Search | تلاش
Archives
TaemeerNews Rate Card

Ads 468x60px

Our Sponsor: Socio Reforms Society India

تعمیر نیوز آرکائیو - TaemeerNews Archive

2016-03-08 - بوقت: 04:05

ادب اطفال اور فکر اقبال

Comments : 0
Allama Iqbal and children
اڑائے کچھ ورق نرگس نے کچھ لالا نے کچھ گل نے
چمن میں ہر طرف بکھری ہوئی ہے داستاں میری
یقیناً اقبال کی داستان ان کی زندگی سے لے کر آج تک اپنی منفرد مہک کی وجہ سے تمام عالم ادب کی مشام جاں کو مسحور و معطر کیے ہوئے ہے
اقبال عظیم شاعر جس کی شاعری متنوع اور ہمہ جہت موضوعات کی حامل رہی ہے ۔ مذہب فکر و فلسفہ ، تصور تعلیم ، حب الوطنی ، سیاست اخلاقیات غرض کہ تمام شعبہ ہائے سربستہ ان کی شاعری کو مزاج و منہاج عطا کرنے میں اہم کردار کے حامل رہے ہیں

اقبال نے اپنی شاعری میں جہاں اپنے مخصوص نظریہ کو دلنشیں انداز میں مفکرانہ زاویوں کے ساتھ پیش کیا وہیں انہوں نے بچوں کے لیے خوبصورت نظمیں تحریر کر کے ان کی تربیت اور تعلیم کے متعلق اپنی دلچسپی کا بھی اظہار کیا ہے ۔ اقبال اپنی نظم شمع و شاعر میں انسان کے بارے میں لکھتے ہیں
دانہ تو کھیتی بھی تو باراں بھی تو حا صل بھی تو
راہ تو رہرو بھی تو رہبر بھی تو منزل بھی تو
نا خدا تو بحر تو کشتی بھی تو ساحل بھی تو
مے بھی تو مینا بھی تو ساقی بھی تو محفل بھی تو
وہ اس نظم میں اسے اس کی اہمیت کا ادراک بڑے ہی پر زور طریقے سے کراتے ہیں اس کے اس وجود کا احساس کراتے ہیں جسے خدا نے تمام کائنات میں خود اشرف المخلوقات کا درجہ دے کر برتری عطا کی۔تو پھر تو اس کی زندگی کا ہر مرحلہ خودبخود اشرف ہو جاتا ہے جس میں اس کی عمر کے ابتدائی ایام بھی آجاتے ہیں جنہیں اس کی شخصیت کی تکمیل میں سب سے مقدم مانا گیا ہے کیونکہ یہی وقت ہے کردار سازی کا اور مستقبل کو سنوارنے کا اسی وقت کو اس کی شخصیت کی آبیاری کا پیش خیمہ بھی تصور کیا گیا ہے ماہر نفسیات نے اپنی تحقیقا ت کی بنا پر کہا ہے کہ یہ عمر عزیز کا سب سے قیمتی زمانہ ہے اس میں اس کا ذہن کوری سلیٹ کی مانند جس پر جو کچھ بھی رقم کر دیا گیا وہ تا عمر کے لیے نقش ہو گیا
اقبال نے بھی تربیت کے اس خاص وقت کو ملحوظ رکھتے ہوئے اپنے ایک مضمون میں لکھا ہے کہ :
اگر بچوں کی تربیت میں خامی رہ جائے تو تعمیر قوم وطن کی بنیاد میں خامی رہ جائیگی۔ (1)

اقبال کو بچوں کی تعلیم و تربیت سے خصوصی دلچسپی تھی جس کا مظہر ان کا مضمون بعنوان بچوں کی تعلیم و تربیت ہے جس میں انہوں نے بچوں کی نفسیات کے تحت ان کی تربیت کیسے کی جائے اس سلسلے میں گیارہ امور کو ضروری قرار دے کر ان سے بحث کی ہے۔ (2)
( اقبال کے نثری اصول ۔ڈاکٹر عبدالغفار شکیل )

