Search | تلاش
Archives
TaemeerNews Rate Card

Ads 468x60px

Our Sponsor: Socio Reforms Society India

تعمیر نیوز آرکائیو - TaemeerNews Archive

2016-04-27 - بوقت: 23:05

اترکھنڈ مسئلہ پر راجیہ سبھا میں پھر ہنگامہ

Comments : 0
نئی دہلی
آئی اے این ایس
اتر کھنڈ میں صدر راج کے مسئلہ پر راجیہ سبھا میں آج پھر ہنگامہ ہوا۔ دیگر اپوزیشن جماعتوں نے اس مسئلہ پر بحث کے لئے کانگریس کے مطالبہ کی تائید کی ۔ کانگریس نے اس مسئلہ پر فوری مباحث کا مطالبہ کیا جس کی بائیں بازو، سماج وادی پارٹی اور بہوجن سماج پارٹی نے تائید کی ۔ کانگریس قائد آنند شرما نے قواعد کا حوالہ دیا اور کہا کہ اگر یہ معاملہ زیر التوا ہو تب بھی مباحث کرائے جاسکتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ ان کی پارٹی اتر کھنڈ میں پیش آنے والے واقعات پر تبادلہ خیال کرنا اور ایک قرار داد منظور کرنا چاہتی ہے ، جہاں جمہوری طور پر منتخبہ حکومت کو مرکزی حکومت نے غیر مستحکم کیا ہے ۔ اگر یہ ایوان اتفاق کرے تو اس مسئلہ پر مباحث کئے جاسکتے ہیں ۔ سماج وادی پارٹی قائد نریش اگر وال اور بی ایس پی قائد مایا وتی نے ا ن کی تائید کی ۔ مایاوتی نے مباحث کی اجازت دینے کرسی صدارت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ جب بی جے پی اور اس کی حلیف جماعتیں اپوزیشن میں تھیں اور کانگریس اور اس کی حلیف جماعتیں بر سر اقتدار تھیں تو اس وقت بھی دفعہ356کا بے جا استعمال کیا گیا تھا۔ اب جب کہ بی جے پی بر سر اقتدار ہے تو وہ بھی اس دفعہ کا درست انداز میں استعمال نہیں کررہے ہیں ۔ اس دفعہ کو سیاسی رنگ دی اگیا اور بے جا استعمال کیا گیا ہے، لہا ہمیں اس پر مباحث چاہتے ہیں ۔ مرکزی مملکتی وزیر پارلیمانی امور مختار عباس نقوی نے جاننا چاہا کہ آیا کانگریس، اس مسئلہ پر مباھث کی خواہاں ہے یا صرف ایوان میں خلل ڈالنا چاہتی ہے ۔ قائد ایوان ارون جیٹلی نے بہر حال کہا کہ متعلقہ عدالتی حکم کے منظر عام پر آنے تک اس مسئلہ پر کوئی بحث نہیں ہوسکتی۔ سپریم کورٹ 27اپریل کو اس مسئلہ پر مزید غور کرے گا۔ ہائی کورٹ نے اتر کھنڈ اسمبلی میں طاقت کی آزمائش کا حکم دیا ہے ، جو29اپریل کو ہونے والی ہے۔ کل بھی ارکان نے قاعدہ267کے تحت اس مسئلہ پر مباحث کرانے کا مطالبہ کیا تھا ۔ جیٹلی نے کہا کہ جہاں تک دفعہ356اور اتر کھنڈ کا تعلق ہے ، ہمیں کافی کچھ کہنا ہے ۔ آزادی کے بعد68سال میں کبھی ایسا نہیں ہوا کہ پریسائڈنگ عہدیداروں نے اقلیت کو اکثریت میں اور اکثریت کو اقلیت میں تبدیل کیا ہو ۔ یہ دستوری مشنری کا حقیقی طورپر ٹوٹ جانا ہے ۔67کے منجملہ35ارکان نے تحریری طور پر کہا ہے کہ ہم نے فینانس بل کے خلاف ووٹ دیا ہے ۔ اس کے باوجود پریسائیڈنگ عہدیدار( اتر کھنڈ اسپیکر) یہ کہتے ہیں کہ اقلیت اکثریت میں ہے ۔ یہ دستوری مشنری کا ٹوٹ جانا ہے ۔ اگر اسپر مباحث ہوں تو ہم یقینا اس میں حصہ لیں گے ، لیکن یہ مباھث اسی وقت ہوسکتے ہیں جب اعلامیہ ایوان کے سامنے ہو۔ اعلامیہ کی اجرائی سے قبل دفعہ356پر بحث کا کوئی طریقہ نہیں ۔ کانگریس ارکان نعرے لگاتے ہوئے صدر نشین کے پوڈیم کے قریب پہنچ گئے ، جس کے بعد ایوان کی کارروائی دوپہر تک ملتوی کردی گئی ۔ دوپہر میں وقفہ سوالات کے لئے ایوان کی کارروائی دوبارہ شروع ہوئی تو اس وقت بھی یہ مناظر دیکھنے میں آئے ۔ برہم صدر نشین حامد انصاری نے پہلے12:05بجے اور پھر دو بجے دن تک ملتوی کردیا۔

--

0 comments:

Post a Comment