Search | تلاش
Archives
TaemeerNews Rate Card

Ads 468x60px

Our Sponsor: Socio Reforms Society India

تعمیر نیوز آرکائیو - TaemeerNews Archive

2016-04-12 - بوقت: 20:44

ریاستیں سخت مالیاتی ڈسپلن قائم کریں - ارون جیٹلی

Comments : 0
نئی دہلی
پی ٹی آئی
مرکزی محاصل میں ریاستوں کے حصہ میں اضافہ کے پیش نظر مرکزی وزیر فینانس ارون جیٹلی نے ریاستوں کو مشورہ دیا کہ وہ اپنے ہاں سخت مالیاتی ڈسپلن نظم و ضبط قائم کریں اور رقومات کا انفراسٹرکچر و ترقیاتی سر گرمیوں میں استعمال کریں او ر آدھار کے ذریعہ عوام تک فوائد کو پہنچائیں ۔ ریاستی فینانس سکریٹریز کی دوسری کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ارون جیٹلی نے کہا کہ غیر ترقیاتی سر گرمیوں پر رقومات خرچ کرنے کے رجحان سے قلیل معیادی کشش تو پیدا ہوسکتی ہے لیکن ا س سے طویل معیادی نتائج حاصل نہیں کئے جاسکتے ۔ مرکزی محاصل میں ریاستوں کے حصہ میں قابل لحاظ اضافہ ہوا ہے ۔ جیٹلی نے کہا کہ14ویں فینانس کمیشن کی رپورٹ میں بتایا گیا ہیکہ مرکزی حاصل میں ریاستوں کا حصہ دس فیصد تک بڑھا کر اسے 42فیصد کردیا گیا ہے ۔ 13ویں فینانس کمیشن میں ریاستی حکومتیں جو حاصل کرتی ہیں اور اب جو حاصل کررہے ہیں اس میں واضح طور پر فرق دیکھا جارہا ہے ۔ اس میں چند مدوں میں کمی دیکھی جاسکتی ہے لیکن واضح طور پر ریاستوں کے حصہ کے حجم میں اضافہ ہوا ہے ۔ اب ہم پر ایک اہم ذمہ داری یہ آتی ہے کہ ہم سر گرمی کے ساتھ اس حصہ کو خرچ کریں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ کہاں اور کس طرح محاصل کو استعمال کرنا ہے۔ جیٹلی نے کہا کہ قومی توجہ اخراجات کے بڑے حصہ کو سماجی بہبود کے شعبہ، انفراسٹرکچر کی پیداوار اور دیہی علاقوں میں رقومات کے استعمال پر ہے جس پر ماضی میں ناکافی کام ہوا ہے اس لئے ہماری توجہ ان خصوصی اخراجات پر ہے۔ وسائل کی عوام تک رسائی کے بارے میں بات کرتے ہوئے وزیر فینانس نے کہا کہ عوام تک فوائد ہنچانے کے لئے آدھار کے ذریعہ راست فوائد کی منتقلی مستقبل میں ہمارا واضح ایجنڈہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں اس بات کو بھی یقینی بنانا ہے کہ چند ریاستیں متعینہ صورت کے باوجود اضافی مالیاتی فوائد پر ہی منحصر ہیں لیکن ہم تمام کو اپنے حصہ میں ہی رہنا اور خرچ سیکھنا ہوگا ۔ اس کے علاوہ ہمارے ہاں مالیاتی ڈسپلن کو قائم کرنا ہوگا۔ جیٹلی نے کہا کہ ہم نے جب سے مالیاتی ڈسپلن کے ساتھ خرچ کرنے کی طرف رغبت کی ہے شرح سود کی شکل میں اس کے فوری نتائج برآمد ہوئے۔

--

0 comments:

Post a Comment