Search | تلاش
Archives
TaemeerNews Rate Card

Ads 468x60px

Our Sponsor: Socio Reforms Society India

تعمیر نیوز آرکائیو - TaemeerNews Archive

2016-02-29 - بوقت: 23:51

تھانے - ارکان خاندان کے اجتماعی قتل کے بعد ایک شخص کی خودکشی

Comments : 0
تھانے
پی ٹی آئی
دل دہلا دینے والے ایک واقعہ میں35سالہ شخص نے اس کے خاندان کے14ارکان کو جن میں والدین، بیوی اور بچے شامل ہیں ، مبینہ طور پر ہلاک کرنے کے بعد خود کشی کرلی ۔ یہ قتل انتہائی بے رحمانہ اور دردناک انداز میں کیا گیا ۔ ملزم کا نام حسنین انورواریکر بتایا گیا ہے جس نے دو شیر خوار بچوں سمیت تمام افراد کے گلے کاٹ دئیے اور خود اپنی جان بھی دے دی ۔ یہ واقعہ آج صبح مہاراشٹرا کے ضلع تھانے کے کسر واڑہ والی علاقہ میں پیش آیا ۔ پولیس نے بتایا کہ مہلوکین میں سات بچے شامل ہیں ۔ ان میں سب سے چھوٹی3ماہ کی اس کی دختر کے علاوہ چھ خواتین اور اس کے والد ہیں ۔ یہ تمام نعشیں خون میں لت پت پڑی ہوئی تھیں۔ حسنین انور واریکر کی نعش پھندے سے لٹکی ہوئی پائی گئی جب کہ اس کے ہاتھ میں چاقو تھا ۔ اندوہناک واقعہ میں ایک شخص بچ گیا جو ہاسپٹل میں زیر علاج ہے۔ تھانے کے جوائنٹ کمشنر پولیس اشوتوش دھمرے نے کہا کہ حسنین نے اپنی تین بہنوں اور ان کے بچوں کو نوی ممبئی اور بھیونڈی سے ایک دعوت کے لئے بلایا۔ وہ اکثر ایسی دعوتیں کرتا رہتا تھا ۔ کامرس گریجویٹ حسنین نوی ممبئی میں ایک سی اے فرم میں انکم ٹیکس سے متعلق دستاویزات تیار کرتا تھا ۔ شبہ ہے کہ اس نے ایک خواب آور دوا ملا کر تمام افراد کو مشروب پلایا جس کے بعد ان کے گلے کاٹ کر قتل کردیا۔ حسنین نے اسی دن اپنے گھر کے قریب ایک مسجد میں رات3بجے نماز ادا کی اور گھر لوٹنے کے بعد یکے بعد دیگرے تمام افراد خاندان کے گلے کاٹ ڈالے اور تقریبا صبح5تا5:30بجے کے درمیان خود بھی پھانسی لے کر خود کشی کرلی انہوں نے کہا کہ خاندان کی واحد زندہ بچ جانے والی22سالہ بہن ثوبیہ برمل نے ایک کھڑکی سے مدد کے لئے پکارا جس پر پڑوسی وہاں جمع ہوئے اور کھڑکی کی جالی توڑ کر اندر داخل ہوئے اور زخمی خاتون کو باہر نکال کر ہاسپٹل منتقل کیا۔ مقامی افراد کی اطلاع پر ہی پولیس وہاں پہنچی۔ حسنین نے اس بہن کے گلے کا اوپری حصہ کاٹ دیا تھا جس کی وجہ سے وہ نہ صرف بچ گئی بلکہ مدد کے لئے چلا سکی ۔ پڑوس کے ایک گھر میں اس کے سسرالی رشتہ دار موجود تھے جنہوں نے خاتون کی چلانے کی آوازیں سن کر دروازہ کھولنے کی کوشش کی لیکن وہ اندر سے بند تھا۔ سسرالی رشتہ دار ایک کھڑکی کی جالی توڑ کر گھر میں داخل ہوئے ۔ پولیس جب وہاں پہنچی تو نچلی اور پہلی منزل پر خون میں لت پت چودہ نعشیں پڑی ہوئی تھیں اور گھر میں چاروں طرف خون بکھرا ہوا تھا۔ پولیس کے مطابق ملزم کا خاندان اس مکان میں تقریبا دس سال سے رہائش پذیر تھا۔ دھامبرے نے کہا کہ حسنین کا موبائل فون اور لیاپ ٹاپ ضبط کرلیا گیا ہے تاکہ قتل کا سراغ لگایاجاسکے ۔ انہوں نے کہا کہ بادی النظر میں ایسا لگتا ہے کہ ملزم نے مکان کے تمام دروازے اندر سے بند کرنے کے بعد یہ قتل اس وقت کئے جب کہ تمام افراد سوئے ہوئے تھے ۔ اجتماعی قتل کے پس پردہ جائیداد کا تنازعہ ہونے کا بھی شبہ ہے تاہم پولیس عہدیدار نے کہا کہ اس مرحلہ میں قتل کے محرک پر کوئی بات یقینی طور پر کہی نہیں جاسکتی۔ مقتولین کی شناخت جبین حسنین( اہلیہ) ایم حسنین(6سال)اور عمیرہ حسنین 3ماہ، (دونوں دختران) انور واریکر(والد) اصغری انور واریکر(ماں) روبینہ، بتول ، ماریہ(تینوں بہنیں) کی حیثیت سے کی گئی۔ مہلوکین میں تینوں بہنوں کے بچے انس 12سال، سعدیہ16سال، علی حسن5سال، عمر عرفان7سال ، یوسف عرفان4سال ، آسیہ5ماہ شامل ہیں۔ پولیس کے اعلیٰ عہدیدار بشمول تھانے پولیس کمشنر پرمبیر سنگھ نے جائے واقعہ کا دورہ کیا ۔ پولیس نے کہا کہ زندہ بچ جانے والی خاتون کا بیان حالت بہتر ہونے پر ریکارڈ کیاجائے گا۔ تھانے ضلع کے انچارج وزیر یکناتھ شنڈے بھی سیول ہاسپٹل کا دورہ کیا۔ مقتولین کے ایک رشتہ دار لیاقت دھولے نے کہا کہ یہ خاندان قابل احترام تھا اور ملزم کے والد ایک درگاہ کے متولی تھے۔ ان کی کافی جائیداد تھی جن میں ایک کمپنی بھی شامل ہے جو بعد میں فروخت کردی گئی ۔ حسنین کے قریبی دوست ضمیر پٹیل نے کہا کہ وہ اپنے دوست سے ایسی بھیانک حرکت کی توقع نہیں رکھتا۔ کہیں نہ کہیں کچھ دال میں کالا ہے ۔ اس نے ایسی حرکت کی یہ بات سمجھ میں نہیں آتی ۔ پولیس نے کہا کہ وہ حسنین کے پڑوسیوں کے اس دعویٰ کی تصدیق کرنے کی کوشش کررہے ہیں کہ اس نے چند سال پہلے بھی اپنے افراد خاندان کو زہر دے کر ہلاک کرنے کی کوشش کی تھی۔شہر میں پیش آئے اپنی نوعیت کے انتہائی المناک واقعہ کی فلبندی کرنے والا ایک نیوز چینل کا کیمرہ مین سیول ہاسپٹل میں اچانک گر پڑا اور قلب پر حملہ سے فوت ہوگیا۔ نیوز چینل کا کیمرہ مین رتن گومک سیول ہاسپٹل میں اس واقعہ کی فلمبندی کررہا تھاکہ اچانک گر پڑا۔ اسے ڈاکٹرس کے پاس لے جایا گیا جہاں ڈاکٹرس نے کہا کہ حرکت قلب بند ہونے سے اس کی موت واقع ہوچکی ہے۔

Thane man kills 14 of own family members in cold blood, hangs himself

0 comments:

Post a Comment