Search | تلاش
Archives
TaemeerNews Rate Card

Ads 468x60px

Our Sponsor: Socio Reforms Society India

تعمیر نیوز آرکائیو - TaemeerNews Archive

2016-02-06 - بوقت: 22:49

یکساں سول کوڈ پر سپریم کورٹ کی نوٹس کے خلاف جمعیۃ علما ہند کی عرضی

Comments : 0
ممبئی
یو این آئی
ملک میں یکساں سول کوڈ کو نافذ کئے جانے کے معاملے پر سپریم کورٹ نے آج یہاں اس کی مخالفت میں دائر کی گئی جمعیۃ علماء مہاراشٹرا کی ایک عرضداشت کو سماعت کے لئے قبول کرلیا ہے اور فریقین مرکزی حکومت اور دیگر کے نام نوٹس جاری کرکے چھے ہفتوں کے اندر جواب طلب کیا ہے ۔ قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ میں کسی مقدمہ کے دوران عرضداشت کی سماعت کے لئے منظور ی ہی مقدمہ کی کامیابی کی نشانی ہوتی ہے اور یہ اس کی پہلی سیڑھی ہوتی ہے ۔ جمعیۃ علماء کے قومی صدر مولانا ارشدمدنی کی ایماء پر جمعیۃ علماء مہاراشٹرا کے ریاستی صدر مولانا مستقیم احسن اعظمی نے سپریم کورٹ میں عرضداشت داخل کی تھی اور سپریم کورٹ کی جانب سے اس معاملے کی بذات خود جسے قانونی اصطلاح میں سوموٹو پٹیشن کہاجاتا ہے سماعت کئے جانے کی بطور مداخلت کار مخالفت کی تھی اور عدالت کو تبایا تھا کہ ملک میں مسلمانون کے ازدواجی اور دیگر مسائل شریعت کی روشنی میں مسلم پرسنل لاء کے تحت حل کئے جاتے ہیں اور یکساں سول کوڈ کے نفاذ سے شہریون کو حاصل مذہبی و بنیادی حقوق کی آزادی پر ضرب لگ جائے گی اور یہ مسلمانوں کے لئے قابل قبول نہیں ہے ۔ ممبئی میں اس عرضداشت کی تفصیلات بیان کرتے ہوئے جمعیۃ عانونی امداد کمیٹی کے جنرل سکریٹری گلزار احمد اعظمی نے کہا کہ سپریم کورٹ کے آن ریکارڈ سینئر ایڈوکیٹ حذیفہ احمدی اور ایڈوکیٹ اعجاز مقبول نے اس معاملے میں جمعیۃ کی پیروی کی اور اپنے موقف کا اظہار کرتے ہوئے عدالت کو بتایا کہ گزشتہ دنوں سپریم کورٹ نے بذات خود ایک عرضداشت کی سماعت شروع کرنے کا اعلان کیا تھا ، جس کے مطابق ملک میں مسلم خواتین کا شادی ، طلاق، نان و نفقہ اور دیگر ازدواجی معاملات کے مسائل کا حل مسلم پرسنل لاء کی روشنی میں کیاجانا تھا اور سپریم کورٹ کی جانب سے یہ اشارہ دئیے جانے کے متذکرہ قانون سے مسلم خواتین کے حقوق کی پامالی ہوتی ہے اور یہ آئین میں دئیے گئے اختیارات کے منافی ہے۔

SC can't question Muslim personal law: Jamiat

0 comments:

Post a Comment