Search | تلاش
Archives
TaemeerNews Rate Card

Ads 468x60px

Our Sponsor: Socio Reforms Society India

تعمیر نیوز آرکائیو - TaemeerNews Archive

2016-05-13 - بوقت: 23:53

نظامی کو پھانسی پر پاکستان اور بنگلہ دیش میں سفارتی جنگ

Comments : 0
اسلام آباد، ڈھاکہ
رائٹر
پاکستان اور بنگلہ دیش نے جاریہ ہفتہ بنگلہ دیش میں ایک اسلام پسند قائد مطیع الرحمن نظامی کو پھانسی دینے سے پیدا شدہ تنازعہ کے سلسلہ میں سخت احتجاج کرنے کی خاطر ایک دوسرے کے سفراء کو طلب کیا۔ دونوں فریقوں نے بیانات میں یہ بات بتائی۔ دونوں مسلم ممالک 1971ء کی جنگ آزادی میں علیحدہ ہونے تک بنگلہ دیش کے ایک سکے کے دو رخ ہوا کرتے تھے ۔ بنگلہ دیش گزشتہ چند برسوں سے جنگ کے دوران پاکستانی فوجیوں کی تائید کرنے کے جرائم میں ملوث لوگوں کے خلاف مقدمات چلا رہا ہے اور ان میں سے پانچ کو سزائے موت دی ہے جن میں سے ایک کو کل ہی پھانسی کی سزا دی ۔ پاکستان نے کہا کہ نظامی کو پھانسی دینا، بدبختانہ ہے اور پاکستان کو بدنام کرنے کی بنگلہ دیش کی کوششیں ناقابل تاسف ہیں۔ اگرچیکہ یہ واضح نہیں ہوسکا کہ پاکستان نے کس بنگلہ دیشی بیان کا تذکرہ کیا ہے ۔ بنگلہ دیش نے ڈھاکہ میں پاکستانی سفیر کو پاکستان کے بیانات پر سخت احتجاج درج کرنے کے لئے طلب کیا۔ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات 1971ء کی جنگ کے بعد سے کبھی بحال نہیں ہوئے ۔ بنگلہ دیشی قوم پرستوں نے ہندوستان کی تائید سے مغربی پاکستان سے علیحدگی اختیار کی گئی ۔ اس جنگ میں تقریبا30لاکھ افراد ہلاک ہوئے تھے ۔ بنگلہ دیش کا کہنا ہے کہ ہزاروں عورتوں کی عصمت ریزی کی گئی تھی ۔ بنگلہ دیش کے چند گروپ بشمول جماعت اسلامی نے علیحدگی کی مخالفت کی ہے اور اس کے چند ارکان بشمول نظامی پر2010ء میں قائم بنگلہ دیشی جنگی جرائم ٹریبونل کی جانب سے مقدمہ چلایا گیا ہے ۔ بنگلہ دیش نے ایک بیان میں کہا کہ حکومت بنگلہ دیش گہرے تاسف کا اظہار کرتی ہے کہ بنگلہ دیش کی متعدد یادوانیوں کے باوجود انسانیت کے خلاف جرائم اور بنگلہ دیش میں نسل کشی کے مقدمات کے خلاف پاکستان کی نفرت انگیز مہم جاری ہے ۔ بین الاقوامی انسانی حقوق گروپوں کا کہنا ہے کہ ٹریبونل کا طریقہ کار بین الاقوامی معیارات سے کم تر درجہ کا ہے لیکن بنگلہ دیش اسے مسترد کرتا ہے ۔ ترکی نے آج نظامی کو پھانسی دینے پر آج بنگلہ دیش سے اپنے سفیر کو واپس بلالیا ہے ۔

Bangladesh, Pakistan spat over Nizami execution

0 comments:

Post a Comment