Search | تلاش
Archives
TaemeerNews Rate Card

Ads 468x60px

Our Sponsor: Socio Reforms Society India

تعمیر نیوز آرکائیو - TaemeerNews Archive

2016-02-12 - بوقت: 23:16

لکھنو میں وکلاء کے پرتشدد احتجاج کی اسمبلی میں گونج

Comments : 0
لکھنو
پی ٹی آئی
یوپی اسمبلی میں آج وکلاء کی جانب سے کل شہر میں کئے گئے پر تشدد احتجاج کا مسئلہ اٹھایا گیا اور ریاستی حکومت نے اسے سنگین مسئلہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ سبھی کی جانب سے اس کی مذمت کی جانی چاہئے ۔ ایوان کی کارروائی کے آغاز کے ساتھ ہی قائد اپوزیشن سوامی پرسادموریہ کی جانب سے یہ مسئلہ اٹھائے جانے پر وزیر پارلیمانی امور اعظم خان نے اس کی مذمت کی ۔ انہوں نے کہا کہ وکلاء کی جانب سے قانون شکنی ایک سنگین مسئلہ ہے اور ان کے رویہ پر سماج کا سر شرم سے جھک جانا چاہئے ۔ اعظم خان نے اخبارات میں شائع ہونے والی احتجاج کی تصاویر دکھاتے ہوئے اپوزیشن سے کہاآپ بتائیں کہ ایسی صورت میں حکومت کیا کرسکتی ہے ۔ ہمارے عہدیداروں نے تحمل کے ساتھ کام کیا، لیکن وکلاء کے رویے کی سبھی کی جانب سے مذمت کی جانی چاہئے ۔ موریہ نے کہا کہ احتجاج کے دوران ریاستی دارالحکومت کی سڑکوں پر افراتفری پھیل گئی اور گھر واپس ہونے والے طلباء کو بدترین مصائب کا سامنا کرنا پڑا ۔ انہوں نے کہا کہ عام آدمی کی حفاظت و سلامتی کو یقینی بنانا ریاستی حکومت کی ذمہ داری تھی ۔ بی جے پی کے سریش کھنہ نے الزام عائد کیا کہ ریاستی حکومت نظم و ضبط کی صورتحال پر قابو پانے میں ناکام ہوچکی ہے ۔ جب کہ کانگریس رکن پردیپ ماتھر نے صورتحال بے قابو ہونے کی اجازت دینے پر پولیس کو موردالزام ٹھہرایا ۔ یہاں یہ تذکرہ بے جا نہ ہوگا کہ وکلاء ایک 40 سالہ ایڈوکیٹ شرون کمارورما کے مبینہ قتل کے مسئلہ پر احتجاج کررہے تھے۔ ان کی نعش ایک دن قبل گنیش گنج علاقہ میں ان کی قیامگاہ کے قریب ایک موری کے پاس پائی گئی تھی۔

Lawyers' violent protest should be condemned by all: Azam Khan

0 comments:

Post a Comment