Search | تلاش
Archives
TaemeerNews Rate Card

Ads 468x60px

Our Sponsor: Socio Reforms Society India

تعمیر نیوز آرکائیو - TaemeerNews Archive

2016-04-17 - بوقت: 22:02

بڑی تعداد میں مقدمات کا زیر التوا رہنا تشویشناک - صدر جمہوریہ پرنب مکرجی

Comments : 0
بھوپال
یو این آئی
صدر جمہوریہ پرنب مکرجی نے آج جنوں کو عدالتی فعالیت کے خلاف انتباہ دیتے ہوئے کہا کہ حکام کے کام کاج میں مناسبت کو ہر وقت برقرار رکھنا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ اگر حکام ایک دوسرے کے مد مقابل ہو تو ایسی صورتحال میں اپنے آپ پر قابو رکھنا ضروری ہے ۔ صدر جمہوریہ نے کہا کہ دستور کو ہمیشہ سب سے اعلیٰ ہے ۔ صدر جمہوریہ پرنب مکرجی نے نئی دہلی میں واقع ادارہ نیشنل جوڈیشیل اکیڈمی میں سپریم کورٹ کے ججوں کی ایک تقریب کا افتتاح کے بعد خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جمہوریت کے تین مضبوط ستونوں مقننہ، انتظامیہ اور عدلیہ کو ا پنے دائرے میں رہ کر توازن کے ساتھ کام کرنا چاہئے ۔ دستور کے سب پر مقدم ہونے پر زور دیتے ہوئے پرنب مکرجی نے کہا کہ حکام کے کام کاج میں ہمیشہ مناسبت برقرار رکھنا ضروری ہے ۔ انہوں نے کہا کہ قانون سازوں اور عاملہ کی جانب سے اختیارات کا استعمال، عدالتی نظر ثانی کے دائرہ میں آتا ہے ۔ تاہم اس کی تنقیح صرف عدلیہ کی جانب سے اقتدار کا استعمال کے خود کی جانب سے ڈسپلن قائم رکھنے اور خود پر قابو رکھنے سے ممکن ہوسکے گی۔ تاہم صدر جمہوریہ نے کہا کہ عدلیہ کی آزادی اور سالمیت کو سب سے زیادہ اہمیت حاصل ہے اور یہ آزادی اور سالمیت نہ صرف ججوں کے لئے بلکہ ایسے عوام کے لئے بڑی اہم ہوتی ہیں جو حکام کے خلاف یا ان کی قانون حقوق مجروح ہونے پر عدالت سے رجوع ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دستور ہند میں عدلیہ خصوصاً سپریم کورٹ کو آزاد رکھا گیا ہے جس کے دائرہ کار میں عاملہ کے ساتھ ساتھ قانون سازوں کی کارروائی بھی آتی ہے ۔ عدالتی نظر ثانی سپریم کورٹ کے بنیادی ڈھانچہ کا ایک حصہ ہے اور اس میں قانونی طریقہ کار سے کسی بھی طرح سے رد و بدل نہیں کیاجاسکتا ۔ پرنب مکرجی نے کہا کہ عدالتی فعالیت کی وجہ سے آئین میں اختیارات کی تقسیم کا نظام کمزور نہیں ہونا چاہئے ۔

--

0 comments:

Post a Comment