Search | تلاش
Archives
TaemeerNews Rate Card

Ads 468x60px

Our Sponsor: Socio Reforms Society India

تعمیر نیوز آرکائیو - TaemeerNews Archive

2016-03-10 - بوقت: 23:38

ایم کیو ایم کا ہندوستانی ایجنسی را کے ساتھ مبینہ روابط - پاکستان کی تحقیقات کا آغاز

Comments : 0
اسلام آباد
پی ٹی آئی
ان اطلاعات کے درمیان کے ہندوستان کی ایجنسی راکراچی کی متحدہ قومی موومنٹ( ایم کیو ایم) پارٹی کو رقومات دی تھیں تاکہ ملک کو متزلزل وغیر مستحکم کیاجائے ۔ پاکستان نے ان اطلاعات کی رسمی تحقیقات شروع کردی ہیں ۔ وزیر داخلہ نثار علی خان نے فیڈرل انوسٹیگیشن ایجنسی (ایف آئی اے)کو ریسرچ اینڈ انالیس ونگ کی جانب سے ایم کیو ایم کو رقومات دینے کے الزام کی تحقیق کرنے کی ہدایت دی ہے ۔ ایم کیو ایم میں اردو بولنے والے افراد کا غلبہ ہے جو1947ء میں تقسیم کے بعد ہندوستان سے پاکستان آگئے تھے ۔ وزارت داخلہ کے ایک عہدیدار نے بتایا کہ لندن کے ایک نامور بزنس مین سرفراز مرچنٹ جو ایم کیو ایم کے حامی ہیں ان کے ایک حالیہ ٹی وی انٹر ویو میں یہ کہنے کے بعد کہ ایم کیو ایم، ہندوستانی فنڈس دینے کا وہ ثبوت رکھتے ہیں، یہ اقدامات اٹھائے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان نے ہتھیار خریدنے کے لئے بھی رقم فراہم کی ہے ۔ مرچنٹ نے کہا 2014میں اسکاٹ لینڈ یارڈ پولیس کے ایک دھاوے کے دوران لندن میں ایم کیو ایم کے صدر الطاف حسین کے گھر میں ہتھیاروں کی کئی فہرستیں پائی گئیں۔ ہندوستان اس ادعا کو بار بار مسترد کرتا رہا ہے کہ اس نے پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کے لئے ایم کیو ایم کو فنڈس دئیے تھے ۔ ایم کیو ایم نے بھی اس الزام کو غلط اور بے بنیاد بتایا ہے کہ وہ را کے ساتھ روابط رکھتی ہیں ۔ حسین1992میں لندن چلے گئے تھے اور بعد ازاں انہیں برطانوی شہریت حاصل ہوئی ۔ وہ لندن سے پارٹی چلاتے رہے ہیں جہاں ان پر رقومات اکٹھا کرنے کے الزام کی لندن پولیس تحقیقات کررہی ہے ۔ ایف آئی اے مرچنٹ اور دیگر سے پوچھ تاچھ کا منصوبہ رکھتی ہے ۔ پاکستان ایک مناسب وقت پر برطانیہ سے پوچھ سکتا ہے کہ برطانوی شہری حسین کس طرح ہندوستانی رقم کا پاکستان کو متزلزل کرنے کے لئے استعمال کرسکتا ہے ۔ کراچی میں کئی دہوں سے توسیعی طورپر تشدد کے واقعات دیکھے گئے ہیں اور اکثر ایم کیو ایم کو اس کا مورد الزام ٹھہرایاجاتا ہے لیکن یہ پارٹی ہمیشہ اس کی تردید کرتی رہی ہے ۔

Pakistan launches probe into MQM's alleged ties with RAW

0 comments:

Post a Comment