Search | تلاش
Archives
TaemeerNews Rate Card

Ads 468x60px

Our Sponsor: Socio Reforms Society India

تعمیر نیوز آرکائیو - TaemeerNews Archive

2016-03-04 - بوقت: 23:55

ای پی ایف ٹیکس - سہولتیں ملازمین کو دی جائیں نہ کہ چوروں کو - راہول گاندھی

Comments : 0
نئی دہلی
پی ٹی آئی
کانگریس کے نائب صدر راہول گاندھی نے آج وزیر اعظم نریندر مودی سے مطالبہ کیا کہ وہ ایمپلائزپراویڈنٹ فنڈ( ای پی ایف) سے دستبرداری پر ٹیکس عائد کرنے کے منصوبہ کو واپس لے لیں ۔ احاطہ پارلیمنٹ میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے راہول گاندھی نے کہا کہ ای پی ایف ملازمین کی بچت ہے اس پر ٹیکس عائد کرنا غلط ہوگا۔ میں وزیر اعظم سے کہنا چاہتا ہوں کہ وہ خود اس بات کا اعلان کریں ۔ کہ ای پی ایف پر عائد کردہ ٹیکس کا منصوبہ واپس لے لیا گیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ مودی کویہ منصوبہ واپس لیتے ہوئے ملازمین اور رائے دہندوں کو اعتماد میں لیناہوگا۔ انہوں نے کہا کہ تمام محکموں کے وظائف اور پراویڈنٹ فنڈ کا تخمینہ تقریبا6.5لاکھ روپے لگایاجاتا ہے ۔ انہوں نے کالے دھن پر ایک مرتبہ حکومت کا مضحکہ اڑاتے ہوئے کہا کہ حکومت کالے دھن پر عام معافی دے رہی ہے ، جس کا وزیر فینانس ارون جیٹیل نے آنے والے مالی سال کے بجٹ میں اعلان کیا ہے ۔ کانگریس کے نائب صدر نے کہا کہ سہولتیں ملازمین کو دی جانی چاہئے ، نہ کہ چوروں کو ۔ میں نے کل بھی کہا تھا کہ حکومت چوروں کے لئے فیر اینڈ لولی اسکیمات پیش کررہی ہے جب کہ اسے رائے دہندوں اور ملازمین کے لئے ریلیف اسکیمات شروع کرنا چاہئے ۔ انہوں نے کہا کہ کالے دھن کو سفید دھن بنانے کے لئے ایک ہی وقت میں حل نکالنے کی اسکیم رکھی گئی ہے ۔ جو فیر اینڈ لو لی اسکیم ہے ۔ یہ کچھ اور نہیں چوری کے کالے دھن کو قانونی سفید دھن میں تبدیل کرنا ہے ۔ اس اسکیم کے تحت ملک کا کوئی بھی چور اپنا کالا دھن کو سفید دھن میں تبدیل کرسکتا ہے ۔ اگر کوئی کرپشن ملوث ہے تو وہ اپنا کالا دھن کو فیر اینڈ لولی اسکیم کے تحت سفید کیا جاسکتا ہے ۔ راہول گاندھی نے کہا کہ وزیر فینانس ارون جیٹلی نے2016-17ء کے بجٹ تقریر میں کہا کہ انہوں نے یکم اپریل کے بعد 60فیصد ای پی ایف نکالنے پر ٹیکس عائد کیاجائے گا۔ اس کے بعد حکومت کے ایک پریس نوٹ میں کہا گیا کہ ٹیکس لاگو کرنے کا منصوبہ صرف سود پر ہے نہ کہ اصل زر پر نہیں، اور اس پر ہنوز غور کیاجارہا ہے ۔

Rahul demands rollback of proposed tax on EPF

0 comments:

Post a Comment