Search | تلاش
Archives
TaemeerNews Rate Card

Ads 468x60px

Our Sponsor: Socio Reforms Society India

تعمیر نیوز آرکائیو - TaemeerNews Archive

2016-03-21 - بوقت: 14:47

اتر کھنڈ میں کانگریس کے 9 باغی ارکان اسمبلی کو نوٹسیں

Comments : 0
دہرہ دون، نئی دہلی
پی ٹی آئی
اتر کھنڈ کے اسپیکر گویند سنگھ کنجوال نے کانگریس کے باغی نو ارکان اسمبلی کو نوٹسیں جاری کرتے ہوئے پوچھا انہیں کیوں نا ایوان سے نا اہل قرار دیاجائے ۔ اسی دوران ارون جیٹلی اور راہول گاندھی کے درمیان پہاڑی ریاست میں بحران پر لفظی تکرار ہوئی ۔ اہم اپوزیشن بی جے پی نے دعویٰ کیا ہے کہ35ارکان اسمبلی بشمول پارٹی کے26اور کانگریس کے نو ارکان نے اسپیکر کے خلاف ودھان سبھا کے سکریٹری کو پہلے ہی تحریک عدم اعتماد کی نوٹس دیدی ہے ۔ اسپیکر پر غیر جانبدارانہ انداز میں ایوان کی کارروائی چلانے کا الزام عائد کیا گیا ہے ۔ کانگریس کے باغی ارکان اسمبلی کو نوٹسوں کی اجرائی سے قبل تحریک عدم اعتماد کی نوٹس دی گئی ہے۔ چیف منسٹر ہریش راوت نے بی جے پی پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ پارٹی جمہوریت کا قتل کررہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی نے مرکز کی اپنی پارٹی کی مدد سے ریاستی حکومتوں کو غیر مستحکم کرنے کی کوشش کررہی ہے ۔ وہ جمہوریت کا قتل کررہے ہیں ۔ وہ معاون وفاقیت کی بات کرتے ہیں اور اپوزیشن حکومتوں کو چن چن کر نشانہ بنارہے ہیں ۔ پارٹی چیف وہپ اور وزیر پارلیمانی امور کی درخواست پر کانگریس کے نو باغی ارکان اسمبلی کو نوٹسیں جاری کرتے ہوئے فینانس بل پرو وٹنگ کے دوران ریاستی اسمبلی میں پارٹی وہپ کی خلاف ورزی کرنے پر ان کے خلاف کارروائی کرنے کے لئے کہا گیا ہے ۔ باغی ارکان اسمبلی کے مکانات کی دیواروں پر نوٹسیں چسپاں کی گئی ہیں اور اسپیکر کو26مارچ کی شام تک جوابات داخل کرنے کی ہدایت دی گئی ہے ۔ تاہم صدر ریاستی بی جے پی اور اسمبلی میں قائد اپوزیشن اجئے بھٹ نے کہا کہ اسپیکر کے خلاف پہلے ہی تحریک عدم اعتماد کی نوٹس دی گئی ہے۔ انہیں اپنے عہدہ سے مستعفیٰ ہونا چاہئے ۔ اتر کھنڈ کے بحران کو وزیر اعظم نریندر مودی اور بی جے پی پر تنقیدوں میں اضافہ کے لئے استعمال کرتے ہوئے راہول گاندھی نے کہا کہ اس سے مودی جی کے بی جے پی کا حقیقی چہرہ بے نقاب ہوگیا ہے اور دولت کا بھرپر استعمال کرتے ہوئے حکومتوں کو بیدخل کرنا حکمران پارٹی کا نیا ماڈل بن گیا ہے ۔نائب صدر کانگریس نے سلسلہ وار ٹویٹ میں کہا کہ کانگریس جمہوریت کے ساتھ اس کا مقابلہ کرے گی ۔ یہ جمہوریت اور دستور پر حملہ ہے ۔ پہلے ارونا چل پردیش اور اب اتر کھنڈ میں یہ حملہ کیا گیا ہے ۔ اس سے مودی جی کی بی جے پی کا حقیقی چہرہ سامنے آگیا ہے ۔ سینئر بی جے پی لیڈر اور وزیر فینانس ارون جیٹلی نے بحران کے لئے کانگریس کو مورد الزام ٹھہراتے ہوئے کہا کہ پارٹی میں زبردست پھوٹ ہے اور اسے بی جے پی سے منسوب نہیں کیاجاسکتا ۔ ارون جیٹلی نے دہلی میں اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ارکان اسمبلی کی اکثریت نے متنازعہ فینانس بل کے خلاف ووٹ دیا ہے ۔ لیکن اسپیکر نے بل کے منظور ہونے کا اعلان کیا۔ اتر کھنڈ میں اسپیکر نے ایک ناکام بل کو منظور قرار دیا ۔ ملک میں پہلی مرتبہ ایسا ہورہا ہے ۔ چیف منسٹر راوت نے کہا کہ ان کی حکومت کو اقتدار سے بیدخل کرنے کی بی جے پی حکومت عملی ایک قسم کا انکاؤنٹر ہے اور کہا کہ پولیس کے گھوڑے پر دہرہ دون میں کس طرح بی جے پی کارکنوں نے بربریت آمیز حملہ کیا تھا۔ پہلے انہوں نے گھوڑے کا پاؤں توڑ اور اب وہ ارکان کی سود ہ بازی کرتے ہوئے اتر کھنڈ کا پاؤں توڑنے کی کوشش کررہے ہیں ۔ اتر کھنڈ میں کانگریس اور پی ڈی ایف کے ارکان اسمبلی آج نینی تال میں کسی نامعلوم مقام کے لئے ہیلی کاپٹر سے روانہ ہوگئے ۔ حکمراں کانگریس کی جانب سے اپنے ارکان اسمبلی کو متحد رکھنے کی کوشش کے تحت یہ اقدام کیا گیا ہے ۔ چیف منسٹر کے صنعتی مشیر کی زیر قیادت کانگریس اور پی ڈی ایف کا ایک مشترکہ گروپ شہر کے ہیلی پیاڈ سے تین خانگی ہیلی کاپٹر میں سوار ہوا ۔ اس سے ان قیاس آرائی کو تقویت ملتی ہے کہ یہ مزید کسی رکن اسمبلی کے دوسرے جانب منتقل ہونے کے امکان کو روکنے کی کوشش کررہے ہیں ۔ مبصرین نے یہاں بتایا کہ ریاستی اسمبلی میں28مارچ کو ایوان میں آزمائش سے قبل مزید کسی رکن اسمبلی سے محرومی کا اندیشہ کانگریس کو دامن گیر ہے ۔ تاہم پردیش کانگریس کے صدر نے بتایا کہ اس تبدیلی میں زیادہ کچھ نہیں دیکھنا چاہئے اور انہوں نے ہولی سے قبل اسے ایک تفریحی دورہ قرار دیا۔ اسے سیاست سے نہیں جوڑنا چاہئے۔ رام نگر اور کاربیٹ ٹائیگر ریزرو علاقوں میں بہت سے تفریحی مقامات ہیں ۔کانگریس کے ترجمان اعلیٰ نے یہ بات کہی ۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت کو کوئی خطرہ نہیں اور اس طرح کے اقدام کی کوئی ضرورت بھی نہیں ہے۔ ہمارے ارکان اسمبلی متحد ہیں اور وہ متحد ہی رہیں گے۔
پٹنہ
پی ٹی آئی
چیف منسٹر بہار نتیش کمار نے آج حکمراں بی جے پی پر اتر کھنڈ میں انحراف کو بڑھاوا دیتے ہوئے پارلیمانی جمہوریت کو مذاق بنانے کا الزام عائد کیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر بی جے پی کو اس طرح کاکام کرنا ہے تو اسے دستور کے دسویں شیڈول کے فقروں کو حذف کرنا چاہئے ۔ دستور کے دسویں شیڈول میں انحراف کی بنیاد پر اہل قرار دیے جانے کے فقرے درج ہیں ۔

Uttarakhand Speaker issue notices to 9 rebel Congress MLAs

0 comments:

Post a Comment