Search | تلاش
Archives
TaemeerNews Rate Card

Ads 468x60px

Our Sponsor: Socio Reforms Society India

تعمیر نیوز آرکائیو - TaemeerNews Archive

2016-04-26 - بوقت: 23:01

مالیگاؤں دھماکے کیس - 8 مسلم نوجوان بری

Comments : 0
ممبئی
آئی اے این ایس
خصوصی عدالت نے9مسلم نوجوان کو جن مین ایک اب اس دنیا میں نہیں رہا ،2006کے مالیگاؤں سلسلہ وار بم دھماکے کیس میں ڈسچارج کردیا۔ وکیل صفائی نے یہ بات بتائی۔ خصوصی مکوکا عدالت نے دوپہر میں فیصلہ سنایا۔ وکیل شاہد ندیم انصاری نے آئی اے این ایس کو یہ بتا بتائی ۔9ملزمین میں ایک شبیر احمد مسیح اللہ کی موت چند ماہ قبل ایک حادثہ میں ہوگئی تھی ۔ ان تمام نے گرفتاری کے بعد کم از کم 5سال جیل میں گزارے تھے ۔ ڈسچارج ہونے والے8نوجوان میں نورالہدیٰ شمس الضحیٰ، رئیس احمدرجب علی منصوری، سلمان فارسی عبداللطیف ایمی، فاروق اقبال احمدمخدومی ، شیخ محمد علی عالم ، آصف بشیر خان، محمد زاہد عبدالمجید انصاری اور ابرار احمد غلام احمد شامل ہیں ۔ انہیں مالیگاؤں دھماکے کیس میں جس میں37افراد ہلاک اور100سے زائد زخمی ہوئے تھے ، گرفتار اور چارج شیٹ کیا گیا تھا ۔ انہیں نومبر2011میں ضمانت پر رہا کردیا گیا تھا۔8ستمبر2006کو شب برات کے موقع پر ایک مسجد اور قبرستان کے نزدیک دھماکے ہوئے تھے ۔ بم دو سیکلوں پر نصب کئے گئے تھے جو باہر پارک کی گئی تھیں۔ دھماکوں کے بعد بھگڈر مچ گئی تھی۔ لشکر طیبہ، اسٹوڈنٹس اسلامک موومنٹ آف انڈیا( سیمی) اور جیش محمد جیسی تنظیموں پر شبہ کیا گیا تھا اور ان کے خلاف تحقیقات ہوئی تھیں۔ ملزمین میں بعض کے ممنوعہ سیمی سے مبینہ روابط تھے ،12 اپریل کو پچھلی سماعت میں این آئی اے کے وکیل پرکاش سیٹھی نے خصوصی جج سے کہا تھا کہ عدالت کو ملزمین کی درخواست ڈسچارج کا فیصلہ کرنا چاہئے ۔ این آئی اے نے جس نے مہاراشٹرا اے ٹی ایس اور سی بی آئی سے تحقیقات کا ذمہ اپنے سر لے لیا تھا، کہا کہ اسے ملزمین کے دھماکوں سے ربط کا کوئی ثبوت نہیں ملا۔ اس طرح ان کے ڈسچارج کی راہ ہموار ہوگئی تھی ۔ مالیگاؤں حساس مسلم اکثریتی ٹاؤن ہے اور یہ ممبئی سے شمال مغربی سمت تقریباتین سو کلو میٹر کے فاصلہ پر واقع ہے۔ یہاں ایک اور دھماکہ29ستمبر 2008کو ہوا تھا جس کی مبینہ منصوبہ سازی بعض ہندو بنیاد پرست گروپس کی تھی۔ پی ٹی آئی کے بموجب2006مالیگاؤں بم دھماکے کیس میں 8مسلم نوجوانوں کے خلاف ممبئی کی ایک خصوصی عدالت نے ثبوت نہ ہونے پر الزامات حذف کردئے ۔ ملزمین کو مہاراشٹرا کنٹرول آف آرگنائزڈ کرائم ایکٹ( مکوکا) عدالت کے جج وی وی پاٹل نے تقریبا دس برس بعد بری کردیا۔ مالیگاؤں، ناسک کے قریب واقع ہے۔ جج نے کہا کہ وہ آٹھ ملزمین کی درخواست ڈسچارج قبول کرتے ہیں کیونکہ ان کے خلاف کوئی ثبوت نہیں ہے۔
ناسک
پی ٹی آئی
مالیگاؤں بم دھماکہ کیس میں آج آٹھ مسلم نوجوانوں کو بری کرنے کے ممبئی کی ایک خصوصی عدالت کے فیصلہ کا خیر مقدم کرتے ہوئے این سی پی کے رکن اسمبلی آصف شیخ نے مطالبہ کیا کہ نوجوان کو پھانسنے پر اے ٹی ایس عہدیداروں کو سزا دی جائے ۔ مالیگاؤں کے رکن اسمبلی جہاں سے نوجوانوں کا تعلق ہے کہا کہ میں کیس میں نوجوانوں کو پھانسنے اور جیل میں ڈالتے ہوئے ان کی زندگیوں کو تباہ کرنے کے ذمہ دار اے ٹی ایس عہدیداروں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کرتا ہوں ۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو نوجوانوں کو بطور معاوضہ فی کس پچاس لاکھ روپے ادا کرنا چاہئے ۔

2006 Malegaon blast case: All 8 Muslim accused acquitted

0 comments:

Post a Comment