا ہیے ۔۔۔۔۔ کیا پتا سورج کا سوا نیزے پر آنا اسے ہی کہتے ہوں، اور موسم کی یہ تبدیلی واقعی خطرے کی بات ہے- ان کے علاوہ گرمئی دولت سے گرمئی غربت تک، گرمئی بزم سے گرمئی رزم تک، گرمئی حسن و عشق سے گر مئی گفتار تک، گرمئی علم سے گرمئی فلم تک اور سرکاری ایوانوں کی گرمی سے لے کر سرکاری دیوانوں کی گرمی تک سب خطرے کی گھنٹیاں بجا رہی تھیں، لیکن مجال ہے ان پر کوئی "ریڈ الرٹ" جاری ہوا ہو۔۔۔ خیر آخری انتباہ جس نے بقراط کے انتباہ کا سارا راز فاش کر دیا وہ کچھ اور تھا، اور جب ہم نے شیفتہ کو اس سرخ انتباہ کے متعلق بتانے سے تردد کیا تو فرمانے لگے -
قفس میں مجھ سے رودادِ چمن کہتے نہ ڈر ہمدم
"گرے گی" جس پہ کل بجلی وہ میرا آشیاں کیوں ہو
- پھر ہمیں اس انتباہ کے متعلق انہیں بتانا ہی پڑا۔۔۔۔۔

ایک انگریزی اخبار کی سرخی بقراط کے انتباہ کی مکمل نشاندہی کرتی نظر آئی، جسے پڑھکر بے ساختہ علامہ کا یہ مصرع زبان پر آگیا کہ۔۔۔۔
کہا جو قمری سے میں نے اک دن یہاں کے آزاد پاگل ہیں۔۔۔۔۔۔
تو غنچے کہنے لگے، ہمارے چمن کا یہ رازدار ہوگا

