Search | تلاش
Archives
TaemeerNews Rate Card

Ads 468x60px

Our Sponsor: Socio Reforms Society India

تعمیر نیوز آرکائیو - TaemeerNews Archive

2016-03-01 - بوقت: 23:54

جے این یو میں نعرے لگانے والے کشمیری تھے - کجریوال

Comments : 0
لدھیانہ
یو این آئی
دہلی کے وزیر اعلی اروند کجریوال جو ان9افراد میں شامل ہیں، جن کے خلاف کل حیدرآباد میں غداری کا مقدمہ درج کیا گیا ، نے پیر کے روز اپنے سلسلہ وار ٹویٹس میں دعویٰ کیا کہ جے این یو میں9فروری کو پارلیمنٹ پر حملے کی سازش کے مجرم محمد افضل گرو اور کشمیر کی آزادی کے حق میں نعرے لگانے والے تکشمیری تھے اور کجریوال کے بقول نعرے بازی کرنے والے کشمیریوں کو اس لئے گرفتار نہیں کیاجارہا ہے کیونکہ بی جے پی پی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی کو ناراض نہیں کرنا چاہتی ۔ دہلی کے وزیر اعلیٰ نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ وہ وزیر اعظم نریندر مودی سے بڑے محب الوطن انسان ہیں ۔ کجریوال ان دنوں پنجاب کے پانچ روزہ دورے پر ہیں۔ دہلی کے وزیر اعلیٰ نے مائیکرو بلاگنگ کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنی ایک تویٹ میں لکھا کہ میں مودی جی سے بڑا محب الوطن ہوں۔ میں پوچھنا چاہتا ہوں کہ ملک کی بربادی کے نعرے لگانے والوں کو مودی جی نے ابھی تک گرفتار کیوں نہیں کیا، انہوں نے لکھا نعرے لگانے والے کشمیری ہیں اور انہیں گرفتار کرنے سے محبوبہ مفتی ناراض ہوجائیں گی ۔ اپنی ایک اور ٹویٹ میں انہوں نے لکھا ، سرحد پر ہمارے فوجیوں کو ہر روز شہید کیاجارہا ہے ۔ اور مودی جی کشمیر میں حکومت کی تشکیل کے لئے ملک مخالف عناصر کو بچا رہے ہیں ۔ حیدرآباد کے سرور نگر پولیس تھانہ میں کل ایک عدالتی حکم نامہ کی بنا پر مسٹر کجریوال کے علاوہ کانگریس پارٹی صدر راہول گاندھی ، سی پی آئی ایم جنرل سکریٹری سیتا رام یچوری ، سی پی آئی لیڈر ڈی راجا، کانگریس لیڈران آنند شرما و اجے ماکن ، جے ڈی یو تر جمان کے سی تیاگی ، جے این یو طلبہ یونین صدر کنہیا کمار اور ریسرچ اسکالر عمر خالد کے خلاف غداری کا مقدمہ درج کیا گیا ۔ مسٹر کجریوال نے غداری کے مقدمہ پر اپنا رد عمل ظاہر کرتے ہوئے ایک ٹویٹ میں لکھا ، میرے خلاف غداری کا مقدمہ درج کیا گیا ہے ۔ میں دلتوں، پچھڑے طبقوں اور غریبوں کے حق میں آواز بلند کرتا آیا ہوں اور یہی وجہ ہے کہ میں ان کی (بی جے پی والوں) کی نظروں میں غدار ہوں ۔ میں دلتوں، غریبوں اور پچھڑے طبقوں کے لئے جدو جہد کرتا رہوں گا۔ وہ میری آواز کو دبا نہیں سکتے ۔ حیدرآباد پولیس کے مطابق جناردھن گویڈ نامی وکیل نے رنگا ریڈی ڈسٹرکٹ کورٹ میں عرضی داخل کی تھی اور کجریوال کے علاوہ ان لیڈران کے خلاف معاملہ درج کرنے کی پولیس کو ہدایت دینے کی درخواست کی تھی ۔ عدالت نے اس عرضی کی سماعت کرتے ہوئے پولیس کو اس سلسلے میں مقدمہ درج کرنے کی ہدایت کی تھی۔
درین اثناء لدھیانہ سے پی ٹی آئی کی علیحدہ اطلاع کے بموجب چیف منسٹر دہلی اروند کجریوال کے پانچ روزہ دورہ پنجاب کے آخری دن لدھیانہ میں اکالی دل کے کارکنوں نے ان پتھروں اور لاٹھیوں سے حملہ کردیا۔ اس حملہ میں کجریوال کی کار کی شیشے ٹوٹ گئے لیکن عامی آدمی پارٹی کے قائد کو کوئی نقصان نہیں پہنچا۔ عاپ نے الزام عائد کیا کہ یہ منصوبہ بند حملہ تھا اور جس وقت کجریوال پر پتھروں اور سلاخوں سے حملہ ہوا پولیس قریب ہی ٹھہری رہی ۔ پولیس نے کہا کہ اکالی دل سے تعلق رکھنے والے کارکنوں اور دنگا پیڑا اسوسی ایشن نے چیف منسٹر دہلی کجریوال کے پروگرام کے مقام کے باہر احتجاج کررہے تھے۔ پولیس ترجمان نے بتایا کہ احتجاجیوں کی موجودگی کے پیش نظر پولیس نے کجریوال کی واپسی کو بنکو یٹ ہال کے پچھلے دروازے سے انتظام کرنے کا فیصلہ کیا تھا لیکن احتجاجی کو اس کا پتہ لگ گیا اور وہ وہاں جاکر پتھراؤ کرنے لگے۔جس سے کجریوال کی کار کے شیشے چکنا چور ہوگئے ۔ کجریوال کو فوری طور پر سینئر سپرینڈنٹنڈنٹ پولیس ہرچرن سنگھ کی قیادت میں وہاں سے نکال لایا گیا ۔ انہوں نے کہا کہ جو کچھ بھی ہوا وہ ٹھیک نہیں ہوا ۔ بعد ازاں دہلی چیف منسٹر اپ نی کار سے باہر نکل آئے اور کہا کہ ان کی کار کو لاٹھیوں اور پتھروں سے حملہ کا نشانہ بنایا گیا کیونکہ اکالی دل اور کانگریس ان سے مایوس ہوگئے ہیں۔ میری کار پر لدھیانہ میں پتھروں اور لاٹھیوں سے حملہ کیا گیا، کار کے اگلے شیشے ٹوٹ گئے ، بادل اور کانگریس مجھ سے مایوس ہیں ، وہ لوگ میرے جذبہ و روح کو توڑ نہیں سکتے ۔

--

0 comments:

Post a Comment