Search | تلاش
Archives
TaemeerNews Rate Card

Ads 468x60px

Our Sponsor: Socio Reforms Society India

تعمیر نیوز آرکائیو - TaemeerNews Archive

2016-02-27 - بوقت: 23:52

معاشی سروے پارلیمنٹ میں پیش

Comments : 0
نئی دہلی
آئی اے این ایس
ہندوستان کے معاشی سروے میں آئندہ مالیاتی سال کے لئے شرح ترقی7-7.75فیصد برقرار رہنے کی بات کہی گئی ہے اور خبر دار کیا گیا ہے کہ آنے والے بجٹ کو غیر معمولی چیلنج سے پر صورتحال کا سامنا ہوگا ۔ وزیر فینانس ارون جیٹلی کے ہاتھوں جمعہ کو پارلیمنٹ میں پیش اکنامک سروے میں ملک میں جی ایس ٹی لاگو نہ ہونے پر تشویش ظاہر کی گئی۔ سرمایہ نکاسی کا پروگرام بھی نشانہ پر نہیں پہنچ سکا ۔ اس کے علاوہ سروے مین کہا گیا کہ سرکاری بنکوں کی بیلنس شیٹس بڑے دباؤ میں ہیں۔ چیف اکنامک اڈوائزراروند سبرامنیم کے مرتبہ سروے میں کہا گیا ہے کہ دنیا میں غیر یقینی معاشی ماحول پایاجاتا ہے ۔ بڑا جوکھم لاحق ہے۔ ہندوستانی معیشت کو عالمی صورتحال سے نمٹنے کے لئے استحکام بخشنا ضروری ہوگا ۔ ایک اور ضرورت یہ ہوگی کہ توقعات کا از سر نو تعین ہو۔ سروے میں خبر دار کیا گیا کہ دنیا اگر معاشی بحران میں گھری تو ہندوستان کی شرح ترقی بھی شدید متاثر ہوگی ۔ سروے میں2016-17کے دوران چلر مہنگائی چھٹ کر 4.5-5فیصد رہنے کی بات کہی گئی ۔ مالیاتی خسارہ کے تعلق سے کہا گیا کہہ مجموعی قومی پیداوار کا3.9فیصد کا نشانہ جیٹلی کے لئے قابل حصول رہا لیکن آئندہ سال کے لئے یہ چیلنج سے کم نہیں ہوگا۔ ٹیکس کی وصولی بڑھانی ہوگی۔ نئے معاشی ذرائع تلاش کرنے ہوں گے ۔اخراجات گھٹانے ہوں گے اور سبسڈیز کا از سر نو تعین کرنا ہوگا۔ معاشی سروے نے کہا کہ انکم ٹیکس کا دائرہ کماؤ افراد کے5.5فیصد سے بڑھا کر20فیصد کردیا جائے ۔ سروے میں کہا گیا کہ پالیسی سازی کے معاملہ میں بہت کچھ کیاجانا باقی ہے تاکہ سرکاری عہدیدار، بنا خو ف و خطر فیصلے لے سکیں۔ فی الحال قانونی جھمیلے خطرناک ہیں اور انسداد رشوت ستانی قوانین بد عنوانیوں کے بجائے یانتداروں کو خوفزدہ کرنے والے ہیں ۔ یہ عام تاثر ہے کہ حالیہ عرصہ میں سرکاری عہدیدار جلد فیصلے لینے میں پس و پیش کررہے ہیں جس کا معیشت پر اثر پڑ رہا ہے ۔ سماجی پہلوؤں پر سروے میں کہا گیا کہ ہندوستان میں آج بھی ایسے لوگوں کی بہت بڑی تعداد ہے جنہیں پیٹ بھر کھانا نہیں ملتا۔42فیصد سے زائد حاملہ خواتین کا وزن کم پایاجاتا ہے ۔

Economic Survey tabled in Parliament

0 comments:

Post a Comment