Search | تلاش
Archives
TaemeerNews Rate Card

Ads 468x60px

Our Sponsor: Socio Reforms Society India

تعمیر نیوز آرکائیو - TaemeerNews Archive

2016-02-02 - بوقت: 23:40

ہاشم پورہ قتل عام مقدمہ - متعلقہ پولیس افسران اور اہلکاروں کا ڈیوٹی ریکارڈ غائب

Comments : 0
میرٹھ
ایجنسیاں
ایک سمت ہاشم پورہ قتل عام کیس میں انصاف کے لئے متاثرین اور ان کے اہل خانہ عدالتی لڑائی لڑ رہے ہیں ، تووہیں دوسری جانب لاپروا ضلع اور پولیس انتظامیہ اس کیس کے اہم دستاویز کو ہی غائب کررہی ہے ۔ ریاستی حکومت اور سی بی سی آئی ڈی نے1987ء میں ہاشم پورہ قتل عام کے وقت تعینات پولیس افسران اور ڈیوٹی پولیس اہلکاروں سے متعلق ریکارڈ طلب کئے تھے لیکن ذرائع کے مطابق پولیس کی جانب سے بھیجے گئے جواب کے مطابق وہ ریکارڈ2006میں ہی ضائع کردیے گئے ۔ اس خبر کے اجاگر ہونے کے بعد جہاں متاثرین تشویش کا اظہار کررہے ہیں وہیں قانونی ماہرین پولیس کے اس عمل کو غیر ذمہ دارانہ رویہ قرار دیتے ہوئے متعلقہ پولیس افسران کو ثبوت ختم کرنے کا ملزم قرار دے رہے ہیں ۔ خیال رہے کہ ہاشم پورہ قتل عام کیس میں تیس ہزاری کورٹ کے فیصلے کے خلاف متاثرین کے علاوہ حکومت اتر پردیش کی جانب سے بھی اپیل داخل کی گئی ہے، جس کی سماعت دہلی ہائی کورٹ میں جاری ہے ۔ اسی کے پیش نظر ریاستی حکومت اور سی آئی ڈی نے ضلع انتظامیہ سے کیس سے متعلق اہم دستاویز نے طلب کئے تھے، لیکن میرٹھ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ یہ تمام دستاویز2006میں ہی ضائع کردئے گئے ہیں۔ انتظامیہ نے روٹین دفتری عمل کا حوالہ دیا ہے۔ اس خبر کے اجاگر ہونے کے بعد جہاں ہاشم پورہ قتل عام کے متاثرین اور ان کے اہل خانہ تشویش کا اظہار کررہے ہیں ۔ وہیں ماہرین قانون کا کہنا ہے کہ مقدمہ اور عدالتی کارروائی کے دوران کیس سے متعلق ہر ایک دستاویز یا ریکارڈ کی اہمیت ہوتی ہے ، اور اسکو ختم نہیں کیا جاسکتا ۔ ریکارڈ کو تباہ کرنے سے یہ کیس کو کمزور بھی ہوسکتا ہے ۔ روٹین عمل کا حوالہ دیکر اس عمل کو انجام دینے والوں کے خلاف جانچ اور کارروائی ہونی چاہئے ۔

1987 Hashimpura massacre: U.P. police destroyed papers on massacre

0 comments:

Post a Comment