اقبال نے اپنے کلام میں فرد اور قوم کے تعلقات کو مستحکم بنانے پر خاصا زور دیا ہے فرد کی تکمیل تب ہی ممکن ہے جب کہ اس کی شخصیت میں کمی نہ ہو کوئی کجی نہ ہو اور اس کے لیے ضروری ہے کہ اس کے بچپن پر خاطر خواہ توجہ دی جائے چنانچہ وہ نئی نسل کی کردار سازی کا پیغام اپنی ان نظموں کے ذریعے دیتے ہیں جو انہوں نے بچوں کے لیے لکھی ہیں جن میں ا ن کی فلسفیانہ فکرو عمل کی کارفرمائی واضح نظر آتی ہے۔ان کی نظموں میں اخلاقی باتیں تعمیر سیرت حرکت و عمل نیکی عزم و حوصلہ ۔ غلامی سے بیزاری حب الوطنی کے جذبات ہمدردی کے عناصر ناتجربہ کاری کے نقصانات وغیرہ خیالات کا اظہار نئے پیرائیوں میں کیا گیا ہے۔ وہ اپنی نظموں کے ذریعے معصوم ذہنوں کو پختگی اور ان کی فکر کو بالیدگی عطا کرنے کے لیے کوشاں نظر آتے ہیں۔
اقبال نے جو نظمیں بچوں کے لیے لکھیں وہ اس طرح ہیں

بانگ درا میں نو نظمیں
1: ایک مکڑا اور مکھی
2: ایک پہاڑ اور گلہری
3: ایک گائے اور بکری
4؛ بچے کی دعا
5: ہمدردی
6: ماں کا خواب
7: پرندے کی فریاد
8: ترانہ ہندی
9: ہندوستانی بچوں کا قومی گیت

ان نو نظموں کے علاوہ مزید دو نظموں ایک پرندہ اور جگنو دوسری بعنوان جگنو کا بھی شمار بچوں کے لیے لکھی گئی نظموں میں کیا جا سکتا ہے اس طرح بانگ درا میں کل گیارہ نظمیں ہیں جن میں سے سات پر عنوان کے نیچے قوسین میں بچوں کے لیے اور ما خوذ لکھا ہوا ہے ان مطبوعہ نظموں کے علاوہ اقبال کی 6 غیر مطبوعہ نظمیں ہیں جو پروفیسر جگناتھ آزاد نے 1962 میں کراچی میں فقیر سید وحید الدین سے حاصل کر کے 1977 میں بچوں کا اقبال کتاب میں شائع کیں یہ نظمیں ہیں

1 : شہد کی مکھی
2 : ننھی سی بوند
3 : محنت
4 : گھوڑوں کی مجلس
5: چاند اور شاعر
6: چند نصیحتیں
ان غیر مطبوعہ نظموں کے متعلق پروفیسر جگناتھ آزاد لکھتے ہیں کہ
غیر مطبوعہ کلام سے وہ کلام مراد ہے جو اقبال نے خود اپنے کلام کے مجموعوں میں شامل نہیں کیا اس طرح کا غیر مطبوعہ کلام مختلف رسالوں کتابوں اور مسودوں کی صورت میں موجود ہے۔ (3)
(اقبال کی کہانی ۔ جگناتھ آزاد )

مجوزہ 17 نظموں مطبوعہ اور غیر مطبوعہ میں اقبال نے نہ صرف اخلاقیات پر زور دیا ہے بلکہ مختلف قسم کے جذبات بیدار کرنے کی سعی کی ہے
ان کی نظم ایک مکڑا اور مکھی جو کہ میری ہاوٹ Mery hawitt کی نظم The spider and the fly سے ماخوذ ہے میں درس دیتے ہیں کہ مکر و فریب ہر قدم پر ہے عقلمندی اسی میں ہے کہ اسے پہچانا جائے اور اس کی گرفت سے خود کو بچایا جائے ورنہ جان بھی گنوانا پڑ سکتی ہے

