Search | تلاش
Archives
TaemeerNews Rate Card

Ads 468x60px

Our Sponsor: Socio Reforms Society India

تعمیر نیوز آرکائیو - TaemeerNews Archive

2016-03-21 - بوقت: 15:30

دولت کے ذریعہ حکومتوں کو گرانا بی جے پی کا نیا ماڈل - راہول گاندھی

Comments : 0
نئی دہلی
پی ٹی آئی
وزیر اعظم نریندر مودی اور بی جے پی پر شدید حملہ کرتے ہوئے راہول گاندھی نے آج کہا اتر پردیش کے بحران نے مودی جی کی بی جے پی کے حقیقی چہرہ کو سامنے لایا ہے اور رقومات کے بے تحاشہ استعمال کے ذریعہ حکومتوں کو گرایا جانا ایسا محسوس ہوتا ہے کہ حکمران پارٹی کا نیا ماڈل بن گیا ہے ۔سابق نائب صدر نے مرکزکی حکمراں پارٹی کو ٹوئٹرپر اپنے پوسٹ میں پہاڑی ریاست میں سیاسی بحران پر نشانشہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس اس بالا دستی کو جمہوریت کے ساتھ مقابلہ کرے گی ۔ سودے بازی میں ملوث رہتے ہوئے اور افرادی قوت و رقومات کا بے جا استعمال کرتے ہوئے منتخبہ حکومتوں کو گرایا جانا لگتا ہے کہ بہار میں ناکامی کے بعد بی جے پی کا نیا ماڈل بن گیا ہے ۔ کانگریس پارٹی اس بالا دستی کا جمہوریت کے ساتھ مقابلہ کرے گی ۔ یہ ہماری جمہوریت اور دستور پر حملہ ہے ۔ پہلے اروناچل پردیش میں اور اب اتر کھنڈ میں ایسا کیا گیا اور یہ مودی جی کی بی جے پی کا حقیقی چہرہ ہے ۔ اس سلسلہ میں گاندھی نے کئی ٹوئٹس کیے ہیں ۔ دو روز قبل ہریش راوت کی قیادت میں اتر کھنڈ میں کانگریسی حکومت اس وقت بحران میں آگئی جب کہ اس کی پارٹی کے نو ارکان اسمبلی باغی بن گئے اور اپوزیشن بی جے پی تشکیل حکومت کے ادعا کے لئے گورنر سے رجوع ہوئی ہے ۔ گورنر کرشنا کانت پال نے کل راوت سے کہا تھا کہ وہ28مارچ تک ریاستی اسمبلی کے فلور میں اپنی اکثریت ثابت کریں ۔ گورنر کی ہدایت راوت کو ایسے وقت آئی ہے جب کہ بی جے پی جو70رکنی اسمبلی میں9باغی کانگریس ایم ایل ایز کی تائید سے اکثریت کا ادعا کررہی ہے ، حکومت کے قیام کے لئے کوششیں تیز کردی گئی ہیں ۔ یہ استدلال پیش کیا گیا ہے کہ راوت وزارت اقلیت میں آگئی ہے ، جہاں بی جے پی نے35ارکان اسمبلی کی تائید کا ادعا کیا ہے ، جس میں باغی کانگریس لیجسلیٹرس شامل ہیں۔ راوت نے کہا ہے کہ انہیں ابھی تک اسمبلی میں اکثریت حاصل ہے ، کیوں کہ باغی ارکان اسمبلی میں سے کسی نے نہ تو پارٹی یا سی ایل پی سے استعفیٰ دیا ہے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ پانچ باغی ارکان ان کے ساتھ ربط میں ہیں ۔ اسپیکر اسمبل گووند سنگھ کنجوال نے کہا کہ مخالف انحراف قانون موجود ہے ۔ اور جو کوئی بھی اس کی خلاف ورزی کا مرتکب ہگا اس کے تحت اس کے خلاف ایکشن لیاجائے گا ۔ اسمبلی میں جب سابقہ بل منظور ہوا تھا تب تمام کانگریسی ارکان اسمبلی نے حکومت کو ووٹ دیا تھا اور کسی نے بھی بل کو چیلنج نہیں کیا تھا ، یہاں تک کہ بی جے پی نے اسے ندائی ووٹ سے قبول کیا تھا ۔ کانگریس نے کل وزیر اعظم نریندر مودی اور بی جے پی صدر امیت شاہ پر الزام عائد کیا تھا کہ وہ رقومات کے ذریعہ لبھاتے ہوئے اور سیاسی طاقت کے ذریعہ غیربی جے پی حکومتوں کو غیر مستحکم کرنا چاہتے ہیں ۔ کانگریس کے ترجمان اعلیٰ رندیپ سرجے والا نے کہا مودی اور شاہ دونوں اس ملک میں منتخبہ حکومتوں کے جبری تخلیہ کے لئے بدنام ہیں ۔ ایک مذموم سازش کے ذریعہ منتخبہ حکومتوں کو غیر مستحکم کیاجارہا ہے ۔ ارونا چل پردیش کے بعد اب اتر کھنڈ میں ایسا کیاجارہا ہے ۔

Toppling governments using money, muscle BJP's new model, Rahul

0 comments:

Post a Comment