Search | تلاش
Archives
TaemeerNews Rate Card

Ads 468x60px

Our Sponsor: Socio Reforms Society India

تعمیر نیوز آرکائیو - TaemeerNews Archive

2016-04-17 - بوقت: 21:58

جموں و کشمیر کو مرکز کی جانب سے مزید فورس روانہ

Comments : 0
نئی دہلی
پی ٹی آئی
جموں و کشمیر میں گزشتہ چار روز کے دوران تشدد پر متفکر مرکز نے زائد از3600اضافی ٹیم فوجی فورسس وادی روانہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور ریاستی حکومت سے اس بات کو یقینی بنانے کے لئے کہا کہ جانو کا مزید اتلاف نہ ہو۔ مزید فورسس روانہ کرنے کا فیصلہ یہاں ایک اعلیٰ سطحی اجلاس میں کیا گیا ، جس میں جموں و کشمیر کی صورتحال پر وسیع تر تبادلہ خیال کیا گیا۔ منگل سے جاری پر تشدد مظاہروں کے دوران سیکوریٹی فورسس کی کارروائی میں پانچ افراد کی ہلاکت کے بعد کشمیر کے بعض علاقوں میں آج مسلسل چوتھے دن کرفیو جیسی تحدیدات نافذ رہیں ۔ وزارت داخلہ کے ایک ترجمان نے بتایا کہ مرکزی حکومت کو جموں و کشمیر میں جانوں کے اتلاف پر تشویش ہے۔ معتمد فینانس رتن واٹل نے جو مرکزی معتمد داخلہ کا اضافی عہدہ سنبھال رہے ہیں ، اجلاس کی صدارت کی، جس میں انٹلی جنس بیورو، وزارت دفاع ، مرکزی مسلح پولیس فورس اور وزارت داخلہ کے سینئر عہدیداروں نے شرکت کی ۔ اس میٹنگ میں وادی کشمیر کی موجودہ صورتحال اور اس پر قابو پانے حکومت جموں و کشمیر کی ضروریات کا ائزہ لیا گیا۔ عہدیداروں نے بتایا کہ اس میٹنگ میں فیصلہ کیا گیا کہ وادی کشمیر میں سیکوریٹی کو مستحکم بنانے اضافی مرکزی پولیس فورس روانہ کی جائے ۔ نیم فوجی فورسس کے بارہ دستے آج ہی وادی پہنچ جائیں گے ۔ جب کہ کل تک مزید 24دستے وہاں پہنچیں گے ۔ واضح رہے کہ نیم فوجی فورس کا ایک دستہ تقریبا100جوانوں پر مشتمل ہوتا ہے ۔ وزارت داخلہ، جموں و کشمیر کے سینئر عہدیداروں سے مسلسل ربط میں ہے اور باقاعدہ اساس پر صورتحال پر نظر رکھ رہی ہے ۔ اس نے حالات کو معمول پر لانے ریاستی حکومت کو مکمل تعاون و مدد کا تیقن دیا ہے ۔ آج کی میٹنگ میں وزیر اعظم نریندر مودی کی جانب سے نومبر2015میں دورہ کشمیر کے موقع پر معلنہ ترقیاتی پیکیج کا بھی جائزہ لیا گیا ۔ ترجمان نے بتایا کہ جموں و کشمیر کی مجموعی ترقی کے لئے اس پیکیج کو تیزی سے روبہ عمل لایاجارہا ہے ۔ توقع ہے کہ اس پیکیج کی وجہ سے مقامی نوجوانوں کے لئے روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے اور ریاست میں خوشحالی آئے گی۔ گزشتہ روز تشدد کی تازہ لہر میں18سالہ نوجوان عارف حسین ڈار ہلاک ہوگیا، جب کہ سنگباری کرنے والے مظاہرین کو منتشر کرنے فوج کی فائرنگ میں دیگر تین نوجوان زخمی ہوگئے۔ یہ واقعہ کپواڑہ کے ناتھ نوسا علاقہ میں ایک کیمپ کے باہر پیش آیا، ساری وادی میں موبائل انٹر نیٹ خدمات مکمل طور پر منقطع کردی گئی ہیں، تاکہ افواہوں کو پھیلنے سے روکا جاسکے ۔ عہدیدار نے بتایا کہ گزشتہ روز جھڑپوں میں سیکوریٹی فورس کے زائد از40جوان زخمی ہوگئے۔ شدید اشتعال انگیزی کے باوجود فورسس نے زیادہ سے زیادہ تحمل برتا۔ انہوں نے بتایا کہ میر محلہ، ہائی ہہ چوک ، کپواڑہ کے کرال پورہ، کرانل گنج، ہند واڑہ کے مگم اور سمنٹ برج علاقوں مٰیں کل سنگباری کے واقعات پیش آئے ۔
سری نگر سے پی ٹی آئی کی علیحدہ اطلاع کے بموجب کشمیر میں تازہ بے چینی کے ساتھ ہی حکمراں پیپلز ڈیمو کریٹک پارٹی نے آج کہا کہ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ مفادات حاصلہ تشد د کو ہوا دیتے ہوئے مقامی معیشت کو غیر مستحکم اور تباہ کرنا چاہتے ہیں ۔ پی ڈی پی یوتھ ونگ کے صدر وحید پارا نے جو سابق چیف منسٹر مفتی محمد سعید کے مشیر رہے ہیں ، کہا کہ تمام فکر ساز افراد کو متحد ہوکر ایسے مفادات حاصلہ کو اپنے ناپاک منصوبوں کو عملی جامہ پہنانے سے روکنا چاہئے ۔ انہوں نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ مفادات حاصلہ، کشمیر میں تشدد کے چکر کو جاری رکھنا چاہتے ہیں اور مقامی معیشت کو غیر مستحکم اور تباہ کرنے کے خواہاں ہیں ، ہمیں بحیثیت کشمیری تشددکے مماثل واقعات کے طرز پر غور کرنا چاہئے جو ریاست میں کسی نئی حکومت کے جائزہ لینے اور کشمیر میں سیاحتی موسم کے آغاز کے ساتھ ہی رونما ہوتے ہیں ۔

--

0 comments:

Post a Comment