اسی طرح قد و قامت کی بڑائی میں حقیقی بڑائی نہیں بلکہ اصل زندگی حرکت و عمل سے مزین ہے یہ بات ان کی دوسری نظم ایک پہاڑ اور گلہری جو کہ امریکہ کے مشہور شاعر ایمرسن کی مقبول نظم The mountain and the squirral سے ماخوذ ہے میں بتایا گیا ہے کہ اگر قدو قامت بڑا ہے جیسا کہ پہاڑ کا ہوتا ہے مگر اس وجود میں حرارت و حرکت نہ ہو تو وہ بے معنی و بے مصرف ہے اس کے بر عکس گلہری جیسا چھو ٹا سا جسم رکھنے والا جانور اس سے بر تر ہے یعنی کسی بھی چیز کا پیمانہ اس کے قد و قامت کو نہ بنایا جائے ہے اسے جب پہاڑ گلہری کو نا چیز اور کمتر کہہ کر حقارت کی نگاہ سے دیکھتا ہے تو گلہری جواباً کہتی ہے

قدم اٹھانے کی طاقت نہیں ذرا تجھ میں
نری بڑائی ہے خوبی ہے اور کیا تجھ میں
جو تو بڑا ہے تو مجھ سا ہنر دکھا مجھ کو
یہ چھا لیا ذرا توڑ کر دکھا مجھ کو
نہیں ہے چیز نکمی کوئی زمانے میں
کوئی برا نہیں قدرت کے کارخانے میں

ایک گائے اور بکری 19 اشعار پر پھیلی یہ نظم میں رواں اور سلیس زبان میں گائے اور بکری کے ذریعے کہانی ارتقا پذیر ہوتی ہے یہ نظم ٹیلر جین Tayler jane کی نظم The cow and the ass کا تر جمہ ہے اس نظم کے بارے میں ڈاکٹر اکبر حسین قریشی لکھتے ہیں :

۔۔۔۔نہ صرف ما خوذ بلکہ اس کا کامیاب ترجمہ بھی ہے ۔ جین ٹیلر کی اس نظم کا عنوان نظم کے مرکزی خیال کے مطابق ذیادہ صحیح معلوم ہو تا ہے اس لیے گدھا انسان کی کائنات میں مظلوم ترین مخلوق ہے اور اگر وہ اس کے باوجود انسان میں کوئی خیر کا پہلو دیکھ سکتا ہے ، تو اس سے شاعر کے انسانی خیر کے عقیدے کا ثبوت ملتا ہے ۔ البتہ یہ ضرور ہے کہ اقبال نے نہ صرف نظم کے ماحول کو مقامی رنگ دینے کی کوشش کی ہے بلکہ مقامی روایات کا احترام کرتے ہوئے نظم کا عنوان بھی بدل دیا ہے۔ (4)

نظم میں خوبصورت مناظر کی عکاسی کرتے ہوئے شاعر گائے اور بکری کا مکالمہ بیان کرتا ہے جس میں گائے شاکی لہجے میں اپنی زندگی کی دشواریوں کا ذکر کرتے ہوئے بڑے دلگیر انداز میں انسان کی دی ہوئی تکلیفوں کا ذکر کرتی ہے اور بکری سنجیدگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اسے جواب دیتی ہے
بات سچی ہے بے مزا لگتی
میں کہونگی مگر خدا لگتی
یہ چر ا گا ہ یہ ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا
یہ ہری گھاس او ر یہ سایہ
ایسی خوشیاں ہمیں نصیب کہاں
یہ کہاں بے زباں غریب کہاں
یہ مزے آدمی کے دم سے ہیں
لطف سارے اسی کے دم سے ہیں

