Search | تلاش
Archives
TaemeerNews Rate Card

Ads 468x60px

Our Sponsor: Socio Reforms Society India

تعمیر نیوز آرکائیو - TaemeerNews Archive

2016-04-08 - بوقت: 17:00

تنزیل احمد قتل کیس میں کسی کو گرفتار نہیں کیا گیا

Comments : 0
لکھنو
پی ٹی آئی
این آئی اے عہدیدار تنزیل احمد قتل کیس کے سلسلہ میں کئی افراد سے پوچھ گچھ کی گئی ہے لیکن تا حال کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آئی اور نہ کسی کو حراست میں لیا گیا ہے۔ پولیس نے آج یہ بات بتائی ۔ ایڈیشنل ڈائرکٹر جنرل پولیس( لا اینڈ آرڈر) دلجیت سنگھ چودھری نے یہاں پی ٹی آئی کو بتایا کہ ہم متعدد افراد سے پوچھ گچھ کررہے ہیں، لیکن کوئی ٹھوس چیز سامنے آتی ہے تو ہم میڈیا کو اس سے واقف کرائیں گے ۔ وہ میڈیا کی بعض اطلاعات کا جواب دے رہے تھے جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ مہلوک این آئی اے عہدیدار کے ایک رشتہ دار کو حراست میں لیا گیا ہے ۔ یہاں یہ تذکرہ مناسب ہوگا کہ انڈین مجاہدین سے متعلق دہشت گردی کے معاملات کی تحقیقات میں مصروف تنزیل احمد کو دو نامعلوم موٹر سائیل سواروں نے تین اپریل کو گولی ماردی تھی ۔ انہوں نے تنزیل احمد کی اہلیہ کو بھی زخمی کردیا تھا ۔ یہو اقعہ اس وقت پیش آیا تھا جب وہ اتر پردیش کے بجنور ٹاؤن کے قریب ایک شادی سے واپس ہورہے تھے ۔ ایدیشنل ڈائرکٹر جنرل نے کل کہا تھا کہ شاید اس قتل کی وجہ شخصی مخاصمت ہو اور اس توقع کا اظہار کیا تھا کہ وہ جلدا ز جلد بعض سراغوں پر کام کرتے ہوئے اس کیس کو حل کرلیں گے ۔ چودھری نے کہا تھا کہ ہم بعض سراغوں کڑیوں پر کام کررہے ہیں، بالخصوص شخصی معاملات پر اور فارنسک شواہد کا جائزہ لے رہے ہیں ، کچھ چیزیں ایسی ہیں جو شخصی مخاصمت کی طرف اشارہ کرتی ہیں ۔ آئی اے این ایس کے بموجب اتر پردیش پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ این آئی اے عہدیدار تنزیل احمد کو جائیداد کے تنازعہ کے نتیجہ میں شخصی مخاصمت کی وجہ سے گزشتہ ہفتہ گولی مار دی گئی تھی ۔ ایک سینئر پولس عہدیدار نے بتایا کہ اس معاملہ کی تحقیقات جاری ہیں ، تاہم انہوں نے اس مشہور قتل کیس کے پس پردہ مقصدکا شخصی زاویہ سے جائزہ لیا ہے ۔ پولیس نے جن دو افراد کو حراست میں لیا ہے ان میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کا ایک سابق طالب علم اور دوسرا ایک نشانہ باز اور کرایہ کا قاتل ہے ۔ ذرائع نے بتایا کہ تنزیل احمد کو نئی دہلی میں واقع ایک دکان کے جھگڑے کے سلسلہ میں ہلاک کیا گیا ہے ۔ بجنور سے تعلق رکھنے والے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے سابق طالب علم منیر احمد کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ذرائع نے بتایا کہ تنزیل کے آبائی موضع کے ایک دیہاتی نے انہیں قتل کرنے کی سپاری دی تھی ۔ قتل کے دوران حملہ آوروں کی جانب سے مبینہ طور پر استعمال کی گئی پلسر گاڑی بھی بریلی سے برامد کرلی گئی ہے ۔ سینئر عہدیدار دیپک رتن نے بتایا کہ کچھ اہم سراغ ہیں، جن کی بنیاد پر لائحہ عمل طے کیاجارہا ہے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ فی الحال تمام زاویوں سے تحقیقات کی جارہی ہیں ۔

--

0 comments:

Post a Comment