Search | تلاش
Archives
TaemeerNews Rate Card

Ads 468x60px

Our Sponsor: Socio Reforms Society India

تعمیر نیوز آرکائیو - TaemeerNews Archive

2016-03-13 - بوقت: 17:19

بار شناسائی - ایک مشہور سفارتکار کی تلخ و شیریں یادیں

Comments : 0
baar-e-shanasayi
ایک عرصے سے مجھے کرامت اللہ غوری کی کتاب "بارشناسائی" کی تلاش تھی۔ اسے حاصل کرنے کی بہتیری کوششیں اب تک رائیگاں ہوئیں ۔ اپنے وطن حیدرآباد میں بھی اسے تلاش کرتا رہا لیکن ناکامی ہی ہاتھ لگی حالانکہ اس کا اولین ایڈیشن وطن عزیز ہندوستان ہی میں شائع ہوا تھا ۔ اس ہفتے خوش قسمتی سے میری مراد نہ صرف یہ کہ بر آئی بلکہ مصنف کے دستخط کے ساتھ اس کی ایک کاپی حاصل ہوئی۔ ہوا یوں کہ غوری صاحب دبئی آئے ہوئے تھے ۔ وہ اکثر دبئی آتے ہیں جہاں ان کے صاحبزادے سکونت پذیر ہیں ۔ وہ اور ان کی اہلیہ عابدہ غوری جو کہ اچھی شاعرہ بھی ہیں، اپنے بیٹے اور سعودی عرب میں اپنی بیٹی سے ملاقات کے لئے اکثر کناڈا کی سخت سردی سے بچنے کی غرض سے مشرق وسطیٰ کا دورہ کرتے ہیں ۔ کناڈا اب ان کا وطن ثانی ہے ۔

کرامت اللہ غوری نہ صرف یہ کہ بلند پایہ شاعر اور ادیب ہیں بلکہ پاکستانی سفارت سے ان کی وابستگی کا عرصہ کم و بیش 36/سال پر محیط رہا۔ ان کا شمار پاکستان کے سینئر سفارت کاروں میں ہوتا ہے۔ وہ چین، جاپان، ترکی، کویت ، الجبیریا اور عراق میں پاکستان کے سفیر رہے ۔ یہ وہ دور تھا جب پاکستان میں حکومت کی باگ ڈور ذوالفقار علی بھٹو ، بے نظیر بھٹو ، نواز شریف ، محمد خان جنیجو، جنرل ضیاء الحق ، فاروق لغاری اور جنرل پرویز مشرف جیسے صدور اور وزرائے اعظم کے ہاتھوں میں تھی۔ غوری صاحب کو ان لیڈروں کے ساتھ کام کرنے کا موقع ملا ۔ انہی تجربات ، مشاہدات اور اس دور کی سیاسی سر گرمیوں پر ان کے احساسات و تاثرات کا مرقع یہ کتاب(بارشناسائی) ہے جس کا مطالبہ ایک بار شروع ہو تو ایسا لگتا ہے کہ کتاب پڑھتے ہی چلے جائیں ۔ جس شام مجھے کتا ب ملی ، اسی رات کو جب تک میں نے کتاب کا مطالعہ مکمل نہیں کرلیا،سو نہیں سکا۔ اس کے باوجود یہ احساس بار بار کروٹیں لیتا رہا کہ کاش غوری صاحب مزید لکھتے اور راقم کو ان کی سفارتی سوانح سے مزید استفادہ کا موقع ملتا۔ کسی اچھی کتاب کی یہی اہم خوبی ہے کہ جسے قاری چھوڑنا نہ چاہے اور مطالعہ مکمل ہونے پر لگے کہ کاش کتاب اتنی جلدی ختم نہ ہوتی۔

اردو میں لکھی گئی "بار شناسائی" کچھ لوگوں، کچھ یادوں اور کچھ تذکروں پر مبنی ہے ۔ یہ ان شخصیات پر لکھے گئے مضامین کا مجموعہ ہے جنہوں نے بقول مصنف پاکستان کی تاریخ بنائی اور بگاڑی ۔ لیکن زیر تذکرہ کتاب انہی سیاسی شخصیتوں اور ان کے دور کی سیاسی سر گرمیوں تک محدود نہیں بلکہ اس میں کئی دیگر شخصیات پر بھی مضامین شامل ہیں جن کی خدما ت سے انکار نہیں کیا جاسکتا ، مثال کے طور پر فیض احمد فیض ، حکیم محمد سعید ، سائنسداں پروفیسر عبدالسلام اور کرکٹ کے ہیرو عمران خان جو اَب سیاست کے گلیاروں کی سیر کررہے ہیں ۔ غوری صاحب نے ان تمام شخصیات سے اپنے تعلق اور ان کی یادوں ہی کو موضوع نہیں بنایا بلکہ کئی جگہوں پر واقعات کے حوالے سے اپنی بات میں وزن پیدا کیا ہے ۔ یہاں یہ بتانا بے محل نہ ہوگا کہ میں، کرامت اللہ غوری جیسے سینئر رائٹر اور کالم نگار کی تحریریں اکثر و بیشتر پڑھتا رہا ہوں اور اکثر یہ سوچ کر حیران ہوتا رہا کہ ایسا صاف گو اور اتنا ایماندار شخص میدان سفارت میں کیسے اتنے برس تک رہ سکا؟ ان کی مثال "غلط پیشے میں صحیح آدمی" کی سی ہے ۔ شاید اپنی صاف گوئی اور صحیح کو صحیح کہنے کی عادت ہی کا نتیجہ تھا کہ انہیں اس وقت عراق کا سفیر مقرر کیا گیا جب اس ملک پر معاشی پابندیاں عائد کی گئی تھیں ۔ اور شاید یہی وجہ تھی کہ انہین وقت سے پہلے سبکدوش ہونے پر مجبور ہونا پڑا ۔ امور سفارت کاری سے ان کے غیر سفارتی طرز عمل ہی کی وجہ سے مبینہ طور پر آف علی زرداری کی ایماء پر "ڈان" میں شائع ہونے والا ان کا کالم روک دیا گیا تھا ۔ تاہم ، میری رائے یہ ہے کہ وہ اپنے کالموں میں جتنے بے باک تھے ، اتنی ہی احتیاط انہوں نے کتاب لکھنے وقت برتی ہے۔ اس کے باوجود پاکستان کے کئی پبلیشر اس کتاب کو شائع کرنے سے گریز کرتے رہے ۔ مصنف نے ایک جگہ لکھا ہے کہ یہ وہ کتاب ہے جو پاکستان پر لکھی گئی ہے لیکن پاکستان میں اشاعت کے لئے ناموزوں تصور کی گئی ۔ بڑے ردو کد کے بعد اسے کراچی کے اٹلانٹس پبلی کیشنز نے شائع کیا جس کی مقبولیت کا اندازہ اس بات سے لگایاجاسکتا ہے کہ تیسرا ایڈیشن ہے جو میرے ہاتھوں میں ہے ۔ دہلی میں جو غوری صاحب کا آبائی وطن ہے ، فاروس میڈیا نے اسے شائع کیا ہے ۔

