Search | تلاش
Archives
TaemeerNews Rate Card

Ads 468x60px

Our Sponsor: Socio Reforms Society India

تعمیر نیوز آرکائیو - TaemeerNews Archive

2016-04-16 - بوقت: 23:47

کشمیر میں فوج کی فائرنگ - ایک نوجوان ہلاک اور تین زخمی

Comments : 0
سری نگر
پی ٹی آئی
کشمیر میں آج بھی صورتحال ابتر رہی ، وادی کے کئی حصوں میں پر تشدد جھڑپوں میں مزید ایک نوجوان ہلاک اور دیگر47افراد بشمول 40سیکوریٹی جوان زخم ہوگئے ۔ یہ جھڑپیں کپواڑہ سے آگے پھیل گئی ہیں جو چار روزہ بے چینی کا اصل مرکز ہے ۔ ایک پولیس عہدیدار نے بتایا کہ18سالہ سالہ نوجوان عارف حسین اس وقت ہلاک ہوگیا جب سیکوریٹی فورسس نے سنگباری کرنے والے ہجوم کو منتشر کرنے کے لئے فائرنگ کردی ۔ اس فائرنگ میں دیگر تین افراد زخمی ہوئے ۔ چیف منسٹر محبوبہ مفتی نے اس ہلاکت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا اور عوام سے اپیل کی کہ وہ ریاست میں امن کو درہم برہم کرنیو الے عناصر کے نفرت انگیز عزائم کے خلاف چوکس رہیں ۔ مقامی باشند ہندواڑہ میں تین افراد کی ہلاکتوں کے خلاف احتجاج کررہے تھے۔ احتجاجی ایک لڑکی سے مبینہ دست درازی پر سیکوریٹی فورسس کے خلاف احتجاج کررہے ہیں ۔ تین زخمی افراد کو ہاسپٹل منتقل کیا گیا ۔ ایک فوجی عہدیدار نے بتایا کہ کیمپ پر ہجوم کے ہلہ بولنے کی کوشش پر فورسس نے فائرنگ کی۔ انہوں نے بتایا کہ احتجاجیوں کا ایک گروپ فوجی کیمپ پر سنگباری کررہا تھا لیکن سپاہیوں نے صبر و تحمل کا مظاہرہ کیا تاہم صورتحال اس وقت قابو سے باہر وہگئی جب بڑی تعداد میں احتجاجیوں نے تمام سمتوں سے کیمپ پرہلہ بولنے کی کوشش کی ۔ آج کی ہلاکت سے منگل کو شروع ہونے والی بے چینی میں مہلوکین کی تعدا د بڑھ کر پانچ ہوگئی ہے۔ ضلع کپواڑہ میں منگل سے گڑبڑ دیکھنے میںآ رہی ہے ۔ آج احتجاج وادی کے دوسرے حصوں میں بھی پھیل گیا ۔ ان میں ضلع بارہمولہ کا سوپور ٹاؤن ، ضلع پلواما کا ترل ، ضلع اننت ناگ کا بیج بہا ، سری نگر سٹی اور ضلع گندر بل کا کنگن علاقہ شامل ہے ۔ دیگر علاقوں میں بھی پر تشدد احتجاج دیکھنے میں آیا۔ کپواڑہ، ٹاؤن میں احتجاج کے دوران سیکوریتی فورسس کی کارروائی میں دو شہری زخمی ہوئے۔ ایک عہدیدار نے بتایا کہ شوکت احمد کے سرپر آنسو گیس شل لگا، اسے ہاسپٹل منتقل کیا گیا جب کہ ساجد احمدبٹ کے پیر میں گولی لگی ۔ ایک پولیس ترجمان نے بتایا کہ جھڑپوں میں چالیس سے زائد جوان زخمی ہوئے ہیں ۔ زخمی پولیس جوانوں میں ایک پتھر لگنے سے زخمی ہوا ۔ سوپور میں نماز جمعہ کے بعد چالیس افراد کے ایک گروپ نے سنگباری کی، ترل ٹاؤن میں احتجاجیوں نے سی آر پی ایف کے کیمپ پر پتھراؤ کیا ، لیکن انہیں تعاوب کرکے بھگا دیا گیا۔ ایک سرکاری ترجمان نے بتایا کہ چیف منسٹر نے ضلع کپواڑہ میں ایک نوجوان کیا فسوسناک موت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ۔ چیف منسٹر نے عوام سے اپیل کی کہ صبر و ضبط کا مظاہرہ کریں اور چوکس رہیں ۔ علیحدگی پسند گروپو ں بشمول جے کے ایل ایف اور میر واعظ عمر فاروق کی زیر قیادت حریت کانفرنس نے سری نگر میں ہلاکتوں کے خلاف علیحدہ علیحدہ احتجاجی مظاہرے کرنے کی کوشش کی لیکن ولیس نے ان کی کوششیں ناکام بنادیں اور بیشتر کارکنوں کو حراست میں لے لیا۔ میر واعظ اور سخت گیر حریت کانفرنس کے صدر نشین سید علی شاہ گیلانی گھر پر نظر بند ہیں جب کہ صدر جے کے ایل ایف محمد یسین ملک کو احتیاطی طور پر حراست میں لیا گیاہے ۔ علیحدگی پسندگروپوں بشمول سخت گیر حریت کانفرنس نے تازہ اموات کے خلاف بطور احتجاج کل بند کی اپیل کی ہے۔ کشمیر یونیورسٹی نے کل ہونے والے تمام امتحانات کو ملتوی کرنے کا اعلان کیا ہے ۔یونیورسٹی کے ترجمان نے کہا کہ ان امتحانات کی آئندہ تواریخ کا بعد میں اعلان کیاجائے گا۔
سری نگر، نئی دہلی
پی ٹی آئی
ہندواڑہ ہلاکتوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے سی پی ایم نے آج مرکز اور ریاستی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ سیکوریٹی فورسس کو احتجاجیوں پر فائرنگ نہ کرنے کی سخت ہدایات جاری کریں اور زور دیا کہ موجودہ صورتحال سے زیادہ پر امن طریقہ سے نمٹا جائے ۔ اس طرح کے سابق تجربات سے سبق حاصل کرنے میں قانون نافذ کرنے والی ایجنسیوں کے انکار پر تنقید کرتے ہوئے سی پی ایم نے انتباہ دیا کہ ہر موت سے صورتحال مزید بھڑکے گی اور خطہ میں گڑ بڑ کو فوری ختم کرنے کا مطالبہ کیا ۔ بائیں بازو جماعت نے واقعہ کی قابل بھروسہ تحقیقات کرنے پر زور دیا اور کہا کہ سنگباری کرنے والے نہتے ہجوم پر فائرنگ نہیں کرنا چاہئے ۔
کانگریس نے آج گورنر جموں و کشمیر پر زور دیا کہ وہ صورتحال پر گہری نظر رکھیں جو کہ نہایت ابتر ہوگئی ہے ۔ پارٹی ترجمان منیش تیواری نے الزام عائد کیا کہ جب سے پی ڈی پی۔ بی جے پی حکومت نے اقتدار سنبھالا ہے، پر تشدد واقعات پیش آرہے ہیں جس سے واضح پتہ چلتا ہے کہ حکومت کا صورتحال پر کنٹرول نہیں ہے ۔ انہوں نے کہا چونکہ جموں و کشمیر ایک سرحدی ریاست ہے اس لئے لازمی ہے کہ گورنر صورتحال پر گہری نظر رکھیں ۔ وادی میں بڑھتے ہوئے احتجاج پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ صورتحال کی ابتری کے پیش نظر چوکسی اختیار کی جانی چاہئے اور صورتحال پر گہری نظر رکھنا چاہئے ۔ انہوں نے کہا کہ انٹر نیٹ خدمات کی معطلی ، بڑھتی ہوئی کشیدگی اور سنگباری کے واقعات سے پتہ چلتا ہے کہ صورتحال زیادہ اچھی نہیں ہے ۔

--

0 comments:

Post a Comment