Search | تلاش
Archives
TaemeerNews Rate Card

Ads 468x60px

Our Sponsor: Socio Reforms Society India

تعمیر نیوز آرکائیو - TaemeerNews Archive

2016-02-24 - بوقت: 23:31

پارلیمنٹ میں خلل سے گریز کرنے ارکان کو صدر جمہوریہ کا مشورہ

Comments : 0
نئی دہلی
پی ٹی آئی
پارلیمنٹ کے بجٹ سیشن پر منڈلاتے ہوئے مسائل کے بادل اور حکومت و اپوزیشن کے درمیان تعطل کے اشاروں کے بیچ صدرجمہوریہ پرنب مکرجی نے آج قانون سازوں سے خواہش کی کہ وہ رکاوٹ یا خلل کا باعث نہ بنیں بلکہ ایوان میں مباحث کریں ۔ پارلیمنٹ کے بجٹ سیشن کے پہلے دن دونوں ایوانوں کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرت ہوئے صدر نے عوام سے بھی ملک کی ترقی کا حصہ بننے کی خواہش کی اور معیشت کو آگے بڑھانے کسانوں، خواتین اور معاشی طور پر پسماندہ طبقات کے بشمول عوام کے مختلف طبقات کی بہبودی کے سلسلہ میں حکومت کی کوششوں اور اقدامات کو اجاگر کیا ۔ مکرجی نے کہا ہماری پارلیمنٹ عوام کے عظیم عزم کا اظہار کرتی ہے ۔ جمہوری جذبہ بحث و مباحث کا تقاضہ کرتاہے نہ کہ رکاوٹ و خلل اندازی کا۔ جمہوریت کے اسمندر میں ہونے والے مباحث کے جذبہ سے تمام گوشوں سے مدبرانہ خیالات سامنے آنے چاہئیں ۔ انہوں نے تمام ارکان سے پارلیمنٹ کے تئیں اپنی ذمہ داری پوری کرنے کی خواہش کی اور کہا آئیے ہم ایک سرسبز و خوشحال ہندوستان کی تعمیر کے لئے اپنی اجتماعی جدو جہد کا مظاہرہ کریں ۔ پارلیمانی کارروائی کے بارے میں صدر کے یہ احساسات گزشتہ دو سیشنس کے مکمل غیر کارکردی ہوجانے کے پس منظر میں اہمیت رکھتے ہیں جب کہ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان اس مرتبہ بھی جاٹ احتجاج ، جے این یو تنازعہ، ریسرچ اسکالر کی خود کشی، ارونا چل پردیش میں سیاسی بحران اور جموں و کشمیر کی صورتحال کو لے کر کافی کڑے تیور دیکھے جارہے ہیں۔ صدر کی یہ اپیل وزیر اعظم نریندر مودی کی جانب سے بجٹ سیشن کے آغاز سے قبل جاری کردہ مختصر بیان میں کی گئی اپیل کی بھی عکاسی کررہی تھی جس میں مودی نے بجٹ سیشن کو ثمر آور بنانے کی ارکان مقننہ سے خواہش کی ہے ۔ صدر جمہوریہ نے کہا کہ حکومت سب کا وکاس کے لئے تمام ممکنہ کوشش کررہی ہے لیکن اس کے لئے سب کا ساتھ ہونا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ مالیاتی اقدامات اورسماجی تحفظ حکومت کا ترجیحی ایجنڈہ ہے ۔ صدر نے کہا کہ کاروبار کو آسان بنانے حکومت کے اقدامات کی وجہ سے عالمی بینک کی حالیہ رینکنگ میں ہندوستان نے بارہ درجہ آگے چھلانگ لگائی ہے ۔ اس کے علاوہ میک ان انڈیا پروگرام نے ملک کو ایف ڈی آئی کے بہاؤ میں39فیصد اضافہ کا موقع فراہم کیا اگرچہ عالمی سطح پر منفی سرمایہ کاری ماحول پایاجاتا ہے ۔ انہوں نے زرعی شعبہ میں چلائے جانے والے پروگراموں پر بھی اطمینان کا اظہار کیا ۔ مکرجی نے کہا کہ میری حکومت غریبوں اور کسانوں کی فلاح و بہبوود اور نوجوانوں کے روزگار پر توجہ مرکوز کررہی ہے۔ مالیاتی اختصاس اور سماجی تحفظ کے ذریعہ اس مقصدکو حاصل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس سلسلہ میں زرعی انشورنس اسکیم بھی اہم ہے ۔ جس سے لاکھوں کسانوں کو فائدہ پہونچے گا ۔ صدر جمہوریہ نے ملک میں سیکوریٹی اقدامات کا حوالہ دیتے ہوئے پٹھان کوٹ فضائی اڈہ پر حال ہی میں عسکریت پسندوں کے حملہ کو ناکام بنانے پر سیکوریٹی فورسس کو مبارکباد دی۔