اس طرح وہ بچوں کو نیکی کرنے والوں کا احسان ماننے کی ترغیب دلاتے ہیں
اسی طرح اقبال بچے میں جن خوبیوں کے آرزو مند ہیں اس کا اظہار وہ اپنی نظم بچے کی دعا میں کرتے ہیں جو کہ دو بند یا 6 اشعار پر مشتمل ہے
لب پہ آتی ہے دعا بن کے تمنا میری
بڑے ہی معصومانہ انداز میں بچہ بارگاہ خداوندی میں دعا کرتا ہے کہ اے میرے رب میری زندگی شمع کی طرح نور کا منبع بنا دے مجھے پھولوں کا سا حسن عطا کردے تاکہ میں اپنے ملک کی خوبصورتی میں اضافہ کا سبب بن جا ؤں علم سے میری دوستی پروانے کی مانند ہو جائے اور میں اس کے حصول کے لیے اس گرد منڈراتا رہوں ۔ مجھ میں دنیا سے ہمدردی کا جذبہ پیدا کر دے تاکہ میں غریبوں کا مددگار بنوآخری شعر میں وہ بڑے دل سوز انداز میں کہتا ہے کہ
میرے اللہ برائی سے بچانا مجھ کو
نیک جو راہ ہو اس رہ پہ چلانا مجھ کو
سیرت کی تعمیر کے لیے یہ نظم تعریف و تعارف کی محتاج نہیں

اسی طرح ان کی نظم ہمدردی تاریکیوں کو دور کرنے کا ایک نیا حوصلہ بدی کو نیکی میں بدل دینے کے عہد کو پختگی عطا کرتی ہے یہ نظم بھی انگلستان کے مشہور شاعر ولیم کوپر کی کی نظم سے ما خوذ ہے اس میں وہ جگنو کے ذریعے دوسروں کی مدد کا جذبہ پیدا کرنے کی کو شش کرتے ہیں آخری شعر میں پوری بات دل میں اتر جاتی ہے
ہیں لوگ وہی دنیا میں اچھے
آتے ہیں جو کام دوسروں کے

غلامی اور قید کی زندگی کس طرح آزادی کی تڑپ کو دل میں پیدا کرتی ہے اس کا اظہار نظم پرندے کی فریاد میں ملتا ہے یہ نظم کلیات اقبال میں ایک پرندے کی فریاد کے عنوان سے شائع ہوئی ہے اس میں پانچ بند اور کل 20 اشعار ہیں جب کہ بانگ درا میں 11 اشعار ملتے ہیں
اس نظم میں سوز رنج وغم کے ساتھ بے بسی اور بے کسی کا اظہار اپنی شدید ترین صورت میں ملتا ہے
آتا ہے یاد مجھ کو گزرا ہوا زمانہ
وہ باغ کی بہاریں وہ سب کا چہچہانا
آزادیاں کہاں اب وہ اپنے گھونسلے کی
اپنی خوشی سے آنا اپنی خوشی سے جانا

آزادی کی تڑپ اس سے والہانہ لگاؤ کچھ اس طرح بیان ہوتا ہے
اس قید کا الٰہی دکھڑا کسے سناؤں
ڈر ہے یہیں قفس میں میں غم سے مر نہ جاؤں
آزاد مجھ کو کر دے او قید کرنے والے
میں بے زباں ہوں قیدی ۔ تو چھوڑ کر دعا لے

اقبال وطن پرور اور جذبہ حب الوطنی سے سرشار تھے یہ ضرور ہے کہ انہوں نے اپنی شاعری میں ایک مخصوص نظریہ کو مقدم رکھا یعنی فلسفہ خودی کو مگر اس کے ساتھ ہی ہمیں ان کے یہاں وطن سے محبت کا جذبہ بھی کار فرما نظر آتا ہے انہوں نے اپنی شاعری کے ہر دور میں ایسی نظمیں کہی ہیں جو حب الوطنی کی آئینہ دار ہیں بچوں میں بھی مادر وطن سے الفت کے احساس کو جگانے کے لیے ٰ انہوں نے ترانہ ہندی اور ہندوستانی بچوں کا قومی گیت جیسی نظمیں کہیں ۔ جن میں ترانہ ہندی وہ نظم ہے جس میں ہندوستان کی عظمت اور اس پر فخر و انبساط کا احساس جلوہ فگن ہے
سارے جہاں سے اچھا ہندوستاں ہمارا
کہہ کر شاعر نے ملک کی عظمت پر بہار افشانی کردی ہے وطن سے نہ صرف محبت بلکہ عقیدت کے پھول نچھاور کر دئیے ہیں جس کی نظیر اردو شاعری میں نہیں ملتی یوں تو اس کا ہر شعر انفرادیت کے ساتھ اہمیت رکھتا ہے اور ملک کی تہذیب و تمدن ،اس کے قدرتی مناظر اس کی گنگا جمنی تہذیب اور اس کے ذرے ذرے سے شاعر کے جذباتی لگاؤ کا اظہار کرتا ہے لیکن آخر کا یہ شعر
مذہب نہیں سکھاتا آپس میں بیر رکھنا
ہندی ہیں ہم وطن ہیں ہندوستاں ہمارا
کہہ کر شاعر نے مختلف فرقوں اور قوموں میں بنٹے اس عظیم الشان ملک کو ایک اٹوٹ رشتے میں باندھ دیا جسے قومیت کا رشتہ کہا جاتا ہے

