Search | تلاش
Archives
TaemeerNews Rate Card

Ads 468x60px

Our Sponsor: Socio Reforms Society India

تعمیر نیوز آرکائیو - TaemeerNews Archive

2016-04-29 - بوقت: 23:15

پاکستان کے متعلق نریندر مودی حکومت کا نرم رویہ - کانگریس کا الزام

Comments : 0
نئی دہلی
یو این آئی
لوک سبھا میں کانگریس اراکین نے پٹھان کوٹ میں دہشت گردانہ حملے کی تفتیش کے لئے آئے پاکستانی تفتیشی ٹیم میں خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کے رکن کی موجودگی پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے آج الزام لگایا کہ پاکستان کے تئیں مودی حکومت نرم پالیسی پر عمل پیرا ہے ۔ وقفہ سوالات شروع ہونے سے پہلے لوک سبھاکی اسپیکر سمترا مہاجن سے یہ معاملہ اٹھانے کی خصوصی اجازت لینے کے بعد کانگریس کے جیوترادتیہ سندھیا نے کہا کہ پاکستان کے ساتھ مضبوطی سے بات کرنے کی سخت ضرورت ہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے تئیں جذباتی ہوکر پالیسیاں وضع کرنا درست نہیں ہے ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی مشترکہ تفتیشی ٹیم میں پاکستانی خفیہ ایجنسی کا ایک رکن بھی شامل تھا ۔ اس کے بعد جب قومی تفتیشی ٹیم کو پاکستان بھیجنے کی بات آئی تو پاکستان کا رخ اس کے لئے غیر معاون رہا۔ انہوں نے اس سلسلے میں پاکستانی ہائی کمشنر کے اس بیان کا حوالہ دیا جس میں انہوں نے کہا کہ تفتیش کا معاملہ باہمی تعاون کا ہے اس سلسلے میں تبادلے کا معاملہ نہیں ہے ۔ انہوں ںے ایک پریس کانفرنس میں پاکستانی ہائی کمشنر برائے ہند عبدالباسط کے ریمارک کا حوالہ دیا جس میں انہوں نے کھلے طور پر اس خیال کو مسترد کردیا تھا کہ این آئی اے کی دورہ کنندہ ٹیم سے تعاون کرنا مشترکہ تحقیقاتی ٹیم سے تعاون کے متبادل کے طور پر نہیں ہے ۔ جب کہ این آئی اے کے سربراہ شرد کمار نے کہا ہے کہ مشترکہ تحقیقاتی ٹیم متبادل تعاون کی بنیاد پر دورہ کررہی ہے ۔ اس نکتہ پر سندھیا سے اسپیکر سوال کیا ، لیکن کانگریس کے دیگر ارکان گڑ بڑ کرتے رہے ۔ ایوان کی کارروائی آگے بڑھاتے ہوئے اسپیکر مہاجن نے کہا کہ سندھیا آپ کا وقت ختم ہوچکا ہے ، جو کچھ بھی آپ کہہ رہے ہیں یا دیگر ارکان کہہ رہے ہیں وہ ریکارڈ میں شامل نہیں کیاجائے گا۔

--

0 comments:

Post a Comment