Search | تلاش
Archives
TaemeerNews Rate Card

Ads 468x60px

Our Sponsor: Socio Reforms Society India

تعمیر نیوز آرکائیو - TaemeerNews Archive

2016-03-29 - بوقت: 18:20

اسلام بنگلہ دیش کا سرکاری مذہب برقرار

Comments : 0
ڈھاکہ
پی ٹی آئی
بنگلہ دیش ہائیکورٹ نے سیکولر جہد کاروں کی جانب سے دائر کردہ ایک درخواست کو مسترد کردیا جس میں مسلم اکثریتی ملک کے سرکاری مذہب کی حیثیت سے اسلام کو تسلیم کرنے سے متعلق دستوری دفعات کو چیلنج کیا گیا۔ جسٹس نعیمہ حیدر جسٹس قاضی رضاالحق اور جسٹس اشرف الکمال پر مشتمل بنچ نے آج دوپہر اس سلسلہ میں احکام جاری کئے ۔ ہائی کورٹ نے اپنے حکم میں کہا کہ درخواست گزاروں کو کورٹ درخواست داخل کرنے کا حق نہیں ہے ۔ دستور میں یہ دفعہ1988ء میں ایک سابق فوجی ڈکٹیٹر جنرل حسین محمد ارشاد نے شامل کی تھی ، جس کے خلاف ملک کی15نامور شخصیات نے28سال قبل مقدمہ دائر کیا تھا ۔ آج کا حکم چیف جسٹس سریندر کمار سنہا کی جانب سے اسلام کو بنگلہ دیش کے سرکاری مذہب کی حیثیت سے ختم کرنے کے لئے قانونی کاروائی کو آگے بڑھانے تین رکنی بنچ کی تشکیل کے تقریبا ایک ماہ بعد سامنے آیا ۔ مقدمہ دائر کئے جانے کے بعد طویل عرصہ کے دوران15کے منجملہ10درخواست گزاروں کی موت واقع ہوگئی جن میں ایک سابق چیف جسٹس اور کئی سیکولر ادیب و مصنفین شامل ہیں ۔ عدالتی عہدیداروں نے کہا کہ بنچ توقع ہے کہ طویل فیصلہ بعد میں تحریری طور پر جاری کرے گی لیکن اسنے اپنے مختصر فیصلہ رٹ کو یہ کہتے ہوئے مسترد کردیا کہ درخواست گزاروں کو دستوری دفعہ کو چیلنج کرنے کا حق نہیں ہے ۔ کیونکہ انہوں نے انفرادی طور پر نہیں بلکہ ایک تنظیم کی حیثیت سے درخواست داخل کی تھی ۔ بنچ نے یکم مارچ کو گروپ سے وضاحت طلب کی تھی کہ آیا وہ دستور کی دفعہ2Aکی قانونی حیثیت کو چیلنج کرنے کا حق رکھتی ہے ۔ جس میں اسلام کو سرکاری مذہب قرار دیا ۔ کئی قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ رٹ مفاد عامہ معاملہ کی حیثیت سے داخل کی گئی تھی ، جس میں تنظیموں کے بجائے افراد کو مدعی بننا ہوتا ہے ۔ آج کا فیصلہ ایسے وقت سامنے آیا جب کہ ملک کی سب سے بڑی دینی جماعت اسلامی نے قانونی کارروائی کے خلاف ملک گیر احتجاج شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔ یاد رہے کہ بنگلہ دیش کی90فیصد آبادی مسلمانوں پر مشتمل ہے ۔

Bangladesh court upholds Islam as religion of the state

0 comments:

Post a Comment