Search | تلاش
Archives
TaemeerNews Rate Card

Ads 468x60px

Our Sponsor: Socio Reforms Society India

تعمیر نیوز آرکائیو - TaemeerNews Archive

2016-01-29 - بوقت: 23:35

سولار پینل اسکام - چانڈی کے خلاف ایف آئی آر درج کی جائے

Comments : 0
تھریسور، کیرالا
آئی اے این ایس
ایک عدالت نے آج یہاں کیرالا کے ویجلنس ڈپارٹمنٹ کو ہدایت دی کہ وہ سولار پینل اسکام کے سلسلہ میں چیف منسٹر اومن چانڈی کے خلاف ایف آئی آر درج کرے جس کے بعد چانڈی نے کہا کہ انہوں نے کوئی غلطی نہیں کی ہے ۔ تھریسور کی ویجلنس عدالت نے وزیر بریق آریہ دان محمد کے خلاف بھی ایف آئی آر درج کرنے کی ہدایت دی ۔ ایک کارکن پی ڈی جوزف کی دائر کردہ درخواست پر یہ ہدایت جاری کی گئی۔ اس اسکام کی اصل ملزمہ سریتا نائر نے معاملہ کی تحقیقات کررہے عدالتی کمیشن کو بتایا کہ انہوں نے دو قسطوں میں1۔90کروڑ روپے کی رشوت دی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ چانڈی نے اس وقت اپنے عملہ کے ایک رکن جیکو مون کے توسط سے7کروڑ روپے رشوت کا مطالبہ کیا تھا اور یہ رقم اسی کا ایک حصہ تھی ۔ نائر نے یہ بھی کہا کہ انہوں نے محمد کو40لاکھ روپے ادا کیے ہیں ۔ عدالت کی ہدایت پر چانڈی نے ملا پورم میں نامہ نگاروں کو بتایا کہ ان کا ضمیر صاف ہے ۔ انہوں نے کہا کہ میں نے کوئی غلطی نہیں کی ہے ، میں تحقیقات کا سامنا اور ان میں تعاون کروں گا۔ اس سوال پر کہ آیا وہ استعفیٰ دیں گے ؟ انہوں نے جوابی سوال کیا “کس لئے؟” چانڈی کے وزارتی رفیق محمد نے بھی چیف منسٹر کے موقف کا اعادہ کیا اور کہا کہ ہم نے کوئی غلطی نہیں کی ہے ۔ میں تحقیقات کا سامنا کروں گا اور ان میں تعاون کروں گا ۔ چانڈی کے قریبی ذرائع نے بتایا کہ وہ قانونی جواب کی تیاری کے لئے اپنے وکلاء سے مشاورت کررہے ہیں ۔ کیرالا کے سینئر کانگریس قائد اے کے انٹونی، پارٹی صدر سونیا گاندھی اور کیرالا میں پارٹی امور کے انچارج مکل واسنک نے ملاقات کی ہے اور اس مسئلہ پرتبادلہ خیال کیا ہے۔ صدر کانگریس وی این سدھیرن نے ہائی کمان سے بات چیت کی ہے اور ریاستی وزیر داخلہ رمیش چنی تھیلا نے آج کے لئے اپنے تمام پروگرام منسوخ کردیے ہیں ۔ اسی دوران اپوزیشن سی پی آئی ایم کے ریاستی سکریٹری کے بالکرشنن نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ چانڈی کو فوری استعفیٰ دینا ہوگا۔ بالا کرشنن نے کہا کہ عدالت نے ایف آئی آر کے ذریعہ اپنے عزائم واضح کردیے ہیں اور اب چانڈی کے سامنے ایک ہی راستہ ہے کہ وہ آگے آئیں اور جلد از جلد مستعفیٰ ہوجائیں۔

--

0 comments:

Post a Comment