Search | تلاش
Archives
TaemeerNews Rate Card

Ads 468x60px

Our Sponsor: Socio Reforms Society India

تعمیر نیوز آرکائیو - TaemeerNews Archive

2016-03-07 - بوقت: 23:48

محض نعرہ بازی بغاوت نہیں - نامور وکیل میہر دیسائی کا بیان

Comments : 0
ممبئی
پی ٹی آئی
جے این یو تنازعہ کے پس منظر میں میہر دیسائی نے آج کہا کہ اگر جے این یو طلبہ یونین صدر کنہیا کمار نے حکومت کے خلاف نعرے بھی لگائے تھے تب بھی ان کے خلاف سپریم کورٹ کے ماضی کے فیصلوں کے مطابق بغاوت کے الزامات عائد نہیں کئے جاسکتے ۔ دیسائی نے یہاں ایک دو روزہ کانکلیو کے دوران بغاوت اور قوم دشمنی کا دائرہ کے عوانن پر کہا کہ گاندھی جی کو بھی برطانوی حکومت کی جانب سے اسی قانون کے تحت گرفتار کیا گیاتھا کیون کہ اس کا خیال تھاکہ ایسے لوگ اس طرح اپنے نظریات کی تشہیر کرسکتے ہیں لیکن یہ ان کی بھیانک غلطی تھی ۔ لوک مانیہ تلک کو1897ء میں اس وقت اسی قانون کے تحٹ گرفتار کیاگیا تھا جب انہوںنے بمبئی صوبہ میں چیچک کی وباء سے نمٹنے کے مسئلہ پر حکومت کے خلاف لکھا تھا ۔ انہوں نے کہا کہ ماقبل آزادی دور میں حکومت کے خلاف عدم اطمینان پھیلانے پر کسی کے خلاف بغاوت کا الزام کیاجاسکتا تھا لیکن اب قانون بدل گیا ہے ۔ نامور وکیل نے یا ددلایا کہ سپ ریم کورٹ نے1962میں کیندر ناتھ مقدمہ میں اپنا فیصلہ سناتے ہوئے کہا تھا کہ اس قانو ن کو غیر سنگین انداز میں دیکھاجانا چاہئے۔ سپریم کورٹ کے مطابق کسی شخص کے خلاف بغاوت کا الزام اس وقت لگایا جاسکتا ہے جب وہ حکومت کے خلاف اس طرح کا عدم اطمینان پھیلا رہا ہو کہ اس سے تشدد اور عوامی بے چینی پھیلے ۔ چنانچہ کارٹون نگاراسیم ترویدی کے کیس کی طرح جن کے خلاف بغاوت کا الزام لگایا گیا تھا انہیں(دیسائی) کو توقع تھی کہ عدالتیں کنہیا کو اگلے ہی دن ضمانت دے دیں گی۔ سینئر وکیل نے کہا کہ معاملہ یہ نہیں ہے کہ کنہیا کمار نے نعرے لگائے تھے یا نہیں اگر اس نے ایسا کیا تھا تب بھی یہ بغاوت کی تعریف میں نہیں آتا۔

Mere Slogan-shouting is no Sedition, Says Lawyer Mihir Desai

0 comments:

Post a Comment