Search | تلاش
Archives
TaemeerNews Rate Card

Ads 468x60px

Our Sponsor: Socio Reforms Society India

تعمیر نیوز آرکائیو - TaemeerNews Archive

2016-05-28 - بوقت: 23:44

ہندوستان کی غیر جانبدارانہ پالیسی میں تبدیلی کی گنجائش نہیں - وزیراعظم مودی

Comments : 0
واشنگٹن
پی ٹی آئی
وزیر اعظم نریندر مودی نے پاکستان کویہ سمجھاتے ہوئے کہ امن کا راستہ دو طرفہ ہوتا ہے آج کہا کہ اسلام آباد کو دہشت گردی کے از کود کھڑی کی گئی رکاوٹ کو دور کرنے کی ضرورت ہے جو ہند۔ پاک دوستی کے راستہ میں آرہی ہے ۔ مودی نے پاکستان سے یہ بھی کہا کہ وہ ہر طرح کی دہشت گردی کی تائید ختم کردے چاہے وہ سرکاری ہو یا غیر سرکاری ۔ وال اسٹریٹ جرنل نے مودی کے تبصرے جو ایک انٹر ویو کے دوران کئے گئے ہیں آج اپنی ویب سائٹ پر پیش کئے ہیں۔ مودی کا کہنا ہے کہ میرے خیال میں ہمارے تعلقات ایک بلندی پر پہنچ سکتے ہیں جب پاکستان ہمارے تعلقات کے راستہ میں دہشت گردی کی از خود کھڑی کی گئی رکاوٹ دور کرتا ہے ۔ ہم پہلا قدم بڑھانے کے لئے تیار ہیں لیکن امن کا راستہ دو طرفہ ہوتاہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیشہ انہوں نے یہی موقف اختیار کیا ہے کہ ہندوستان، پاکستان کو ایک دوسرے سے لڑنے کے بجائے مشترکہ طور پر غربت سے لڑنا چاہئے ۔ فطری طور پر ہم پاکستان سے اس کا کردار ادا کرنے کی توقع کرتے ہیں، لیکن دہشت گردی پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوسکتا ۔ اسے اسی وقت روکا جاسکتا ہے جب دہشت گردی کو ہر طرح کی تائید بند کردی جائے ۔ چاہے وہ سرکاری ہو یا غیر سرکاری، اسے مکمل بند ہونا چاہئے ۔ انہو ں نے کہا کہ ہماری سرحدوں میں ہونے والے دہشت گرد حملوں کی سازشیوں کے خلاف پاکستان موثر طور پر کام کرنے میں ناکام رہا ہے جس کی وجہ سے ہمارے تعلقات میں پیشرفت محدود ہوگئی ہے۔ مودی نے کہا کہ ان کی حکومت کا ایجنڈہ، پر امن اور خوشحال پڑوس ہے اور یہ اس پر اس وقت سے عمل کیاجارہا ہے جس دن سے انہوں نے حلف لیا ہے ۔ انہوںنے کہا کہ میں ہندوستان کے لئے ایسے ہی مستبقل کا خواب دیکھتا ہوں جیسا کہ میں نے اپنے پڑوسیوں کے لئے دیکھا ہے ۔ غیر جانبداری کی ہندوستان کی کئی دہے پرانی پالیسی میں تبدیلی کو یکسر مسترد کرتے ہوئے مودی نے کہا کہ سرحدی تنازعات کے باوجود چین کے ساتھ ہمارا کوئی تصادم نہیں ہے ۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ آج کی باہمی انحصار کی یہ دنیا گزشتہ صدی سے الگ ہے، ایسی کوئی وجہ نہیں ہے ہندوستان اپنی غیر جانبدارانہ پالیسی کو تبدیل کرے ۔ یہ روایت برسوں سے چلی آرہے ہے، لیکن یہ بھی صحیح ہے کہ آج ہندوستان پہلے ہی ططرح ایک کونے میں کھڑے نہیں رہ سکتا ۔ یہ ہندوستان کی سب سے بڑی جمہوریت ہے اور تیزی سے بڑھنے والی معیشت ۔ ہم اپنی علاقائی اور بین الاقوامی دونوں ذمہ داریوں سے بخوبی واقف ہیں۔ مودی سے پوچھا گیا تھا کہ امریکہ، ہندوستان کے ساتھ تعلقات کو استوار کرنے میں کافی دلچسپی رکھتا ہے کیونکہ ہندوستان ایک ابھرتی ہوئی طاقت ہے ۔ کیا اس کا مقصد چین کے مقابل اسے کھڑا کرناہے۔ کیا آپ کی نظر میں ہندوستان عالمی سطح پر کوئی موقف حاصل کرسکتا ہے ۔ اس کے جواب میں مودی نے کہا کہ چین کے ساتھ ہماری کوئی لڑائی نہیں ہے ہمارا سرحدی تنازعہ ہے ، عوام سے عوام کے درمیان رابطہ بڑھ رہا ہے، تجارت بڑھ رہی ہے ۔ چین، ہندستان میں سرمایہ کاری کررہا ہے اور ہندوستان چین میں سرمایہ کاری کررہا ہے، کوئی تصادم نہیں ہے ۔ انہوں نے کہا کہ سرحدی تنازعہ کے باوجود گزشتہ تیس برسوں کے دوران دونوں طرف سے ایک بھی گولی نہیں چلی اور اس لئے یہ صرف ایک عام خیال ہے اس میں کوئی سچائی نہیں ہے ۔ چین کی شاہراہ ریشم پراجکٹ کے بارے میں محتاط رد عمل ظاہر کرتے ہوئے مودی نے کہا کہ ہمارا احساس ہے کہ دنیا اس سلسلہ میں چین سے ہی وضاحت طلب کرے ۔ مودی نے کہا کہ7500کلو میٹر طویل ساحل رکھنے والا ہندوستان بحر ہند کے تمام ممالک کے ساتھ اپنے تعلقات کو دوستانہ رکھنا چاہتا ہے ساتھ ہی وہ اس سمندر میں سیکوریٹی کی فراہمی پر بھی توجہ مرکوز کررہا ہے ۔ امریکہ کے ساتھ ہندوستان کے تعلقات پر تبصرہ کرتے ہوئے مودی نے کہا کہ دونوں ممالک کے اقدار مشترک ہے ، ہماری دوستی ناقابل تسخیر ہے۔ دونوں ممالک بڑی جمہوریتیں ہیں۔ انہوں نے بتایا یہ بات صحیح ہے کہ میرے اور اوباما کے درمیان مخصوص دوستی ہے ۔ آئندہ ماہ امریکہ کے دورہ کے پیش نظر جو کہ وزیر اعظم بننے کے بعد سے مودی کا چوتھا دورہ ہوگا انہوں نے کہا کہ باہمی تعلقات کے علاوہ دہشت گردی، ماحولیاتی تبدیلی ایسے موضوعات ہیں جس پر دونوں ممالک کے خیالات مشترک ہیں ۔ ہندوستان اور امریکہ کے درمیان تعلقات کافی گرمجوشانہ ہے ۔ ہندوستان امریکہ کے ساتھ تعلقات کسی تیسری ملک کی قیمت پر مضبوط بنانا نہیں چاہتا ہے ، اس لئے امریکہ میں چاہے حکومت ڈیموکریٹس کی ہوری پبلکنس کی ہندوستان کے ساتھ تعلقات میں کوئی فرق نہیں آتا ہے۔ مودی نے کہا کہس ابق صدی کے برعکس جب دنیا دو کیمپوں میں تبدیل ہوگئی تھی حالات آج بدل گئے ہیں اور باہمی انحصار بڑھ گیا ہے ۔ اگر آپ چین اور امریکہ کے درمیان تعلقات کو دیکھیں گے تو ایسے کئی میدان ہیں جہاں دونوں میں اختلافات کھلے طور پر پائے جاتے ہیں ، لیکن اس کے باوجود بھی یہ دونوں ممالک چند میدانوں میں مشترکہ طور پر کام کرتے ہیں ، یہ نیا راستہ ہے ۔ اگر ہم اس بین منحصر دنیا کی کامیابی کو یقینی بنانا چاہتے ہیں تو میرے خیال میں ممالک کو ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرنے کی ضرورت ہے، ساتھ ہی ہمیں اس بات کو یقینی بنانے کی ضرورت ہے کہ بین الاقوامی قواعد اور اصولوں کا بھی پورا احترام ہو۔

--

0 comments:

Post a Comment