Search | تلاش
Archives
TaemeerNews Rate Card

Ads 468x60px

Our Sponsor: Socio Reforms Society India

تعمیر نیوز آرکائیو - TaemeerNews Archive

2016-03-31 - بوقت: 19:08

غیر کارکرد وقف بورڈ کو تحلیل کرنے کا انتباہ - مرکزی وزیر نجمہ ہبت اللہ

Comments : 0
نئی دہلی
پی ٹی آئی
ایک سخت پیام بھیجتے ہوئے مرکزی وزیر اقلیتی امور نجمہ ہبت اللہ نے آج خبر دار کیا کہ ریاستی وقف بورڈس نے اپنے فرائض انجام نہیں دئیے تو وہ ان کی تحلیل کی سفارش کردیں گی ۔ انہوں نے کہا کہ مدھیہ پردیش کے کانگریس رکن اسمبلی کے چہرہ پر سیاہی پوت دی جائے جس پر بھوپال میں وقف املاک پر قبضہ کا الزام ہے ۔ نئی دہلی میں ریاستی وقف بورڈس کے صدور نشین اور سی ای اوز کی قومی کانفرنس کے افتتاحی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مدھیہ پردیش وقف بورڈ کے نمائندوں کو چاہئے کہ وہ رکن اسمبلی عارف عقیل کے خلاف احتجاج کریں جس نے مبینہ طور پر500کروڑ کی وقف املاک ہتھیالی ہیں ۔ نجمہ نے کہا کہ مختلف ریاستوں میں وقف بورڈ کے بعض ارکان نے وقف جائیدادوں پر قبضہ کرلیا ہے۔ انہوں نے ان کے خلاف سخٹ کارروائی کی پرزور وکالت کی۔ نجمہ نے کانفرنس میں دہلی، اتر پردیش اور آسام کے وقف بورڈ نمائندوں کی عدم شرکت پر ناراضگی ظاہر کی اور الزام عائد کیا کہ یہ لوگ براری کے مسائل کے تعلق سے سنجیدہ نہیں ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ اگر کوئی وقف بورڈ اپنے فرائض انجام نہیں دیتا تو میں اس کی تحلیل کی سفارش کردوں گی ۔ میں متعلقہ چیف منسٹروں سے کہوں گی کہ وہ نئے وقف بورڈس تشکیل دیں کیونکہ موجودہ بورڈس کام نہیں کررہے ہیں ۔ نجمہ نے میگھالیہ کے ایک نمائندے کی شکایت کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ کسی ریاستی بورڈ کے نمائندہ کو ریاستی حکومت سے کوئی پریشانی ہے تو مجھے بتائیے، ڈرنے کی کوئی ضرورت نہیں ۔ دوران اجلاس صدر نشین مدھیہ پردیش وقف بورڈ شوکت محمد خان نے عارف عقیل پر جو ریاستی بورد کے رکن بھی ہیں ، 34 ایکڑ وقف اراضی ہتھیا لینے کا الزام عائد کیا ۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ بھوپال کی یہ جائیداد زائد از پانچ سو کروڑ روپے کی ہے ۔ انہوں نے مرکز سے مطالبہ کیا کہ وہ ریاستی حکومت سے رکن اسمبلی کے خلاف کارروائی کے لئے کہے۔ اس پر نجمہ نے شوکت محمد خان سے کہا کہ وہ تحریری شکایت دیں ۔ وہ اس معاملہ کوریاستی چیف منستر شیوراج سنگھ چوہان سے رجوع کریں گی ۔ نجمہ نے کہا کہ وقف املاک پر ناجائز قبضوں سے نمٹنے کے کئی طریقے ہیں۔ ایک طریقہ قانونی چارہ جوئی ہے اور دوسرا گاندھیائی ۔ انہوں نے کہا کہ آپ میں سے کتنے لوگوں نے دھرنا دیا ۔ کتنوں نے مظاہرہ کیا ۔ یہ جائیدادیں ہماری برادری کی ہیں ۔ یہ ہمار اورثہ ہیں۔ آپ لوگ اس شخص کے خلاف احتجاج کیوں نہیں کرتے ۔ اصل میں اس شخص کے چہرہ پر عوام کے سامنے سیاہی پوت دینی چاہئے ۔
نئی دہلی سے یو این آئی کی علیحدہ اطلاع کے بموجب مرکزی مملکتی وزیر پارلیمانی اور اقلیتی امور مختاس عباس نقوی نے آج کہا کہ بھارت ماتا کی جئے کا نعرہ ہر ہندوستانی کے لئے فیشن نہیں بلکہ ایک جذبہ ہونا چاہئے اور قوم پرستی اور سیکولر ازم کے صداقت نامے تقسیم کرنے کی ضرورت نہیں ہے ۔ ریاستی وقف بورڈ کے صدور نشین اور چیف اگزیکٹیو آفیسرس کی ایک قومی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے نقوی نے کہا کہ حب الوطنی مجبوری کا حصہ نہیں ہے ۔ بلکہ ایک جذبہ کا حصہ ہے ۔ انہوں نے کہا کہ حب الوطنی ہر مذہب کا پہلا فریضہ ہے ۔ قوم پرستی ہر سچے ہندوستانی کے ڈی این اے میں ہے لیکن حب الوطنی اور قوم پرستی پر بے بنیاد بحث ہوتی ہے اور چند لوگ قوم پرستی کے مسئلہ پر بھی سوالات اٹھاتے ہیں تو یہ تشویش کی بات ہے ۔ انہوں نے سماج کے تمام طبقات بشمول اقلیتوں کی مجموعی ترقی کے لئے مودی حکومت کے اقدامات کی ستائش کی ۔انہوںنے زور دے کر کہا کہ مسلم طبقہ کی ترقی ہمارا مقصد ہے اور اس نشانہ کے حصول کے لئے کوئی منفی ایجنڈہ کامیاب نہیں ہوگا ۔ اس سلسلہ میں وقف جائیدادوں کا تحفظ اور ترقی ایک اہم اقدام ہے۔ مختار نقوی نے کہا کہ کئی ریاستوں میں وقف بورڈز وقف مافیا کے کنٹرول میں ہین جس کے باعث ان جائیدادوں سے مناسب استفادہ نہیں ہورہا ہے۔ وزیر موصوف نے بتایا کہ ملک میں موجودہ طور پر 31ریاستی وقف بورڈز اور ملک بھر میں427000درج رجسٹرڈ وقف املاک ہیں ، اس کے علاوہ اور بھی جائیدادیں ہیں جو درج رجسٹرڈ نہیں ہیں ۔ انہوں نے بتایا کہ نئے وقف قانون کے باوجود کئی ریاستیں مسلم طبقہ کی سماجی ، معاشی، تعلیمی ترقی کے لئے وقف املاک کا استعمال نہیں کرپارہی ہیں۔ مرکزی حکومت نے تمام وقف بوردز کو ہدایت دی ہے کہ وہ تمام جائیدادوں کا ریکارڈ کمپوٹرائزڈ کریں۔

Will recommend dissolution of state Waqf boards if they fail to perform: Najma Heptullah

0 comments:

Post a Comment