Search | تلاش
Archives
TaemeerNews Rate Card

Ads 468x60px

Our Sponsor: Socio Reforms Society India

تعمیر نیوز آرکائیو - TaemeerNews Archive

2016-03-23 - بوقت: 18:00

اترکھنڈ حکومت کے سیاسی بحران میں اضافہ

Comments : 0
نئی دہلی
ایجنسیاں
اتر کھنڈ میں جاری سیاسی بحران فی الحال مزید گہرا ہوتا جارہا ہے ۔ ایک طرف جہاں صدر کے سامنے ہونے والی پریڈ یعنی شکتی پردرشن میں کانگریس کے باغی نو ممبران اسمبلی پہنچے ہی نہیں۔ تو دوسری طرف اتر کھنڈ کے گورنر نے اسپیکر کو ہدایت دی ہے کہ وہ ابھی باغی ممبران کو نااہل قرار دینے کی کارروائی نہ کریں۔ ساتھ ہی ساتھ گورنر نے18مارچ کو صورتحال کو جوں کا توں برقرار رکھنے کی بھی ہدایت دی ہے ۔ باغی ممبران اسمبلی کے اچانک نہ ملنے کے فیصلے سے قیاس آرائی کا بھی دور شروع ہوگیا ہے ۔ بی جے پی اور کانگریس کے وفد نے صدر پرنب مکرجی سے ملاقات کرکے انہیں میمورنڈم سونپا۔ ادھر کانگریس کے وفد نے صدر جمہوریہ سے ملاقات کی ۔ ملاقات میں شامل موتی لال ووہرا ، احمد پٹیل، کپل سبل ، غلام نبی آزاد ، اے کے انٹونی اور امبیکا سونی نے بتایا کہ انہوں نے صدر سے کہا کہ اترا کھنڈ کے گورنر نے اکثریت ثابت کرنے کا جو دن28مارچ طے کیا ہے ، اس میں تبدیلی نہ کریں ۔ ارونا چل پردیش کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جیسے وہاںاکثریت ثابت کرنے کاموقع نہیں دیا گیا، ویسا اترا کھنڈ میں نہ کریں ۔ وہیں بی جے پی قائد کیلاش وجئے ورگیہ نے صدر سے ملاقات کرکے بتایا کہ ہم نے صدر جمہوریہ سے درخواست کی ہے کہ وہ اترا کھنڈ کے گورنر سے بی جے پی کو اسمبلی میں اکثریت ثابت کرنے کا موقع دینے کو کہیں ۔ ساتھ ہی انہوں نے صدر سے درخواست کی کہ وہ گورنر سے اترا کھنڈ حکومت کو تحلیل کرنے کو کہیں۔ وجئے ورگیہ نے دعویٰ کیا کہ ریاست کے70میں سے36ممبران اسمبلی حکومت کے خلاف ہیں۔ کانگریس کے نو ممبران اسمبلی نہیں پہنچنے پر کیلاش ورگیہ کا کہنا ہے کہ یہ ممبران اسمبلی صدر جمہوریہ سے بعد میں اکیلے میں ملاقات کریں گے ۔ ادھر باغی ممبران اسمبلی کے شکتی پردرشن کے وقت غیر حاضر رہنے کے بعد کانگریس ے بھی لچکدار رویہ اپناتے ہوئے ان پر اب تک کوئی کارروائی نہیں کی ہے۔ ادھر گورنر نے قانونی رائے کے لئے سکریٹری کو راج بھون بلایا ہے ۔ گورنر ریاست میں تازہ حالات کے بعد پیدا شدہ سیاسی بحران پر ان سے قانونی مشورہ لیں گے۔

Uttarakhand government's political crisis increased

0 comments:

Post a Comment