Search | تلاش
Archives
TaemeerNews Rate Card

Ads 468x60px

Our Sponsor: Socio Reforms Society India

تعمیر نیوز آرکائیو - TaemeerNews Archive

2016-03-23 - بوقت: 17:36

بلجیم کا دارالحکومت بروسلز تین دھماکوں سے دہل گیا - 35 ہلاک

Comments : 0
بروسلز
پی ٹی آئی
بروسلز ایر پورٹ اور ایک میٹرو ٹرین اسٹیشن پر آج سلسلہ وار دھماکوں میں تقریبا35افراد ہلاک اور200سے زائد زخمی ہوگئے ۔ اسلامک اسٹیٹ انتہا پسند گروپ نے تازہ ترین حملوں کی ذمہ داری قبول کرلی ہے۔ ان حملوں نے پورے یوروپ کو دہلادیا ہے ۔ یوروپی بر اعظم میں سیکوریٹی سخت کردیا گیا ہے اور بم دھماکوں کے بعد ٹرانسپورٹ مفلوج ہوگیا ہے۔ بلجیم کے وزیر اعظم چارلس مشیل نے ان حملوں کو اندھے اور پرتشدد اور بزدلانہ قرار دیا۔ انہوں نے قومی ٹیلی ویژن پر اپنے خطاب میں کہا کہ یہ المیہ کا اور یوم سیاہ ہے ۔ پیرس دہشت گرد حملہ کے اصل مشتبہ صالح عبدالسلام کی ڈرامائی گرفتاری کے صر ف چند دن بعد یہ دھماکے ہوئے ہیں ۔ عبدالسلام نے تحقیق کنندگان کو بتایا تھا کہ وہ بروسلز میں حملہ کی منصوبہ بندی کررہا ہے۔ جس کے بعد بلجیم حکام نے چوکسی اختیار کرلی تھی۔ زابنٹم ایر پورٹ کے مین ہال میں تقریبا آٹھ بجے صبح (ہندوستانی معیاری وقت کے مطابق1:30بجے دوپہر) دو دھماکے ہوئے ہیں ان میں سے کم از کم ایک دھماکہ خود کش تھا ۔ تیسرا دھمالہ مال بیک میٹرو اسیٹشن پر ایک ٹرین پر ہوا۔ یہ دھماکہ اس وقت ہوا جب مسافرین مصروف اوقات میں اپنے کام پر جانے کے لئے نکل رہے تھے ۔ بروسلز فائر بریگیڈ کے ترجمان نے فرانس کی نیوز ایجنسی اے ایف پی کو بتایا کہ ایر پورٹ میں کم از کم گیارہ افراد ہلاک ہوئے جب کہ ٹرانسپورٹ کمپنی ایس ٹی آئی بی کا کہنا ہے کہ کم از کم پندرہ افراد زیر زمین میٹرو اسٹیشن میں مارے گئے ۔ 55فراد زخمی ہوئے ہیں۔ تیسرا دھماکہ بروسلز کے وسط میں میٹرو اسٹیشن میں ہوا جہاں پندرہ جانیں گئیں ۔ مربوط حملوں میں جو پیرس دہشت گرد حملہ کے مشتبہ شخص کی بلجیم پولیس کے ہاتھوں گرفتاری کے صرف چار دن بعد ہوئے ہیں۔ کئی افراد زخمی ہوئے ۔ وزیر اعظم نے کہا کہ ایر پورٹ حملہ میں جو صبح آٹھ بجے ڈپارچرایریا میں ہوا، ایک خود کش بمبار ملوث ہے۔ حملہ کے بعد کھڑکیاں، فرنیچر اور مشینری بکھری پڑی تھی ۔ یہ علاقہ کسی وارزون(منطقہ جنگ) جیسا دکھائی دے رہا تھا۔ زوینٹنم ، بلجیم کا سب سے بڑا ایر پورٹ ہے ۔ خون خرابہ کے بعد پورا سرکاری ٹرانسپورٹ بند کردیا گیا ۔ مالبیک میٹرو اسٹیشن کے قریب یوروپین یونین ہیڈ کوارٹرسکو بھی بند کردیا گیا ۔ اخباری گارجین نے یہ اطلاع دی۔32سالہ الکزینڈر برانس نے اپنے چہرے سے خون پونچھتے ہوئے میڈیا کو بتایا کہ جس وقت دھماکہ ہوا اس وقت میٹروٹرین مالبیک اسٹیشن سے شومیان جارہی تھی ۔ دھماکہ یقینا گرجدار تھا ۔ ایر پورٹ پر کام کرنے والے ایک زیر تربیت ملازم نے الجزیرہ کو بتایا کہ جب میں نے پہلا دھماکہ سنا ، لوگ بڑی تعداد میں بھاگ کھڑے ہوئے ۔ دوسرا دھماکہ تقریبا تیس سیکنڈ بعد ہوا ۔ اس وقت ہر طرف افرا تفری مچی ہوئی تھی ۔ میں نے لوگوں کے چہروں پر دہشت اور جسم پر خون دیکھا۔ سینکڑوں لوگ ایر پورٹ سے باہر دوڑ پڑے ۔ ابتدائی اطلاعات میں کہا گیا تھا کہ دھماکو کا نشانہ امریکن ایر لائنز کا چیک ان کاؤنٹر تھا ۔ عمارتکی فالس سلینگ(آرائشی چھت) دھماکے سے نیچے گر پڑی۔ ٹی وی فوٹیج میں کئی ہندوستانی مسافرین کا ایر پورٹ سے تخلیہ دکھایا گیا ۔ سیکوریٹی عہدیداروں نے تین مشتبہ دہشت گردوں کی تصاویر جاری کیں ۔ یہ مشتبہ دہشت گرد ٹرالیوں میں بڑے بیاگ لے کر جارہے تھے ۔ پولیس نے عوام سے اپیل کی کہ وہ ان افراد کے بارے میں معلومات فراہم کریں ۔ ایر پورٹ پر حملہ کے بعد عینی شاہدین نے بتایا کہ ایر پورٹ پر مہلوکین اور زخمی خون میں لت پت پڑے ہوئے تھے ان کے اعضا کٹ کر علیحدہ ہوگئے تھے ۔ مسافرین کے دہشت کے عالم میں بھاگ نکلنے پر افرا تفری مچی ہوئی تھی ۔ مین ٹرمنل بلڈنگ سے گہرا دھواں اٹھ رہا تھا ۔ ایر پورٹ کے ایک بیاگیج سیکوریٹی عہدیدار نے بتایا کہ ایک شخص نے عربی میں چند الفاظ کہے اس کے بعد اسنے ایک زبردست دھماکے کی آواز سنی متعدد لوگ اپنے اعضاء سے محروم ہوگئے ۔ ایک شخص دونوں پاؤں سے محروم ہوگیا ایک پولیس جوان کا پیر بری طرح ٹوٹا ہوا تھا ۔ مال بیک اسٹیشن پر نیم طبی عملہ نے مسافرین کا علاج کیا ان کے چہرے خون آلود تھے۔ سڑکوں پر سائرن کی آوازیں گونج رہی تھیں۔ ان بم حملوں کے بعد ٹرانسپورٹ تھم گیا ۔ پروازیں روک دی گئیں اور میٹرو ، ٹرا م اور بس سروس تمام معطل کردی گئیں ۔ پورے یورپ میں ایر پورٹس پر فوری طور پر سیکوریٹی میں اضافہ کرنے کا اعلان کردیا۔ ان میں لندن ، پیرس اور فرینکفرنٹ شامل ہیں ۔ بحر اوقیانوس ، نیویارک اور واشنگٹن نے پر ہجوم علاقوں اور ٹرین اسٹیشنوں پر انسداد دہشت گردی عہدیداروں کی زیادہ تعداد میں تعینات کرنے کا حکم دیا۔

Three Bomb Explosions Hit Brussels Airport

0 comments:

Post a Comment