کرامت اللہ غوری کے خاندان نے اس وقت پاکستان ہجرت کی جب ان کی عمر چھ سال تھی۔ حصول تعلیم کے بعد ابتدائی عملی زندگی میں انہوں نے درس و تدریس کا پیشہ اختیار کیا اور پھر جلد ہی پاکستانی سفارت سے وابستہ ہوگئے ۔ اس وابستگی نے انہیں عزت ، دولت ، شہرت سب کچھ عطا کیا ، یہ الگ بات ہے کہ اس راہ میں کچھ پیچ و خم بھی آئے ۔ ذوالفقار علی بھٹو ، جنرل ضیاء الحق اور بعد کے دور میں بے نظیر بھٹو اور نواز شریف پر لکھے گئے مضامین کتاب کا مطالعہ ختم ہونے کے باوجود دیر تک قاری کے ساتھ رہتے ہیں ۔ بار شناسائی، میں مختلف شخصیات کے ساتھ گزرے ہوئے لمحات کا بھی تذکرہ ہے ۔ یہاں ایک تذکرہ پر اکتفا کیاجاتا ہے ۔ غوری صاحب بتاتے ہیں کہ ایک مرتبہ جب جنرل پرویز مشرف ، نواز شریف کا تختہ پلٹنے کے بعد ترکی کے دورے پر گئے تو انقرہ میں غوری صاحب کا خاص وسیع ذاتی کتب خانہ دیکھ کر حیران رہ گئے اور پوچھ بیٹھے کہ کیا اتنی کتابیں آپ نے پڑھی ہیں؟ غوری صاحب نے جواب دیا کہ نہ صرف پڑھی ہیں بلکہ ان کے ساتھ اب تک کی زندگی کا بیشتر حصہ گزارا ہے ۔ آج بھی کچھ پڑھے بغیر رات کو سو نہیں پاتا ہوں ۔ یہ سن کر مشرف نے جواب دیا تھا : مجھے پڑھنے کا شوق نہیں ! ایسے ہی واقعات اس کتاب کو قابل مطالعہ ہی نہیں اتنا دلچسپ بناتے ہیں کہ پڑھتے چلے جائیے ، سیری نہیں ہوتی ۔ ذوالفقار علی بھٹو کے بارے میں غوری صاحب کی یہ رائے دلچسپی سے خالی نہیں کہ انہوں نے خود کو سوشلسٹ لیڈر اور عوامی لیڈر باور کرانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی، آکسفورڈ کی تعلیم بھی حاصل کی اور خود کو جمہوریت نواز بناکر پیش بھی کیا، اس کے باوجود وہ وڈیرہ ہی رہے ۔

جنرل ضیاء الحق کے بارے میں عام رائے یہ ہے کہ ان کا دور آمریت کے ان تمام مصائب کی آماجگاہ تھا جو عموما آمریت سے منسوب کئے جاتے ہیں لیکن غوری صاحب کی رائے بالکل مختلف ہے ۔ ان کا کہنا ہے کہ انہوں نے ضیاء الحق سے زیادہ شریف اور مخلص شخص کوئی اور نہیں دیکھا۔ اپ نے اس دعوے کی دلیل کے طور پر انہوں نے کئی واقعات کا حوالہ دیا ۔ یہاں کتاب پر تبصرہ مقصود نہیں لیکن اتنا ضرور کہنا چاہتا ہوں کہ یہ کتاب ہر اس طالب علم کو پڑھنی چاہئے جو جنوبی ایشیاء کی سیاست کا مطالعہ کرنا چاہتا ہے ، خاص طور پر پاکستان کی سیاست کا۔

Baar-e-Shanasayi, Bitter and sweet memories of a famous diplomat Karamatullah Ghauri. Reviewer: Aijaz Zaka Syed

0 comments:

Post a Comment