اسی طرح دوسرا نغمہ ہندوستانی بچوں کا قومی گیت جو کہ فروری 1905 میں مخزن لاہور میں شائع ہوا اور کلیات اقبال ( مرتبہ مولوی عبد الرزاق ) میں میرا وطن کے نام سے شائع ہوا پانچ بندوں پر مشتمل ہے اس نظم میں بچوں میں تمام مذاہب کی عزت کرنے اور احترام کرنے کی تلقین کے ساتھ تمام ہندوستانیوں میں محبت اور یگانگت پیدا کرنے کی کامیاب سعی کی گئی ہے
چشتی نے جس زمیں میں پیغام حق سنایا
نانک نے جس چمن میں وحدت کا گیت گایا
یونانیوں کو جس نے حیران کر دیا تھا
سارے جہاں کو جس نے علم و ہنر دیا تھا
مٹی کو جس کی حق نے زر کا اثر دیا تھا
تر کوں کا جس نے دامن ہیروں سے بھر دیا تھا
میرا وطن وہی ہے ۔۔۔ ۔۔ میرا وطن وہی ہے

باہمی اتفاق اور ایک دوسرے کے وجود کو اہم مان کر چلنا ترقی کا باعث ہے کائنات کی دلکشی ہم آہنگی میں پنہاں ہے 12 اشعار والی نظم ایک پرندہ اور جگنو میں وہ بچوں کو اسی بات کا درس دیتے ہیں
پروں کو میرے اس نے ضیاء دی
تجھے اس نے صدائے دلربا دی
تری منقار کو گانا سکھایا
مجھے گلزار کی مشعل بنایا
چمک بخشی مجھے آواز تجھ کو
دیا ہے سوز مجھ کو ساز تجھ کو

ان مطبوعہ نظموں کے علاوہ جنہیں غیرمطبوعہ میں بھی بچوں کی نفسیات اور ان کے تدریجی ارتقا کی مناسبت سے اخلاقی درس ، خدمت خلق ہمدردی ، نیکی کی راہ پر ہمہ وقت گامزن رہنے کی تلقین اور محنت کو اپنا شیوہ بنانے کی تاکید کرتے ہیں نا تجربہ کاری کی وجہ سے کسی کو ملزم نہ ٹھہرایا جائے بلکہ بڑوں کے مشوروں اور صلاح سے کام کیا جائے اسی طرح چند نصیحتیں نظم میں کامیابی ، تندرستی ،فرما نبرداری ، کتابوں کی حفاظت کی ہدایت دیتے ہیں

