Search | تلاش
Archives
TaemeerNews Rate Card

Ads 468x60px

Our Sponsor: Socio Reforms Society India

تعمیر نیوز آرکائیو - TaemeerNews Archive

2016-02-12 - بوقت: 23:33

ہیڈلی کے بیان سے عشرت کے انکاؤنٹر کو جائز نہیں ٹھہرایا جا سکتا - کانگریس

Comments : 0
نئی دہلی
یواین آئی
بی جے پی اور مرکزی این ڈی اے حکومت پر یہ الزام عائد کرتے ہوئے کہ وہ پاکستانی نژاد امریکی دہشت گرد ڈیوڈ ہیڈلی کے اس بیان کو کہ عشرت جہاں کا تعلق لشکر طیبہ سے تھا، 2004کے فرضی انکاؤنٹر کو جائز ٹھہرانے کے لئے استعمال کررہی ہے ، کانگریس نے آج کہا کہ قانون یا دستور میں اس کی اجازت نہیں ۔ اے آئی سی سی کے ترجمان نیش تیواری نے یہاں میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ اگر ڈیوڈ ہیڈلی نے کچھ بیانات دئیے ہیں تو ان کی تحقیقات کی جانی چاہئے ۔ اگر حکومت یہ پتہ چلانا چاہتی ہے کہ آیا عشرت جہاں کے روابط لشکر طیبہ کے ساتھ تھے تو وہ ایسا کرنے کے لئے آزاد ہے ۔ بہر حال بی جے پی اور این ڈی اے حکومت کو2004میں عشرت جہاں کے فرضی انکاؤنٹر کو منصفانہ ٹھہرانے کے لئے ہیڈلی کے بیانات کا استعمال نہیں کرنا چاہئے ۔ یہ بات نوٹ کیے جانے کے قابل ہے کہ ایک ٹرائیل عدالت نے یہ رولنگ دی تھی کہ عشرت جہاں کا انکاؤنٹر فرضی تھا ، بعد ازاں اس مسئلہ کو گجرات ہائی کورٹ سے رجوع کیا گیا ، جس نے اس کی تحقیقات سی بی آئی کے حوالے کردیں ۔ تحقیقات کے بعد سی بی آئی بھی اس نتیجہ پر پہنچی کہ یہ انکاؤنٹر فرضی تھا ۔ اگر این ڈی اے حکومت یا بی جے پی انکاؤنٹر کو جائز ٹھہرانے کے لئے ہیڈلی کے بیان کا استعمال کرنا چاہتے ہیں تو یہ ایک ایسی بات ہے جس کی قانون یا اس کے دائرہ میں کوئی اجازت نہیں ۔ قوم سے معافی مانگنے سونیا گاندھی اور راہول گاندھی سے بی جے پی کے مطالبہ کا جواب دیتے ہوئے تیواری نے کہا کہ اگر بی جے پی (عشرت جہاں) کے فرضی انکاؤنٹر میں ملوث افراد کا ساتھ دینا چاہتی ہے تو وہ عدالت کا دروازہ کھٹکھٹا سکتے ہیں ۔ ڈیوڈ ہیڈلی نے آج مسلسل تیسرے دن بھی ممبئی کی ایک خصوصی عدالت میں بیان دیتے ہوئے بتایا کہ عشرت جہاں جس کا2004میں گجرات پولیس نے انکاؤنٹر کیاتھا، دراصل لشکر طیبہ کے لئے کام کررہی تھی۔پاکستانی نژاد امریکی دہشت گرد ڈیوڈ ہیڈلی کے عشرت جہاں کے بارے میں انکشافات کو اپنے موقف کی توثیق قرار دیتے ہوئے بی جے پی نے آج سیاسی مفاد کے لئے قومی سلامتی کے خلاف مبینہ مفاد اختیار کرنے پر کانگریس کی سینئر قیادت سے معذرت خواہی کا مطالبہ کیا ۔ کانگریس کو نشانہ تنقید بناتے ہوئے جو عشرت جہاں کے انکاؤنٹر کے بارے میں سوالات اٹھارہی ہے ، پارٹی ترجمان سدھارتھ ناگھ سنگھ نے کہا کہ ہیڈلی نے چونکہ اب عشرت جہاں کے بارے میں سچائی بیان کی ہے، صدر کانگریس،سونیا گاندھی اور پارٹی کے نائب صدر راہول گاندھی کو نہ صرف وزیر اعظم بلکہ پوری قوم سے معافی مانگنی چاہئے ۔ مرکزی وزیر و شینئر بی جے پی قائد گری راج سنگھ نے چیف منسٹر بہار نتیش کمار کو نشانہ تنقید بنایا، جن کے پارٹی قائد علی انور انصاری نے عشرت جہاں کو قابل فخر بیٹی قرار دیا تھا۔ گری راج سنگھ نے کہا کہ سیاسی مفاد کے لئے ایک دہشت گرد کے ساتھ ہمدردی کرنے پر انہیں قوم سے معافی مانگنی چاہئے۔ واضح رہے کہ گجرات پولیس نے2004میں ایک انکاؤنٹر میں عشرت جہاں اور دیگر تین افراد کو ہلاک کردی اتھا ۔ یہ چاروں مبینہ طور پر اس وقت کے گجرات کے چیف منسٹر اور موجودہ وزیر اعظم نریندر مودی کو قتل کرنے کی سازش رچ رہے تھے ۔ بی جے پی صدر اور وقت کے گجرات کے ریاستی وزیرا میت شاہ ، عشرت جہاں کے انکاؤنٹر کے سلسلہ میں اپنے حریفوں کی تنقیدوں کا نشانہ بنتے رہے ہیں۔ سی بی آئی نے اپنی چارج شیٹ میں اسے ایک فرضی انکاؤنٹر قرار دیا ہے ۔ بہر حال امیت شاہ کو بعد ازاں اس کیس میں کلین چٹ دے دی گئی تھی ۔ عشرت جہاں انکاؤنٹر کیس کی گونج بہار اسمبلی انتخابات کے دوران بھی سنائی دی تھی ۔ جب بعض قائدین نے بی جے پی کو گھیرنے کے لئے عشرت جہاں انکاؤنٹر کیس کا مسئلہ اٹھایا تھا اور اسے ایک شہید اور بہار کی دختر قرار دیا تھا ۔ ہیڈلی نے جو فی الحال امریکہ کی ایک جیل میں قید ہے، گواہ معافی یافتہ کے طور پر نومبر2008کے دہشت گر دحملوں کے سلسلہ ویڈیو لنک کے ذریعے ایک ہندوستانی عدالت میں اپنا بیان قلمبند کروارہے ہیں ۔ اس نے دعویٰ کیا ہے کہ لشکر طیبہ کے ایک سرکردہ عہدیدار نے انہیں بتایا تھا کہ عشرت جہاں اس دہشت پسند تنظیم کی ایک خود کش(فدائین) بمبار تھی۔

Headley's claim cannot justify Ishrat Jahan's fake encounter: Congress

0 comments:

Post a Comment