Search | تلاش
Archives
TaemeerNews Rate Card

Ads 468x60px

Our Sponsor: Socio Reforms Society India

تعمیر نیوز آرکائیو - TaemeerNews Archive

2016-03-22 - بوقت: 16:55

مسلم لڑکیوں کو جہاد کی تربیت - ممبئی پولیس کا الزام

Comments : 0
ممبئی
پی ٹی آئی
بمبئی ہائی کورٹ نے آج جماعت اسلامی ہند کی داخل کردہ ایک درخواست سماعت کے لئے قبول کی جس میں ممبئی پولیس کے سرکلر پر سوال اٹھایا گیا ہے ۔ اس سرکلر میں جماعت کی گرلز اسلامک آرگنائزیشن( جی آئی او) پر الزام عائد کیاگیا کہ وہ نوجوان مسلم لڑکیوں کا برین واش کرتی ہے اور انہیں جہاد کی تربیت دیتی ہے ۔ جسٹس ایس سی دھرم ادھیکاری کی زیر صدارت بنچ نے حکومت مہاراشٹرا سے پوچھا کہ وہ یہ وضاحت کرے کہ پولیس سرکلر میڈیا کے ہاتھ کیسے لگا جس نے اس کے متن کی اشاعت کی ہے ۔ محکمہ پولیس نے حلف نامہ داخل کرتے ہوئے تردید کی کہ اس نے سرکلر کا متن میڈیا کو افشا نہیں کیا۔ یہ پتہ چلانا مشکل ہے کہ یہ میڈیا کے ہاتھ کیسے لگا ۔ جماعت اسلامی نے کہا کہ اسنے نوجوان مسلم لڑکیوں کی بھلائی کے لئے جی آئی او قائم کی ہے ۔ جماعت نے کہا کہ مارچ2013ء کے تیسرے ہفتہ میں سٹی پولیس اسپیشل برانچ نے ایک سرکلر جاری کیا گیا جس میں کہا گیا کہ جی آئی او کا مقصد نہ صرف مسلم لڑکیوں کو ان کے مذہب سے آگاہ کرنا ہے بلکہ ان کا برین واش کرکے انہیں جہادی بننے کی تربیت دینا بھی ہے ۔ جماعت نے الزام عائد کیا کہ یہ سرکلر ہتک آمیز ہے اور اس کا مقصد جی آئی او کی ساکھ مسخ کرنا ہے ۔ جماعت نے تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ سرکلر کس نے جاری کیا اور کس بنیاد پر یہ جاری ہوا ، اس کا پتہ چلانا ضروری ہے۔ درخواست میں یہ بھی کہا گیا کہ سرکلر جاری ہونے سے قبل جانکاری کی تصدیق کے لئے رہنمایانہ خطوط ہونے چاہئیں ۔ اس نے عدالت سے گزارش کی کہ جماعت کو مناسب معاوضہ دلایاجائے کیونکہ اس کی ساکھ متاثر ہوئی ہے۔ سرکاری وکیل پورنیما کنٹھاریہ نے عدالت سے کہا کہ پولیس نے یہ سرکلر لیک نہیں کیا اور اسے نہیں معلوم کہ یہ میدیا کے ہاتھ کیسے لگا ۔ سرکلر، پولیس نظم و نسق کے37شعبوں کے سربراہوں کو بھیجا گیا تھا جنہوں نے اسے نچلی سطح کے عہدیداروں کو بھیجا۔ یہ پتہ چلانا دشوار ہے کہ یہ لیک کیسے ہوا۔

Mumbai police in the dock over circular accusing Muslim body of training girls for Jihad

0 comments:

Post a Comment