پی ٹی آئی، یو این آئی کی علیحدہ اطلاع کے بموجب پارلیمنٹ کے بجٹ اجلاس کا طوفانی ہونے کے امکان کے دوران وزیر اعظم نریندر مودی نے آج امید ظاہر کی کہ بجٹ اجلاس ثمر آور ہوگا اس کے استعمال تعمیری مباحث کے لئے کیاجائے گا۔ پارلیمنٹ کے اجلاس کے آغاز سے قبل احاطہ پارلیمنٹ میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے مودی نے کہا، میں امید کرتا ہوں کہ پارلیمنٹ کابجٹ اجلاس کامیا ب رہے گا اور حکومت کے کاموں کی تعمیری تنقید ہوگی ۔ انہوں نے کہا کہ ایوان کا استعمال مثبت بات چیت کے لئے ہونا چاہئے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ پارلیمنٹ میں بحث کے دوران اپوزیشن جماعتوں کے ہمارے دوست مثبت رویہ اختیار کریں گے ۔ وزیر اعظم نے کہا کہ اپوزیشن کی جانب سے حکومت پر شدید تنقید سے ملک میں جمہوریت کی قوت کا اندازہ ہوتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ بجٹ اجلاسکے دوران ہم وطنوں کی خواہشات اور امیدوں سے جڑے تماممسائل پر بامعنی بات چیت ہوگی اور وقت کے صحیح استعمال کے ساتھ ساتھ حکومت کی تنقید اور اس کی کمی بھی سامنے لائی جائے گی ۔ مودی نے اپنے بیان میں کہا کہ سواسو کروڑ ہم وطنوں کی نگاہیں پارلیمنٹ کی کارروائی ، ریل اور عام بجٹ پر مرکوز رہیں گی ۔ اس کے علاوہ عالمی معیشت میں ہندوستان کی صورتحال کے پیش نظر دنیا کی توجہ بھی اس بجٹ پر رہے گی ۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ کی کاروائی آسانی سے چلانے کے لئے گزشتہ کئی دنوں سے تمام جماعتوں کے ساتھ تبادلہ خیال کیاگیا ہے ۔ یہ بات چیت خانہ پری سے اوپر اٹھ کر کی گئی ہے اور کچھ جماعتوں کے رہنماؤں کے ساتھ ون ٹو ون بات چیت بھی ہوئی ہے۔ جتنی بھی ملاقاتیں ہوئی ہیں ۔ اس میں اپوزیشن کے تمام ساتھیوں نے مثبت رخ اختیار کیا ہے ۔ انہوں نے کہا یہ میرا یقین ہے کہ پارلیمنٹ کے وقت کا صحیح استعمال کیاجائے گا اور بامعنی بحثیں ہوں گی۔ ملک کے عام شہریوں کو جو امیدیں اور توقعات ہیں، ان پر سنجیدگی کے ساتھ غور و فکر کیاجائے گا ۔ اپوزیشن کی طرف سے جواہر لال نہرو یونیورسٹی اور دیگر مسائل پر حکومت کو گھیرنے کی تیاریوں کی اطلاعات کے پیش نظر انہوں نے کہا کہ میں امید کرتا ہوں کہ ایوان کا استعمال انتہائی غوروخوض کے لئے ہونا چاہئے ۔ حکومت کی بھی بھرپور تنقید ہونی چاہئے اور حکومت کی خرابیوں کو بھی اجاگر کیاجانا چاہئے ۔ یہی ایک راستہ ہے جس پر چل کر ہم جمہوریت کو مضبوط بنانے کا اور عوام کی توقعات پر کھرا اترسکتے ہیں۔

avoid disruption of Parliament, suggested President

0 comments:

Post a Comment