- سرخی یہ کہہ رہی تھی کہ "چین اور ہندوستان میں ذہنی مریضوں کی تعداد بڑھتی جارہی ہے"- اور اسقدر بڑھ رہی ہے کہ ہر آٹھ دس افراد میں ایک ذہنی مرض میں مبتلا ہے، اور یہ مرض در اصل ذہنی تناؤ اور کھینچاؤ کا نتیجہ ہے- ظاہر ہے جہاں کھینچاؤ ہوگا وہاں تناؤ بھی ہوگا، مرزا اسی لئے کہہ گئے کہ " نہ کھینچو گر تم اپنے کو، کشاکش درمیاں کیوں ہو"- تحقیق تو یہ بھی بتا رہی تھی کہ ان دونوں ممالک میں مریضوں کی تعداد معاشی بحران کی طرح بڑھتی جا رہی ہے ۔۔۔۔ علاج کے لئے خاطر خواہ مطب بھی نہیں ہیں، اب ایسے علاج کے لئے معالج خود بھی ذہنی طور پر تیار کہاں ہوتے ہیں ! وہ بھی اسی کھنچاؤ اور تناؤ کا حصہ ہیں-
لیکن اس تحقیق کے حوالوں کا سرا مغرب میں ان سے جا کر ملتا ہے جنکے ذہنی تناؤ کا اندازہ لگانا مشکل ہے، البتہ کھینچاؤ کا اندازہ مع اسناد موجود ہے- ہم نے شیفتہ کو اس مغربی تحقیق سے آگاہ کرنے کی کوشش کی تو فرمایا- "اگر دیکھا بھی اس نے سارے عالم کو تو کیا دیکھا۔۔۔۔۔۔نظر آئی نہ کچھ اپنی حقیقت جام سے جم کو"- ہم نے کہا حضور ذرا اس شعر کی تشریح بھی کردیجیے۔۔۔۔ فرمایا غالبیات اور اقبالیات کے شارحین کرام نے بھی کیا خوب کمال کیا ہے۔۔۔۔۔ ہر دور میں شرحیں مختلف ہوتی ہیں ۔۔۔۔۔ موجودہ دور میں بھی، جبکہ واعظ و ناصح اب نہیں رہے لیکن انکے ذکر مبارک کے بغیر یا انکی عداوت کے بغیر نہ شا عری ممکن ہے اور نہ ہی شرح بیانی- فرمایا۔۔۔۔۔ ادیب و شاعر ہو یا صحافی ہو کہ ہو ناصح۔۔۔۔۔۔سبھی کو چاہیے اک اچھا سا دشمن تخیل میں- فرمایا علامہ کا ہر شعر ایک تاج محل ہے ۔۔۔اس شعر کی حسب حال تشریح یہ ہے کہ ، مغرب میں بیٹھے جمشید اپنے جام جم میں ساری دنیا کو تو دیکھ رہے ہیں لیکن انھیں بس اپنی حقیقت نظر نہیں آتی۔۔۔۔۔ہم نے کہا حضور مغربی محققوں کے تحقیقی کارناموں سے انکار محال ہے، بلکل اسی طرح جس طرح انکی خود فریبی سے انکار محال ہے۔۔۔۔۔
ان کی تحقیق یہ بتاتی ہے کہ تہذیب جدیدہ میں افسردگی نے انسان کے جذبات کو بیمار کر رکھا ہے، یا انسان کو جذباتی طور پر بیمار کر رکھا ہے، اور جس کا اثر شرح اموات پر ہورہا ہے۔۔۔۔۔ ایک صحت مند زندگی کا اوسط آئے دن گھٹتا جا رہا ہے، انسانی ذہن پر زندگی کے مسائل کے بوجھ کی شرح فیصد آئے دن بڑھ رہی ہے، بلکہ انہوں نے تو عالمی بوجھ کا تناسب نکال کر مختلف گوشوارے بنا رکھے ہیں، جن میں ہندوستانی اور چینی مریضوں کے خاص گوشوارے ہیں، لیکن اہل عرب کو آسانی سے بھلا دیا گیا۔۔۔۔۔! جبکہ پچھلی تین دہائی سے مغرب نے انہیں تختۂ مشق بنا کر رکھا ہے اور اپنی عسکری طرز فکر و عمل کا ہدف بھی ، وہ بھی انہی کی دولت کا استعمال کر – لیکن انکے تناؤ اور کھینچاؤ کا تجزیہ کرنے سے اہل مغرب احتراز کر بیٹھے۔۔۔۔ الغرض مذکورہ تحقیق کے اعداد و شمار سب ایک تجزیہ کے تحت مغرب میں رقم کئے گئے ہیں۔۔۔۔۔۔
اور ہندوستان اور چین دونوں ممالک کے اکثر شہری اس بیماری کے سب سے بڑے شکار بتا ئے گئے ہیں۔۔۔۔البتہ اس تحقیق سے سیاستدانوں کو مستشنیٰ کیا گیا ۔۔۔۔ پتا نہیں محققین اس نتیجہ پر پہنچے ہوں شا ید کہ واقعی عوام کی اکثریت ذہنی مریض ہے اور جس کا ثبوت انکے منتخب شدہ شاطر چالاک نمایندے، جو ہر قسم کی ذہنی بیماری ، افسردگی اور تناؤ سے مبرا ہیں ۔۔۔۔عوام کے بر عکس انہیں زندگی کے تمام عیش میسر ہیں۔۔۔ اور اسی لئے سب خوش و خرم اور خوش لباس نظر آتے ہیں- فرمایا انسان کے ذہنی امراض میں مبتلا ہونے کی بے شمار وجوہات ہیں جو سائینس اور تاریخ دونوں سے ثابت شدہ ہیں۔۔۔لیکن تجزیہ نگار بے چارے وہ اعداد و شمار کہاں سے اکھٹا کر پاتے جس سے یہ ثابت ہوتا کہ، انسانوں کو اس ذہنی مرض میں کس نے مبتلا کیا ہے؟ اسکی افسردگی کی اصل وجہ کیا ہے؟ کیا اس غیر طبیعی مرض کا موجب اخلاقیات اور روحانیات سے مسلسل دوری نہیں ہے؟ ۔۔۔ اس کا جواب مغربی تجزیہ نگار دینے سے قاصر ہیں کہ موجودہ دور کے انسان کو روحانیت سے دور کرنے میں اور مادیت پرستی میں مبتلا کرنے میں کس کا ہاتھ ہے۔۔۔۔۔۔ اور مستقبل میں یہ بیماری انسانیت کو کہاں لے کر جائیگی ؟ کیا یہ کسی سرخ انتباہ یا ریڈ الرٹ سے کم ہے ! فرمایا۔۔۔۔۔دیار مغرب کے رہنے والو، خدا کی بستی دکاں نہیں ہے ۔۔۔۔۔۔
کھرا جسے تم سمجھ رہے ہو، وہ اب زر کم عیار ہوگا ! –

تمہاری تہذیب اپنے خنجر سے آپ خود کشی کریگی
جو شاخ نازک پہ آشیانہ بنے گا، نا پایدار ہوگا۔۔۔

***
Zubair Hasan Shaikh (Mumbai).
zubair.ezeesoft[@]gmail.com

Summer heat, Red Alert. Article: Zubair H Shaikh

0 comments:

Post a Comment