Search | تلاش
Archives
TaemeerNews Rate Card

Ads 468x60px

Our Sponsor: Socio Reforms Society India

تعمیر نیوز آرکائیو - TaemeerNews Archive

2016-05-29 - بوقت: 01:11

بی جے پی حکومت کے ساتھ تعمیری تعاون کے لئے کانگریس تیار - پی چدمبرم

Comments : 0
نئی دہلی
پی ٹی آئی
سابق وزیر فینانس پی چدمبرم نے آج اظہار حیرت کیا کہ آیا مودی حکومت، رگھو رام راجن کی حقدار ہے ۔ انہوں نے راجن کو دنیا کا ایک انتہائی ممتاز ماہر معاشیات قرار دیا۔ چدمبرم نے کہا کہ میں سوچنے لگا ہوں کہ آیا یہ حکومت، ڈاکٹر راجن کی حقدار ہے۔ ان سے پوچھا گیا تھا کہ آیا، راجن کو ایک اور میعاد ملنی چاہئے۔ راجن کی پہلی تین سالہ میعاد ستمبر میں ختم ہورہی ہے ۔ کانگریس ہیڈ کوارٹر س میں اخباری نمائندوں سے مودی حکومت کے دو سال پر بات چیت کرتے ہوئے چدمبرم نے راجن پر سبرامنیم سوامی کی تنقید پر پہلے تو کچھ کہنے سے انکار کردیا۔ انہوںنے زور دیا کہ وزیر اعظم اور وزیر فینانس اگر راجن کے خلاف بولیں گے تو کانگریس اپنا رد عمل ظاہر کرے گی۔ راجن کی مدافعت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یو پی اے حکومت نے دنیا کے ایک ممتاز ماہر معایشات کو آر بی آئی کا گورنر مقرر کیا تھا۔ ہمیں اس وقت ان پر مکمل اعتماد تھا اور آج بھی ہے ۔ مرکز کو معیشت سے نمٹنے کے طریقہ کار پر نشانہ تنقید بناتے ہوئے کانگریس نے آج کہا کہ وہ بڑی اصلاحات کا حوصلہ پیدا کرے ۔ پارٹی نے کہا کہ حکومت اگر اس سلسلہ میں سنجیدہ ہے تو وہ اس کا تعاون کرسکتی ہے ۔ سابق وزیر فینانس چدمبرم نے اخباری نمائندوں سے کہا کہ معیشت مستحکم ہوتے ہی جیسا کہ میرے خیال میں یہ جون2014میں مستحکم ہوچکی تھی، حکومت کو جرات مندانہ اصلاحات کے ذریعہ اسے آگے بڑھانا چاہئے تھا ۔ تکلیف دہ فیصلے لینے چاہئے تھے کیونکہ لوک سبھا میں یو پی اے کو بھرپور اکثریت حاصل نہیں تھی ۔ موجودہ حکومت کو لوک سبھا میں282یا283نشستیں حاصل ہیں ، اسے ہمت جٹانی چاہئے اور جرات مندانہ اصلاحات کرنا چاہئے۔ اس پہل میں اسے اپوزیشن کو ساتھ لینا چاہئے ۔ حکومت اگر سنجیدہ ہے تو کانگریس پارٹی تعاون کے لئے تیار ہے ۔ جی ایس ٹی کے تعلق سے چدمبرم نے کہاکہ حکومت، کانگریس پارٹی کو ساتھ لینے میں ناکام رہی ۔ کانگریس نے اس پر تین اہم اعتراضات کئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت یا تو ہمیں قائل کردے کہ ہمارے اعتراضات بے بنیاد ہیں یا انہیں قبول کرلے ۔ اس کے لئے میری جانکاری کی حد تک میز پر کوئی بات چیت نہیں ہوئی ۔ چدمبرم نے حکومت کو مشورہ دیا کہ وہ اپوزیشن کو ساتھ لے کر اور اس کی تجاویز پر غور کرے ۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کے ساتھ مل کر کام کیجئے ۔ حکومت کے باہر بہترین مشورہ مل سکتا ہے ۔ اپوزیشن کو بلائیے اور بات کیجئے ۔ یہ مشورہ میں کسی بھی حکومت بشمول اپنی حکومت کو دوں گا ۔ پریس کانفرنس میں مودی حکومت کے دو سال پر تبصرہ کرتے ہوئے انہوں نے حیرت کا اظہار کیا کہ جب صنعت اور زراعت مشکل میں ہیں تو پھر یہ جشن کیوں؟ انہوں نے کہا کہ زراعت کے معاملہ میں حکومت کا ریکارڈ صفر ہے۔ سپریم کورٹ، مرکز پر تنقید کرچکا ہے ۔ میں نشاندہی کرسکتا ہوں کہ کوئی روزگار نہیں پیدا ہوا۔ کوئی صنعت نہیں لگی ، برآمدات گھٹی ہیں اور ایسا لگتا ہے کہ کسی کو پرواہ نہیں۔ برامدات گھٹی ہیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ہزاروں نوکریاں گئی ہوں گی۔ اس ملک کے شہری خود اپنا اسکور کارڈ جاری کریں گے۔ ایک عام شہری کو نوکری اور آمدنی چاہئے ۔ مجموعی قومی پیداوار( جی ایس ٹی) کے اعداد و شمار اسے ہضم نہیں ہوتے۔ پی چدمبرم نے دعویٰ کیا کہ این دی اے حکومت کی سب سے بڑی ناکامی روزگار پیدا نہ کرنا ہے ۔ انہوں نے بڑھتی مہنگائی پر تشویش ظاہر کی ۔

--

0 comments:

Post a Comment