اقبال کی شاعری کی عظمت ان کی خوش آئند مستقبل کی آرزومندی میں پو شیدہ ہے وہ نو جوان نسل کی آرام طلبی ، بے حرکت و عملی سے نالاں ہیں مگر مایوس نہیں ہیں وہ کہتے ہیں
نہیں ہے نا امید اقبال اپنی کشت ویراں سے
ذرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زر خیز ہے ساقی
وہ نوجوان نسل میں آرزوؤں اور امیدوں کے نئے چراغ فروزاں کرنے کے متمنی ہیں بال جبریل اور ضرب کلیم میں جاوید کے نام اور جاوید سے نظمیں ان کے اسی خیال کی غماز ہیں
جاوید اقبال کے فرزند کا نام ہے جس وقت اقبال نے یہ نظمیں لکھیں اس وقت جاوید کی عمر 8 سال تھی اور وہ اقبال کے نزدیک نئی نسل کی علامت ہیں اقبال چاہتے ہیں کہ اپنے پیغام سے وہ نوجوانوں میں ایسا انقلابی جذبہ بیدار کر دیں کہ وہ حالات سے مقابلہ آرائی میں اپنی جان کی بازی لگا دیں اور ایک نئی دنیا بنانے میں کامیاب ثابت ہوں اسی کے پیش نظر وہ جاوید کو یعنی نئی نسل کو نصیحتیں کرتے ہیں وہ اس کے کردار کو استحکام بخشتے ہوئے ایک بہترین نظریہ حیات عطا کرتے ہیں تو حید کے نظریہ کی وضاحت کرتے ہوئے حال کے حالات کا گہرائی سے جا ئزہ لینے کی تاکید کرتے ہیں تعلیمی درس گاہیں انہیں کردار کا غازی بنانے میں ناکام ہیں وہ نہ تو اسے خودی کی پہچان کرا رہی ہیں نہ ہی خدا سے آشنائی کا راستہ دکھارہی ہیں زندگی کا اصل مقصد حرکت و عمل میں پو شیدہ ہے حیات کا ارتقاء مسلسل ایک سفر ہے جسے شاہین کی رفتار اورپرواز سے طے کرنا ہے وہ کہتے ہیں
تو شاہیں ہے پرواز ہے کام تیرا
ترے سامنے آسماں اور بھی ہیں
یہ دونوں نظمیں بچوں کی نظموں میں شامل نہیں ہیں مگر اس میں اقبال نے جو ہدایتیں کی ہیں اور نئی نسل سے جو توقعات انھیں ہیں ان کے پیش نظر ان سبق آموز نظموں کو بھی ان میں شامل کیا جا سکتا ہے جو بچوں کے لیے لکھی گئی ہیں

آخر میں میں یہی کہونگی کہ
اقبال بڑا اپدیشک ہے من باتوں میں موہ لیتا ہے
جی ہاں وہ اپنی شاعری سے نہ صرف بڑوں کا بلکہ اپنی نظموں سے بچوں کا من بھی پوری طرح موہ لیتا ہے وہ ان کے ذہن کی تعمیر میں وہ تمام خوبیاں پیدا کرنے کے لیے کو شاں ہے جس سے ان کی شخصیت مکمل ہو وہ غرور و تکبر سے پاک ، ہمدردی کے جذبے سے سرشار ، محسن شناس ، غریبوں کا حمایتی ، دردمندوں اور ضعیفوں سے محبت کرنے والا وطن پرست ، برائیوں سے پاک ، خود آگاہ اور خدا آگاہ پیکر عمل کی مجسم تعبیر ان نو نہالوں میں دیکھنے کا خوہش مند ہے کیونکہ یہی بچہ مستقبل کا ضامن ہے۔

حوالہ جات
1 : بچوں کا اقبال ۔ جگن ناتھ آزاد
2: اقبال کے نثری اصول ۔ڈاکٹر عبدالغفار شکیل
3:(اقبال کی کہانی ۔ جگناتھ آزاد )
4: سہ ماہی اردو ۔کراچی ۔جنوری 1966 ص ۔ 27

***
ishratnahid[@]gmail.com
Dr. Ishrat Naheed
Asst. Professor, Maulana Azad National Urdu University.
C-9, H-Park, Mahanagar Extn., Behind Neera Hospital, Lucknow – 220 006
Mob. : 9598987727
ڈاکٹر عشرت ناہید

Iqbal's contribution to Children's literature. Article: Dr. Ishrat Naheed

0 comments:

Post a Comment