Search | تلاش
Archives
TaemeerNews Rate Card

Ads 468x60px

Our Sponsor: Socio Reforms Society India

تعمیر نیوز آرکائیو - TaemeerNews Archive

2016-03-15 - بوقت: 18:26

عام بجٹ عوام کی توقعات سے کم - اپوزیشن کا احساس

Comments : 0
نئی دہلی
یو این آئی
لوک سبھا میں اپوزیشن ارکان نے عام بجٹ 2016-17ء کو روکھا قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس عوام کی توقعات پر بہت کم حاصل ہوئی ہیں۔ جب کہ حکمراں جماعتوں نے اس بجٹ کی ستائش کرتے ہوئے اسے ترقی پسند اور موافق عوام قرار دیا ۔ بجٹ پر بحث میں شامل ہوتے ہوئے بی جے پی کی پونم مہاجن نے اس بجٹ کو عالمی معاشی صورتحال کے تناظر میں عملی ، ترقی پسند اور موافق عوام بجٹ تیار کرنے پر وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر فینانس ارون جیٹلی کی ستائش کی ۔ انہوں نے کہا کہ عالمی معاشی سست روی نے دنیا میں معاشی سرگرمیوں اور ترقی میں رکاوٹ ڈالا ہے لیکن وزیر فینانس نے اپنی مدبرانہ حکمت سے اس بجٹ کو ترقی کی امید پیدا کرنے والا تیار کیا ہے ۔ پونم مہاجن نے کہا کہ یہ بجٹ زراعت سیکٹر اور ڈھانچہ جاتی ترقی پر مرکوز ہے۔ یہ ہی دو شعبے ہیں جو ملک کی اقتصادی اندرونی طاقت کوابھارتے ہوئے اقتصادی بنیاد مضبوط کریں گے ۔ انہوں نے کسانوں کو ملک کا پہلا شہری بتاتے ہوئے کہا کہ زراعت آبپاشی منصوبہ ، مٹی ہیلتھ کارڈ اور فصل انشورنس کی منصوبہ بندی کسانوں کی حالت بہتر بنانے میں موثر ثابت ہوگی۔ نیشنلسٹ کانگریس پارٹی( این سی پی) کے طارق انور نے کہا کہ بجٹ میں اعلانات ظاہری طور پر ہی اچھے دنوں کی امید جگاتی ہیں لیکن گاؤں کے کسان کے مفاد کی باتیں آدھی ادھوری سچ ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ گہرائی میں دیکھیں تو یہ بجٹ بڑی کمپنیوں اور سرمایہ کاروں کے مفاد والا بجٹ ہے ۔ اس میں تعریف کے قابل کچھ بھی نہیں ہے ۔ انہوں نے خام تیل کی قیمتوں میں آئی کمی لیکن عوام کو صرف چوتھائی فائدہ ملا۔ باقی حکومت نے مالی استحکام کے لئے رکھ لیا ۔ کانگریس کے سنتوش سنگھ چودھری نیکہا کہ بیروزگاری کے مسئلے پر ٹھوس قدم نہیں اٹھائے گئے ہی۔ میک ان انڈیا کی بات کرتے ہیں لیکن گھریلو صنعتوں کو مضبوط کرنے کے لئے کچھ نہیں ہورہا ہے ۔ انہوں نے چین سے آنے والے سامان پر اینٹی ڈمپنگ فیس لگانے کا مطالبہ کیا۔ بی جے پی کے وریندر سنگھ مست نے کہا کہ ملک کے68سال کی آزادی کے بعد پہلی بار یہ کسانوں کے حق میں مکمل طور پر پہلا بجٹ آیا ہے۔ انہوں نے کسانوں کو ملک کا مالک قرار دیتے ہوئے کہا کہ مودی حکومت نے زراعتی بجٹ پیش کر کے ، راج دھرم، نبھایا ہے ۔ وریندر سنگھ نے کہا کہ وزیر اعظم آبپاشی منصوبہ کی وجہ سے کسان کی لاگت30فیصد تک کم ہوجائے گا ۔ راشٹریہ جنتادل کے جے پرکاش نارائن یادو نے کہا کہ مودی حکومت کا عام بجٹ عوام کو توڑنے والا اور الفاظ کی بازی گری ہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک کی16000ایکڑ زرعی زمین بیکار پڑی ہے اور حکومت اس کے لئے قدم نہیں اٹھا رہی ہے۔ بی جے پی کے گنیش سنگھ نے بجٹ کو عوام کی ضرورت کے لئے انتہائی متوازن بتایا اور کہا کہ بی جے پی نے جو وعد ے کئے تھے اسے زمین پر اتارنے کے لئے بجٹ میں پورا نظم کیا گیا ہے ۔ بجٹ ملک کی بنیاد کو مضبوط کرنے والا اور سب کا ساتھ سب کا وکاس اور صحت مند ہندوستان کی تعمیر کرنے والا بجٹ ہے ۔ انا ڈی ایم کے کے ایم چندر کاشی نے کہا کہ بجٹ میں بینکوں کی غیر فعال رقم( این پی اے) کی وصولی کے لئے کوئی قدم نہیں اٹھایا گیا ہے ۔ اسی طرح سے غیر منظم سیکٹر کے مزدوروں کے مفادات میں ٹھوس قدم اٹھائے جانے کی ضرورت ہے ۔ بی جے پی کے بھولا سنگھ نے بجٹ کو کسانوں کے لئے امید بتایا اور کہا کہ اسمیں جو انتظام ہے اس سے ملک کے کسان کی زندگی میں بہتری آئے گی ۔ ترنمول کانگریس کے تاپس منڈل نے بجٹ کو بے سمت اور لامرکزیت والا بتاتے ہوئے کہا کہ اس میں مغربی بنگال کے لئے کچھ نہیں ہے ۔ بجٹ سے ملک کے عوام کو بہت امیدیں تھیں لیکن اسے مایوسی ہاتھ لگی ۔ بی جے پی کے گجیند ر سنگھ نے بجٹ کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ مودی حکومت نے ایسے وقت ملک کی کمان سنبھالی جب پوری دنیا اقتصادی بحران کے دور سے گزر رہی تھی ۔ اس حکومت کی سب سے بڑی کامیابی یہی ہے کہ اس نے پستی کی طرف جا نے والی ہندوستانی معیشت کو واپس پٹری پر لانے کا کام کیا ۔ شرومنی اکالی دل کے پریم سنگھ چندو ماجرا نے کسانوں کے سلسلے میں قائم سوامی ناتھن کمیٹی کی سفارشات لاگو کرنے کا مطالبہ کیا۔ کانگریس کے ننانگ ایرنگ نے شمال مشرقی ریاستوں میں سڑک اور ٹیلی کمیونیکیشن سمیت مختلف بنیادی ڈھانچے کو درست کرنے کے لئے خصوصی اقتصادی تعاون کی ضرورت کا اظہار کیا ۔ شیو سینا کے راہ لسیوا لے نے سپریم کورٹ کی ہدیات کے مطابق قومی کسان کمیشن قائم کیے جانے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے ممبئی کی ترقی کے لئے الگ سے فنڈ جاری کرنے کا مشورہ بھی دیا ۔ راشٹریہ لوک سمتا پارٹی کے رام کمار شرما نے نیپال کی ندیوں سے شمالی بہار کو ہونے والے نقصان کی طرف حکومت کی توجہ اپنی طرف مبذول کی۔ اپنا دل کی انوپر یہ پٹیل نے حکومت سے جاننا چاہا کہ حکومت نے کسانوں کی آمدنی دوگنا کرنے کے لئے کون سی منصوبہ بندی کی ہے ۔

--

0 comments:

Post a Comment