Search | تلاش
Archives
TaemeerNews Rate Card

Ads 468x60px

Our Sponsor: Socio Reforms Society India

تعمیر نیوز آرکائیو - TaemeerNews Archive

2016-04-14 - بوقت: 21:54

گورنر اترپردیش نے راج بھون کو آر ایس ایس بھون میں تبدیل کر دیا - اعظم خان کا الزام

Comments : 0
لکھنو
یو این آئی
اتر پردیش کے وزیر پارلیمانی امور اعظم خان نے گورنر رام نائک پر تنقید کرتے ہوئے ان پر راج بھون کو آر ایس ایس بھون میں تبدیل کرنے کا الزام عائد کیا ۔ آر ایس ایس کے ساتھ گورنر کی ماضی کی رفاقت پر تنقید کرتے ہوئے اعظم خان نے آج دوسرے دن کہا ہم آر ایس ایس جیسی غیر منتخب تنظیم کے ارکان نہیں ہیں بلکہ عوام کے منتخبہ ہیں ۔ گورنر کو اتنی معلومات ہونی چاہئے کہ اسمبلی کے ارکان وزیر کی حیثیت سے نہیں بلکہ ایوان کے رکن کی حیثیت سے تقریر کرتے ہیں۔ عوام نے ہمیں منتخب کیا ہے ناکہ آر ایس ایس نے ہمیں بھیجا ہے ۔ اعظم خان نے گورنر پر جمہوریت اور جمہوری اداروں کو نقصان پہنچانے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ گورنر جمہوریت کی جڑوں کو ہی کھود رہے ہیں ۔ میں، گورنر کے رویہ پر شدید احتجاج کرتا ہوں جنہوں نے راج بھون کو آر ایس ایس بھون میں تبدیل کردیا ہے ۔ انہیں کابینہ سے میرے استعفیٰ کا مطالبہ کرنے کا بھی کوئی حق نہیں ہے ۔ گورنر کو ریاستی حکوت کے معاملات میں دخل اندازی اور چیف منسٹر کو ہدایت دینا روکنا چاہئے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ گورنر کے لئے بہتر ہوگا کہ وہ سیاست میں ملوث ہونے کے بجائے اپنی دستوری ذمہ داریوں پر توجہ مرکوز کریں۔ وزیر کی حیثیت سے مجھے نا اہل قرار دینے اور میرے استعفیٰ کا مطالبہ کرنے کے بجائے گورنر کو یہ سوچنا چاہئے کہ آیا وہ ریاستی گورنر کے دستوری عہدہ پر فائز ہونے کے مستحق ہیں ۔ انہوں نے مزید کہا کہ رام نایک کو سوچنا چاہئے کہ انہیں گورنر کی حیثیت سے برقرار رہنے کا حق ہے ، کیا انہیں کابینہ سے مجھے بر طرف کرنے کا حق حاصل ہے ، کیا گورنر نے مجھے کابینہ میں شامل کیا تھا۔ راج بھون کی جانب سے بلوں کو منظوری نہ دینے پر گورنر کے ساتھ ریاستی حکومت کے تنازعہ کا تذکرہ کرتے ہوئے اعظم نے کہا کہ غالباً ریاستی حکومت سے گورنر خوش ہوسکتے ہیں لیکن راج بھون کو بدعنوان میئرس اور شہری مقامی مجالس کے دیگر منتخبہ عہدیداروں کو تحفظ نہیں دینا چاہئے ۔ انہوں نے کہا کہ راج بھون قانون سے بالاتر نہیں ہے ۔ اعظم خان نے کل چیف منسٹر اکلھیش یادو کی موجودگی میں قنوج مین گورنر پر شدید تنقید تھی۔

--

0 comments:

Post a Comment