Search | تلاش
Archives
TaemeerNews Rate Card

Ads 468x60px

Our Sponsor: Socio Reforms Society India

تعمیر نیوز آرکائیو - TaemeerNews Archive

2016-03-12 - بوقت: 21:50

وجئے مالیا کی ملک سے متنازعہ روانگی پر راجیہ سبھا میں گڑبڑ

Comments : 0
نئی دہلی
یو این آئی
ملک سے وجئے مالیا کی متنازعہ روانگی پر آج راجیہ سبھا میں دوسرے دن بھی زبردست بحث ہوئی ۔ قائد اپوزیشن غلام نبی آزاد نے حکومت سے استفسار کیا کہ گزشتہ سال صنعت کار وجئے مالیا کے خلاف جاری تلاش نوٹس کو اندرون ایک ماہ سی بی آئی کی جانب سے کیوں تبدیل کیا گیا۔ وقفہ صفر کے درمیان اس مسئلہ کو اٹھاتے ہوئے غلام نبی آزاد نے کہا کہ سنٹرل بیورو آف انووسٹی گیشن نے اکتوبر2015میں مالیا کے خلاف جاری تلاشی کی نوٹس کو تبدیل کردیا۔ اس نوٹس میں کہا گیا تھا کہ اگر مالیا ملک سے فرار ہونے کی کوشش کرتا ہے تو اسے گرفتار کیاجائے ۔ تاہم نومبر2015میں اس حکمنامہ میں تبدیلی لائی گئی اور کہا گیا کہ اگر وجئے مالیا ملک چھوڑتا ہے تو اس سے حکام کو آگاہ کیاجائے ۔ کانگریس کے سینئر قائد غلام نبی آزاد نے استفسار کیا کہ ایسا کیا وہا تھا کہ سی بی آئی نے اصل نوٹس میں تبدیلی لائی ۔ انہوں نے حکومت پر الزام عائد کیا کہ ایک ایسے وقت جب کئی بینکوں کی جانب سے اس کے خلاف قرض واپسی کے مقدمات دائر کئے گئے ہیں ۔ حکومت کے یہ کہنے پر کہ وجئے مالیا کے خلاف کسی عدالت کی احکامات جاری نہیں کیے گئے تھے اس پر غلام نبی آزاد نے گرین پیس کی کارکن پریا پلائی کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ پریا پلائی کے خلاف بھی کسی عدالت نے احکامات جاری نہیں کئے تھے لیکن صرف حکومت کے احکامات پر اسے ایر پورٹ سے گرفتار کیا گیا ۔ اسی طرح کیوں وجئے وملیا کو روکا نہیں گیا ۔ آپ کہہ رہے ہیں کہ وجئے مالیا کے خلاف عدالت کے احکامات نہیں تھے، لیکن پلائی کو ایر پورٹ پر کیون روکا گیا تھا۔ اس دوران کانگریس پر حملہ کرتے ہوئے مملکتی وزیر پارلیمانی امور مختار عباس نقوی نے کہا کہ حکومت اس معاملہ میں مکمل اور سخت کارروائی کرے گی ۔ انہوں نے کہا کہ این ڈی اے حکومت نے وجئے مالیا کو کسی قسم کی سہولت نہیں دی ہے جس طرح کانگریس کی زیرقیادت حکومت نے اٹلی کے تاجر اٹایو قتروچی کو دی تھی ۔ اس سے قبل کہ بینکس نے سپریم کورٹ سے رجوع ہوتے ہوئے اس کے پاسپورٹ ضبط کرنے کی درخواست دی تھی، ملیا2مارچ کو ملک چھوڑ کر چلا گیا ۔ وزیر فینانس ارون جیٹلی نے جمعرات کو پارلیمنٹ کو مطلع کیا تھا کہ ملیا کو30نومبر2015تک بشمول سود کی رقم9,091,40کروڑ روپے ادا شدنی تھا۔ وجئے مالیا کی کمپنیوں کو2004-07ء کے دوران قرض فراہم کیا گیا تھا جو2009ء میں قرض نادہندہ قرار دیا گیا تھا۔

Rajya Sabha uproar, Vijay Mallya's controversial departure from the country

0 comments:

Post a Comment