Search | تلاش
Archives
TaemeerNews Rate Card

Ads 468x60px

Our Sponsor: Socio Reforms Society India

تعمیر نیوز آرکائیو - TaemeerNews Archive

2016-04-30 - بوقت: 23:22

دفاعی پیداوار میں ملک صد فیصد خود مکتفی نہیں ہو سکتا - وزیر دفاع منوہر پاریکر

Comments : 0
نئی دہلی
حکومت نے آج لوک سبھا میں مطلع کیا کہ دفاعی پیداوار کے شعبہ میں صد فیصد خود مکتفی ناممکن ہے کیونکہ دفاعی پیداوار سے متعلق چند مخصوص آلات و اشیاء کی کم تعداد میں ضرورت ہوتی ہے ۔ لوک سبھا میں ایک تحریری سوال کے جوا ب میں وزیر دفاع منوہر پاریکر نے کہا کہ ملک دفاعی سازو سامان کے معاملہ میں70فیصد خود مکتفی ہونے کی طرف گامزن ہے اور دفاعی سازوسامان کی خریداری میں دیسی آلات و ہتھیاروں کی حصہ داری64فیصد تک پہنچ چکی ہے ۔ منوہر پاریکر کہا کہ دفاعی سازو سامان کی پیدوار میں مکمل خود مکتفی ہونا عملی طور سے ممکن نہیں ہے ۔70فیصد خود مکتفی ہونا ہی ممکن ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت نے دفاعی شعبہ میں غیر ملکی سرمایہ کاری کے ساتھ ساتھ میک ان انڈیا کو فروغ دینے کی غرض سے دو طرح کے منصوبے بنائے ہیں جن کے مثبت نتائج سامنے آرہے ہیں ۔ وزیر دفاع پاریکر نے بتایا کہ پچھلے تین سال میں غیر ممالک سے دفاعی سازو سامان کی خریدی52فیصد سے گھٹ کر36فیصد کے قریب رہ گئی ہے جب کہ ملک میں دفاعی پیداوار کی خریدی کا تناسب46فیصد سے64فیصد ہوگیا ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ دفاعی پیداوار میں میک ان انڈیا کے تحت چھوٹی و درمیانی صنعتوں کو فروغ دینے ارادہ ہے ۔ انہوں نے میک ان انڈیا شروعات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ میک ون پروگرام کے تحت حکومت کے فنڈز پراجکٹ کی اصل لاگت کے 90فیصد ہوں گے۔اور ان اشیاء کی تیاری اور پیداوار پر اطمینان کی مدت کو دو سال رکھا گیا ہے۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو حکومت ان کی اشیاء کو خریدی گی۔ میک ٹو، پروگرام کے تحت صنعتوں کو ان اشیاء کی تیاری کے لئے رقم لگائیں گے، اگر ان کی تیار اشیاء سے حکومت مطمئن ہوتو دفاعی فورسس کے لئے ان اشیاء کو خریدلیاجائے گا۔ اپنے تحریری جواب مین پاریکر نے کہا کہ امریکہ، روس، اسرائیل اور فرانس سے دفاعی آلات کی خریدی کے آرڈر کے اخراجات میں کمی آئی ہے ۔یہ اخراجات سال2013-14ء میں کم ہوکر 35082.10رہے گئے جب کہ سال2014-15میں یہ اخراجات مزید کم ہوکر24992.36ہوگئے ہیں۔ اسی طرح سال2015-16ء میں22422.12رہے گئے۔

100 Percent Self-Reliance in Defence Not Possible: Parrikar

0 comments:

Post a Comment